سابق بھارتی لیگ اسپنر لکشمن شیوارام کرشنن نے اپنی ذاتی زندگی کے مشکل ترین دور سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا ہے کہ کم عمری میں شراب اور منشیات کے الزامات نے ناصرف میرا کیریئر متاثر کیا بلکہ اس سے ذاتی زندگی بھی شدید متاثر ہوئی، یہاں تک کہ کوئی خاندان اپنی بیٹی کی شادی مجھ سے کرنے پر آمادہ نہیں تھا۔
لکشمن شیوارام کرشنن نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ میں صرف 17 سال کی عمر میں بھارتی ٹیم کا حصہ بنا، مگر 19 برس کی عمر تک مجھے ’شراب نوشی‘ اور ’منشیات کا استعمال کرنے والا شخص‘ قرار دے دیا گیا۔
ان کے مطابق یہ الزامات بے بنیاد تھے اور میں نے کبھی منشیات استعمال نہیں کی تھی۔
شیوارام کرشنن نے بتایا کہ میرے والدین نے میری شادی کے لیے اخبار میں اشتہار دیا تھا جس میں مجھے ٹیسٹ کرکٹر اور فلیٹ کا مالک ظاہر کیا گیا تھا مگر دو ہفتوں بعد جب پوسٹ باکس کھولا گیا تو ایک بھی رشتہ موصول نہیں ہوا، میری ساکھ اس قدر خراب کر دی گئی تھی کہ کوئی اپنی بیٹی کی شادی مجھ سے نہیں کروانا چاہتا تھا۔
لکشمن شیوارام کرشنن نے انٹرویو کے دوران مزید انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ 1987ء ورلڈ کپ کے بعد سلیکٹرز نے مجھ سے کہا کہ وہ میڈیا کو اپنی ٹیم سے باہر ہونے کی وجہ فٹنس مسائل بتائیں مگر میں نے جھوٹ بولنے سے انکار کر دیا، اس کے بعد مجھے ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا۔
لکشمن شیوارام کرشنن کے مطابق کرکٹ سے علیحدگی کے بعد میں کمنٹری سے وابستہ رہا تاہم کورونا لاک ڈاؤن کے دوران میری ذہنی صحت شدید متاثر ہوئی۔
اُنہوں نے بتایا کہ میں شدید ڈپریشن کا شکار ہو گیا تھا اور نیند کے لیے شراب پینا شروع کر دی تھی۔
سابق بھارتی کرکٹر نے اعتراف کیا کہ بعض اوقات مجھے خودکشی جیسے خیالات بھی آتے تھے اور ذہنی دباؤ اس قدر بڑھ گیا تھا کہ مجھے خوفناک مناظر دکھائی دیتے تھے اور نیند غائب ہو جاتی تھی۔
لکشمن شیوارام کرشنن نے یہ بھی کہا کہ معاشرے کی جانب سے مسلسل تنقید اور الزامات نے اِن کی ذہنی حالت کو مزید خراب کر دیا تھا۔