• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یوسفی صاحب نے آبِ گُم میں لکھا ہے: ”لاہور میں آج بسنت ہے۔ آیا بسنت پالا اُڑنت۔ جاتی رُت نے عجب سماں باندھا ہے۔ بسنتی لباس اور رخساروں پر اُترتے جاڑے کی سرخی غضب ڈھا رہی ہے۔ کھیتوں میں چار سُو سرسوں پھولی ہے۔ گلاب اور دیر سے کھلنے والے گل داؤدی کی اپنی الگ بہار ہے۔ سرسوں، پتنگ، تتلی، پیرہن، پھول، رخسار...ایک گلستاں نظر آتا ہے گلستاں کے قریب۔“ایک سادہ اور دلیرانہ فیصلے نے پوری فضا ہی بدل دی۔ دو دہائیوں بعد بسنت آئی اور ایسے منائی گئی کہ ’لیٹیں نکل گئیں‘۔ بسنت کی ’ریلز‘ نے لاہور کی ایسی منظر کشی کی کہ لوگ دیوانہ وار کھنچے چلے آئے۔ شہر میں کوئی ہوٹل، گیسٹ ہاؤس یا سرکاری مہمان خانہ دستیاب نہیں تھا، سب کچھ بسنت کیلئےمختص تھا، اور جو اِکا دُکا کمرے کہیں مل رہے تھے اُن کی منہ مانگی قیمت مانگی جا رہی تھی۔ پتنگ اور ڈور کا بھی یہی حال تھا، جو پِنّا پندرہ سو کا تھا وہ بسنت والے دن ہزاروں روپوں میں ’بلیک‘ میں مل رہا تھا اور ڈیڑھ تاوا بارہ سو میں۔ شہر کی کوئی چھت ایسی نہیں تھی جہاں سے گُڈّی نہ اڑائی گئی ہو۔ تین دن تک پورا شہر موسیقی پر تھرکتا رہا، سب نے مل کر اُس غلط فہمی کے چیتھڑے اڑا دیے کہ پاکستانی قوم مذہبی طور پر انتہا پسند یا تنگ نظر ہے۔ میں ہمیشہ سے یہ بات کہتا آیا ہوں کہ مٹھی بھر شدت پسند گروہوں نے ہمارا اجتماعی تاثر برباد کر رکھا ہے وگرنہ ہم نارمل اور خوش مزاج لوگ ہیں، مذہب سے بھی محبت کرتے ہیں اور اپنی ثقافت کے بھی دلدادہ ہیں، ابھی بسنت منائی ہے، اَب رمضان کے روزے رکھیں گے اور اگلے ماہ عید بھی منائیں گے۔ بسنت ہی کے دنوں میں لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس ہوئی اور لاہور لٹریری فیسٹیول بھی۔ مسجد، مندر، مہ خانہ، جس نے جہاں جانا تھا وہ وہاں گیا۔میں نے لگ بھگ بیس برس بعد گُڈّی ڈور کو ہاتھ لگایا تو پتا چلا کہ سب کچھ بھول بھال چکا ہوں حالانکہ کسی زمانے میں (اور یہ کوئی قبل از مسیح کی بات نہیں) تناویں ڈالنے میں اتنا ماہر تھا کہ ہوا کا زور دیکھ کر تناویں ٹھیک کر لیا کرتا تھا کہ پچھلی تناویں بڑی کرنی ہیں یا چھوٹی۔ اگر گُڈّا کَنّی کھا رہا ہو تو کیسے ڈور کا گچھا باندھ کر اُس کو سُدھ کرنا ہے۔ تَندی کب استعمال کرنی ہے۔ کٹی ہوئی گڈیوں کو کیسے ’چموڑنا‘ ہے، ہاتھ کیسے مارنا ہے۔ آٹھ نمبر اور دو نمبر ڈور میں کیا فرق ہے۔ گِٹھ کیسے کرنی ہے۔ جَھپ کیسے نکالنا ہے۔ چیپی لگا کر آپریشن کیسے کرنا ہے۔ پِنّا کیسے پکڑنا ہے، چرخی کو کیسے قابو کرنا ہے۔ مَچّھر، پتنگ، کُپ، تاوے، ڈیڑھ تاوے، شَرلے، پری اور لکھنؤ کَٹ میں کیا فرق ہے! سنا ہے بسنت پر جین زی چیٹ جی پی ٹی کو لُقمے دے کر (یعنی Prompt دے کر) پوچھتی رہی ہے کہ ہاؤ ٹو فلائی اے کائٹ! بسنت کے دوسرے دن ہوا چونکہ کافی تیز تھی اِس لیے گُڈّا اڑانے میں کوئی دِقّت نہیں ہوئی، یہ اور بات ہے کہ تیز ہوا اور موٹی ڈور نے ہماری انگلیاں یوں زخمی کر دیں جیسے کسی نے چھری سے چیرنے کی کوشش کی ہو۔ گلبرگ جیسے پوش علاقوں میں بسنت سے زیادہ فیشن شو منایا گیا، کمپنیوں نے چھتیں کرائے پر لے کر کارپوریٹ بسنت منائی جہاں موسیقی اور کھانے پینے کا اہتمام زیادہ اور ڈور اور پتنگوں کا کم تھا۔ البتہ اندرون شہر میں آسمان پتنگوں سے ڈھکا رہا، وہ لوگ جن کیلئے لاہور صرف ڈی ایچ اے تھا انہیں پہلی مرتبہ پتا چلا کہ اصل لاہور کہاں بستا ہے۔ لاہور میں بسنت نے اپنا عروج نوّے کی دہائی میں دیکھا، اُن دنوں بسنت کی تاریخ کا اعلان بھی سینہ گزٹ میں ہی ہوتا تھا۔ ہم اسکول میں پڑھتے تھے اور ایک دوسرے سے زبانی پوچھ کر ہی اندازہ لگا لیا کرتے تھے کہ فروری کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں بسنت ہوگی۔ بسنت پالا اُڑَنت کہتے تھے۔ یہ گویا اعلان تھا سردیوں کے جانے کا۔ پھر اخبارات میں آل پاکستان کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کی جانب سے اعلان شائع ہونا شروع ہوا کہ فلاں تاریخ کو بسنت ہو گی۔ جس روز لاہور میں بسنت ہوتی تھی اُس سے ایک رات پہلے ہم لوہاری دروازے جا کر گُڈیوں اور ڈوروں کی شاپنگ کرتے تھے، اسے چاند رات کہا جاتا تھا۔ لاہور کی بسنت کے بعد اگلے ہفتے گوجرانوالہ، شیخوپورہ اور قصور میں بسنت ہوتی تھی، جبکہ اُس ہفتے لاہور میں مِنی بسنت ہوتی تھی، یہ روایت تھی۔ یہاں تک سب ٹھیک تھا۔ گڑبڑ تب ہوئی جب نائٹ بسنت اور ہوائی فائرنگ کا رواج شروع ہوا۔ نائٹ بسنت دھیرے دھیرے اصل بسنت پر غالب آ گئی اور یوں یہ ثقافتی تہوار کمپنیوں کے ہتھے چڑھ گیا، بسنت پر لوگوں نےپیچ لڑانے کی بجائے، مُجرے کروانے شروع کر دیے۔ لیکن اصل بربادی تب ہوئی جب لوگوں نے کیمیکل لگی ڈور استعمال کرنی شروع کی، عام شہری اُس ڈور کی زد میں آنے لگے، اُن کی گردنیں کٹنے لگیں اور یوں بالآخر اِس موسمی تہوار پر پابندی لگانی پڑی۔ اِس مرتبہ بسنت کے اِن تینوں دنوں میں کوئی فائرنگ نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی نے وہ منحوس آواز والا باجا بجایا جو سارے ماحول کا ستیاناس کر دیا کرتا تھا۔ ایک شخص کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ملی مگر وہ شخص کسی ڈور کی زد میں نہیں آیا بلکہ پتنگ لوٹنے کی کوشش میں کھمبے پر چڑھا اور کرنٹ لگنے سے مر گیا۔ ایک ایک انسانی جان قیمتی ہے مگر خودکشی کا بہرحال کوئی علاج نہیں۔ اب خوگرِ حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سُن لے۔ ہوائی فائرنگ پر پابندی سے لے کر گُڈّے گُڈیوں پر کیوآر کوڈ لگانے تک اور موٹرسائیکلوں پر حفاظتی راڈ لگانے سے لے کر منحوس باجے کی ممانعت تک، حکومتی اقدامات کے دس میں سے دس نمبر ہیں، تاہم کیمیکل ڈور کھلے عام استعمال ہوتی رہی اور نہ صرف کیمیکل ڈور بلکہ جو ’نارمل‘ ڈور میں نے استعمال کی وہ بھی خاصی تیز تھی، ہمارے وقت میں ڈور ایسی نہیں ہوتی تھی کہ بغیر دستانے چڑھائے پتنگ ہی نہ اڑائی جا سکے۔ ایسی ڈور بنانے والوں کو پکڑنا بہت ضروری کیونکہ یہ بہت خطرناک رجحان ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمیں اُسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے جسکی وجہ سے اِس تہوار کو بند کرنا پڑا تھا۔ دوسری چیز میں نے یہ نوٹ کی کہ گلی، محلوں اور تھڑوں پر گُڈیاں ڈوریں فروخت نہیں ہو رہی تھیں جسکی وجہ سے یہ بہت مہنگی ہو کر عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو گئیں۔ مجھے یہ منطق سمجھ نہیں آ سکی کہ پتنگوں پر کیوآر کوڈ لگانے سے ہم نے کیا حاصل کیا، کیونکہ اگر بسنت کا سامان گلی محلوں میں فروخت نہیں ہوگا تو عام بندہ کہاں سے یہ چیزیں خریدے گا۔ اب ہر شخص لوہاری دروازے جا کر تو یہ سامان خریدنے سے رہا، اور بسنت کے دنوں میں تو وہاں بھی کچھ دستیاب نہیں تھا۔ حسنِ ظن رکھنا چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ اگلی بسنت پر یہ خرابیاں بھی دور کر لی جائیں گی۔ فی الحال تو لاہوریوں کا یہ حال ہے کہ جیسے پاکستان کے باقی شہریوں کو کہہ رہے ہوں:”ہور کوئی ساڈے لائق خدمت!“

تازہ ترین