• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سعودی عرب اور صومالیہ کے درمیان فوجی تعاون کا معاہدہ طے پا گیا

---تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا
---تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

صومالیہ اور سعودی عرب کے درمیان فوجی تعاون سے متعلق ایک اہم مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے ہیں، یہ معاہدہ صومالی وزیرِ دفاع احمد معلم فقی اور سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کے درمیان ریاض میں طے پایا۔

عرب میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور فوجی تعاون کو مضبوط بنانا اور مشترکہ مفادات کے مختلف شعبوں میں شراکت داری کو فروغ دینا ہے تاہم معاہدے کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صومالیہ نے گزشتہ ماہ قطر کے ساتھ بھی ایک دفاعی تعاون کا معاہدہ کیا تھا جس میں فوجی تربیت، تجربات کے تبادلے اور دفاعی صلاحیتوں میں بہتری شامل ہے۔

صومالیہ کی یہ سفارتی کوششیں اسرائیل کی جانب سے دسمبر میں صومالیہ کے علیحدگی پسند خطے ’صومالی لینڈ‘ کو تسلیم کیے جانے کے بعد تیز کی گئی ہیں، صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اسرائیل صومالی لینڈ میں فوجی اڈہ قائم کر سکتا ہے جس کی صومالی حکومت نے سخت مخالفت کی ہے۔

عرب میڈیا ’الجزیرہ‘ کے مطابق صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود نے واضح کیا ہے کہ صومالیہ کسی بھی صورت اسرائیلی فوجی اڈے کی اجازت نہیں دے گا اور ایسی کسی بھی کوشش کا مقابلہ کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ صومالیہ نے گزشتہ ماہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ تمام معاہدے یہ الزام عائد کرتے ہوئے منسوخ کر دیے تھے کہ امارات کے اقدامات صومالیہ کی قومی خودمختاری کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، یمن اور سوڈان سے جڑے تنازعات بھی شدت اختیار کر چکے ہیں جس سے خلیجی خطے میں سیاسی و عسکری صورتِ حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید