• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مسلمان مرد شرعی طور پر اہلِ کتاب خواتین کے ساتھ نکاح کر سکتے ہیں: وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

وفاقی آئینی عدالت نے 18 سال سے کم عمر مسیحی لڑکیوں کی مسلمان لڑکوں سے شادی پر فیصلہ جاری کر دیا۔

آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ مسلمان مرد شرعی طور پر اہلِ کتاب خواتین کے ساتھ نکاح کر سکتے ہیں، چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت کم عمری کی شادی پر سزا ہو سکتی ہے، نکاح ختم نہیں ہو سکتا۔

عدالت نے کہا کہ کم عمری کی شادی پر قانون میں صرف فوجداری سزا کا تذکرہ ہے، لڑکی نے نکاح سے پہلے اسلام قبول کیا جس کا ڈیکلریشن بھی موجود ہے، حبسِ بے جا کی درخواست میں لڑکی کی عمر، دارالافتاء کی دستاویز کی درستگی کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئینی تشریح کے لیے حتمی فورم سپریم کورٹ نہیں بلکہ وفاقی آئینی عدالت ہی ہے، سپریم کورٹ سمیت تمام عدالتیں آئینی عدالت کا حکم ماننے کی پابند ہیں، آئینی عدالت سپریم کورٹ کے وضع کردہ اصولوں پر عمل درآمد کی پابند نہیں، سپریم کورٹ کے جو فیصلے آئین یا قانون سے متصادم ہوں آئینی عدالت وہ نظیریں ماننے کی پابند نہیں۔

عدالت نے کہا کہ لڑکی کے والد نےایف آئی آر میں بیٹی کی عمر 13 سے 14 سال اور دلائل میں 12 سال 9 ماہ بتائی، والد کے بیانات میں تضاد ہے، جن دستاویزات پر انخصار کیا گیا وہ شک سے بالاتر نہیں، لڑکی نے مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہو کر بیان دیا اس نے اپنی مرضی سے بغیر کسی دباؤ نکاح کیا۔

واضح رہے کہ لاہور کی رہائشی ماریہ بی بی نے اسلام قبول کر کے شہریار نامی لڑکے سے شادی کی تھی۔

قومی خبریں سے مزید