• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک نہایت نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ داخلی سلامتی کے محاذ پر بڑھتے ہوئے چیلنجز، دہشت گردی کے مسلسل واقعات اور ریاستی رِٹ کو درپیش خطرات اس امر کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ محض وقتی اقدامات، بیانیے یا ردِعمل پر مبنی کارروائیاں اب کافی نہیں رہیں۔ گزشتہ دو برس میں دہشت گردی کے واقعات میں جس تیزی سے اضافہ ہوا ہے، اس نے نہ صرف عوامی اعتماد کو مجروح کیا ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے امیج پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ مئی میں پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستان کو سفارتی، اخلاقی اور بیانیاتی سطح پر جو برتری حاصل ہوئی تھی،اسےقائم رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس تناظر میں ایک بنیادی سوال ابھر کر سامنے آتا ہے’ کیا ہم مسئلے کی جڑ کو پہچاننے اور اسے درست کرنےپر تیار ہیں؟‘

اگر پاکستان کو واقعی محفوظ، مستحکم اور باوقار بنانا ہے تو سب سے پہلے پولیس کو نئے سرے سے منظم کرنا ہوگا۔ایک ایسی پولیس جو جدید خطوط پر استوار ہواورصوبائی سطح پر نہیں بلکہ وفاقی سطح پر ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت کام کرے۔دنیا بھر میں داخلی سلامتی کی ذمہ داری بنیادی طور پر پولیس کے کاندھوں پر ہوتی ہے۔ فوج کی ذمہ داری بیرونی خطرات اور غیر معمولی داخلی حالات میں معاونت تک محدود سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان میں اس اصول کے برعکس، داخلی سلامتی کا بڑا بوجھ بھی اکثر وبیشتر فوج پرڈال دیا جاتا ہے، جس کا براہِ راست مطلب یہ ہے کہ پولیس اپنے اصل کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔جسکی قیمت ریاست، معیشت اور عوام سب نے ادا کی ہے۔پاکستانی فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیت، تنظیمی نظم، عوامی اعتماد اور عالمی ساکھ اپنی جگہ ایک حقیقت ہے۔ لیکن اسی کے متوازی پولیس کا حال یہ ہے کہ نہ تو اس کے پاس جدید وسائل ہیں، نہ مربوط کمانڈ، نہ پیشہ ورانہ تربیت اور نہ ہی وہ عزت و اعتماد جو کسی بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔ عالمی سطح پر پاکستان پولیس کا تاثر کرپشن، نااہلی اور سیاسی اثر و رسوخ کے زیرِ سایہ ایک کمزور ادارے کا ہے۔پاکستان میں پولیس کا صوبائی ڈھانچہ بظاہر وفاقیت کے اصول سے ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے، مگر عملی طور پر یہی تقسیم داخلی سلامتی کی سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ ہر صوبہ اپنی پولیس رکھتا ہے، اپنے قوانین، اپنی ترجیحات، اور اپنی سیاسی مجبوریاں۔ نتیجتاً بین الصوبائی تعاون کمزور، معلومات کا تبادلہ محدود، اور مشترکہ آپریشنز شاذ و نادر ہی مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔دہشت گردی ایک صوبے تک محدود نہیں بلکہ وفاق سمیت پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ ایسے خطرے کا مقابلہ صوبوں میں تقسیم ،غیر مربوط اور باہم شکوک و شبہات میں گھری پولیس فورس سے ممکن نہیں ۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ دہشت گرد گروہ اکثر پولیس سے زیادہ چست، چاق و چوبند ، زیادہ منظم اور بہتر اسلحے سے لیس ہوتے ہیں۔ جب پولیس اہلکار بنیادی جسمانی تقاضے پورے کرنے سے قاصر ہوں، تو ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ جدید، تربیت یافتہ اور بے رحم دہشت گردوں کا مقابلہ کر سکیں گے، حقیقت پسندانہ امرنہیں۔پاکستان پولیس کے اسی فیصد سے زاہد اہلکار اپنی توند کے باعث پاک فوج کے جوانوں کے بالکل برعکس ان فٹ نظر آتے ہیں۔کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹس (CTDs) اور دیگر ادارے اگر واقعی مؤثر ہوں تو دہشت گردی کے واقعات سے پہلے ہی نیٹ ورکس کو توڑنا، سہولت کاروں کو گرفتار کرنا اور منصوبوں کو ناکام بنانا ممکن ہے۔ پیشگی کارروائی ہی جدید دنیا میں انسدادِ دہشت گردی کا اصل معیار ہے، نہ کہ بعد ازاں خانہ پری۔یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ خطے کی سیاست اور بیرونی عوامل پاکستان کی داخلی سلامتی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ بھارت کے ساتھ کشیدگی، افغانستان کی صورتحال، اور سرحدی نظم و نسق، یہ سب عناصر مل کر ایک پیچیدہ سکیورٹی ماحول تشکیل دیتے ہیں۔ تاہم بیرونی ہاتھ کا حوالہ دینا اس وقت تک کارگر نہیں ہو سکتا جب تک داخلی ادارے مضبوط نہ ہوں۔اگر سرحدیں بند ہیں، تجارت معطل ہے اور نقل و حرکت محدود ہے تو دہشت گردوں کی آمد و رفت پر سوال اُٹھنا فطری ہے۔ یہ سوال براہِ راست پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت پر اٹھتا ہے۔ترکیہ کی حالیہ تاریخ اس حوالے سے ایک روشن مثال پیش کرتی ہے۔ ایک ایسا ملک جو دہائیوں تک دہشت گردی کی لپیٹ میں رہا، جہاں پولیس کو کسی دور میں کرپٹ اور بے بس سمجھا جاتا تھا، وہاں سیاسی عزم، ادارہ جاتی اصلاحات اور مرکزی کنٹرول کے ذریعے پولیس کو نہ صرف جدید بنایا گیا بلکہ اسے داخلی سلامتی کی ریڑھ کی ہڈی بنا دیا گیا۔ترک پولیس مرکزی حکومت کے تحت کام کرتی ہے، جدید اسلحے، ٹیکنالوجی اور ڈرونزسے لیس ہے،اور انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں اسکی پہچان ہیں۔ یہی پولیس تھی جس نے جمہوری نظام کے خلاف ہونے والی بغاوت کی کوشش کو ناکام بنایا اور دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔

پاکستان میں اب ایک جامع، آئینی اور ادارہ جاتی تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔ سب سے پہلے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک مضبوط، جدید اور خودمختار فیڈرل پولیس فورس قائم کی جائے جو پورے ملک کیلئے معیار مقرر کرے۔ اس کے بعد مرحلہ وار آئینی ترامیم کے ذریعے پولیس کو وفاقی دائرۂ کار میں لاتے ہوئے ایک چھت تلے جدید خطوط پر استوار کیا جائے ۔صدرِ مملکت کی جانب سے حالات کو نائن الیون کے بعد کے دور سے زیادہ خطرناک قرار دینا محض ایک بیان نہیں بلکہ ایک انتباہ ہے۔ پاکستان کو بچانا ہے تو پولیس کو فوج کی مانند چاق و چوبند ، جدید خطوط پر استوار کرنا اور اسے وفاق کے تحت چلا نا ہوگا۔

تازہ ترین