تاریخ میں رومان بھی ہے،مبالغہ بھی،پھر ایسے مورخ بھی ہیں جو معقول اجرت پر مقدس شجروں تک میں ترامیم کر دیتے ہیں چاہے ڈیڑھ سو سال پہلے کی بات ہو پھر بھی جب تک آپ کے سامنے پرانے نقشے نہ ہوں تو آپ کی سمجھ میں نہیں آ سکتا کہ مظفر گڑھ کونخلستان کیوں کہتے تھے ؟ ملتان کے ہیرو نواب مظفر خان کا بہاولپور کے نواب سے جھگڑا کیا تھا؟اس لئے ہر علاقے کے محکمہ تعلیم کی منظورشدہ نصابی تاریخ سے اور زیادہ مغالطے پیدا ہو سکتے ہیں پھر کہاں سے آئیں گے خورشید کمال عزیز اورمبارک علی اور کتنے جو تاریخ کے قتل پر نوحے کرنے کی بجائے تنقیدی شعور پیدا کر سکیں؟ ایک وقت تھا جب سرکار دربار میں ڈاکٹر احمد حسن دانی کا سکہ چلتا تھااور ہمارے جیسے طالب علم گوگل سے رجوع کئے بغیر بتا سکتے تھے کہ پاکستان کے آثارشناس ہندو یونیورسٹی بنارس میں پڑھتے رہے،سنسکرت جانتے تھے اور وسطی ایشیا کی کئی زبانیں،ان کے نام پر کئی ادارے یا انسٹی ٹیوٹ بنے تاہم میرے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ مجھے یہ معلوم بھی ہو جائے کہ آٹھ کنال کا ایکڑ ہوتا ہے اور یہ سردار کوڑے خان نےبیاسی ہزار سے زائد کنال رقبہ تعلیم اور رفاہِ عام کے لئے وقف کردی تھی تو وکی پیڈیا ہر سوال کا جواب دینے سے قاصر ہے ۔
مثال کے طوریہ تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اولاد نہیں تھی اور شاید ان کی چھ بیگمات تھیں تاہم ان کے نام یا دیگر خانگی کوائف نہیں ملتے۔ بہر طوریہ ایک ٹرسٹ قائم ہو گیا اس کے تحت مظفر گڑھ میں کئی تعلیمی ادارے چل رہے ہیں پھر یہ مظفر مگسی کون ہے جو سردار مرحوم کے رشتہ دار جتوئیوں کو چین سے بیٹھنے نہیں دیتا؟ اب یہاں آپ کو تحمل سے میری بات سننی ہوگی میں ایک وقت کے لیبر افسر ،اصغر ندیم سید کے کلاس فیلو خیر محمد بُدھ مرحوم کو ایک بات نہیں سمجھا سکا تھا کہ مظفر گڑھ کے لئے بنی بنائی یونیورسٹی ہے سردار کوڑے خان یونیورسٹی مگر انہیں ڈپٹی کمشنر،کمشنر اور شاید اسی قسم کے کرسی نشینوں کے وعدوں پر بھروسہ تھا جبکہ مظفر مگسی بھی ایک اور طرح کے ضدی ہیں ان کا کہنا ہے کہ افسر اس ٹرسٹ کی زمین کو مقامی سیاست دانوں کی مدد سے برائے نام معاوضے پر مستاجری یا ٹھیکے پر لے لیتے ہیں اور کافی کچھ ہڑپ کر جاتے ہیں،چنانچہ وہ وقفے وقفے سے سپریم کورٹ کے پاس پہنچ جاتے ہیں کہ اس ٹرسٹ کے اکائونٹس کا آڈٹ کرایا جائے اور مجھے حیرت ہے کہ سپریم کورٹ کے جج مظفر مگسی جیسے درویش کے اخلاص اور دردمندی کا لحاظ کرتے ہیں۔ میرے ایک شاگردِ عزیز ڈاکٹر شعیب عتیق خان نے مجھے مظفر مگسی صاحب سے ملوایا تھا،شعیب عتیق خان متعدد کتابوں کے باریش مصنف ہیں،وہ خود کئی کالجوں کے پرنسپل رہے ہیں۔سپریم کورٹ کی ہدایت پرمگسی صاحب سے جب کہا جاتا ہے کہ مظفر گڑھ اور راجن پور کے ڈپٹی کمشنروں اور اشتمال اراضی کےایڈیشنل کمشنروں کے ساتھ بیٹھ کر ایس او پی بنا کے لائو۔کہنے کو یہ standard operating procedure کا مخفف ہے مگر یہیں سے کرسی نشینوں کے ان مٹ راج کی راہیں نکلتی ہیں۔
میرے شاگردوں میں کچھ جتوئی بھی ہیں مظفر گڑھ کے سیاست دان عبدالقیوم جتوئی کی خواہر نسبتی ڈاکٹر میمونہ ناز جتوئی جو ملتان کے ایک کالج کی پرنسپل ہیں،ایک ڈیرہ غازی خان میں غازی یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں پڑھاتا ہے جس نے انتظار حسین کے فن پر بہت اہم کام کیا تھا وہ پوتا ہے جاں باز جتوئی کا مگر وہ بھی دودھ کے جلے مظفر مگسی کا اعتماد حاصل نہیں کر سکتا اس لئے وہ بار بار مجھ سے کہتے ہیں کہ اسلام آباد سے مظفر گڑھ آکے بیٹھو اور اسکالرشپ کی تقسیم اور دیگر معاملات میںافسرانِ بالا کی انا اور کم وسیلہ طالب علموں کی ضروریات کے بیچ کوئی مفاہمت کا راستہ تلاش کرو۔میں ان سے پیار سے کہتا ہوں کہ آپ بھی ضدی آدمی ہیں میں نے کومیلا اور اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کے ڈاکٹر اختر حمید خان کا ایک مشورہ آپ کی خدمت میں پیش کیا تھا کہ مفت تعلیم کی بات کئی عشرے پہلے اپنی افادیت کھو بیٹھی کم وسیلہ بچوں کے لئے کام کے مواقع پیدا کریں ان کی اپنی درس گاہ میں یا باہر مگر مگسی صاحب کا کہنا ہے کہ سردار کوڑے خان اس علاقے کے نادار لوگوں میں ایک انقلابی روح کی تلاش میں تھے اور وہ ان کے قائم کردہ طالب علموں کے ذریعے ظاہر ہونے کو ہے۔یہاں کوئی فیس ادا نہیں ہونی چاہئے بلکہ ماضی میں وصول کی گئی فیسوں کو بھی واپس کر دینا چاہئے ۔میں یہاں کے استادوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں رکھتا اسلئے خوش فہم طبیعت کے تحت امید کرتا ہوں کہ وہ سچ مچ انقلابیوں کے ریلے کے لئے ریاضت کرتے ہوں گے پھر ایک مسئلہ سردار کوڑے خان کی وصیت میں رفاہِ عام کے الفاظ نے بھی کرسی نشینوں کے اختیارات بڑھائے ہیں ڈیرہ غازی خان اور مظفر گڑھ میں دیانت دار اور فرض شناس افسر بھی آئے ہیں جن کی لوگ بہت تعریف کرتے ہیں جیسے طارق محمود، ڈاکٹرشہزاد قیصر یا شاگردِ عزیزغازی امان اللہ تاہم مگسی صاحب کا کہنا ہے کہ جو کام ڈسٹرکٹ کونسل یا صوبائی حکومت کے کرنے کے ہیں وہ کئے جائیں مگر وہ کام سردار کوڑے خان ٹرسٹ کے کھاتے سے نہ کریں ورنہ یاد کریں کہ یہ وصیت کرنے والا بہت میٹھا آدمی تھا مگرتھا توکڑوا یا کوڑا اس لئے اس کی روح کی خفگی سے ڈرنا چاہئے۔ آپ نے حاشر ارشاد کی کتاب قابلِ اعتراض پڑھی ہو گی،اس کا ایک اقتباس سن لیجئے’’ تاریک زمانہ وہی ہے،بس اس کا جغرافیہ بدل گیا ہے،نام بدل گئے ہیں،کردار وہی ہیں،اسٹیج بدل گیا ہے،کھیل اب بھی وہی ہے،تماش بین اب بھی کلوزیم میں گرتے انسانی جسم دیکھتے ہیں،بے جان ہوتے لاشوں سے اچھلتا گرم خون اپنے چہروں پر محسوس کرتے ہیں اور دیوانہ وار تالیاں پیٹتے ہیں،تماشے کے متمنی کو تماشا چاہئے،اسے ثبوت سے غرض نہیں،اسے قانون کی کتاب نہیں پڑھنی،اسے حقوق کا پاٹ نہیں جپنا،اسےضابطے سے غرض نہیں۔‘‘