• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چند روز قبل پاکستان اور بھارت کے درمیان آئی سی سی کے ایک متنازعہ اور غیر منصفانہ فیصلے کے تحت بنگلہ دیش کے خلاف کارروائی کے بعد عالمی سطح پر زبردست سفارتی جنگ ہوئی ۔جس میں بھارتی لابی اور آئی سی سی کی لابی کو عملی طور پر بدترین ناکامی اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا اس کا سہرا صرف اور صرف پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی کو جاتا ہےجن کو آسٹریلیا میں کرکٹ کے حلقوں میں فیورٹ ایڈمنسٹریٹر اور چیئرمین کے طور پر پسند کیا جاتا ہے۔پاکستان کے بھارت سے میچ کے بائیکاٹ کے اعلان پر آئی سی سی نے جس طرح بنگلہ دیش کے خلاف اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کی ہےاس سے محسن نقوی فاتح کرکٹ ڈپلومیسی بن کر ابھرے ہیں۔پاکستان نے بھارت کے تکبر اور فرعونیت کو خاک میں ملا دیاہے۔جہاںپاکستان میں سب کو اس سفارتی جنگ میں بھارتی لابی کی شکست پر خوشی ہوئی ہے وہاں آسٹریلیا میں کرکٹ کے شوقین تمام حلقوں کو بھی یقینی طور پر خوشی ہوئی ہے۔

بھارت جس نے پچھلے سال تکبر کے تحت چیمپئنز ٹرافی کے لیے لاہور آنے اور پاکستان کے ساتھ کھیلنے سے انکار کیا تھا اللہ تعالیٰ نے اسی طرح بھارت کوپاکستان کے موثر اسٹینڈ اور بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑا ہونے کے فیصلے پر نہ صرف جھکنے پر مجبور کر دیا ہے بلکہ اس کے بدلے میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نےبنگلہ دیش کو 2028ءسے 2031ءکے درمیان ایک عالمی کرکٹ ایونٹ کی میزبانی بھی دینے کا اعلان اپنے سرکاری پریس نوٹ میں کر دیا ہےجبکہ بنگلہ دیش پر ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ نہ کھیلنے پر کوئی جرمانہ نہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان کو بنگلہ دیش کے ساتھ کھل کر کھڑا ہونے کے فیصلے کے بعد اب بنگالی بھائیوں کو بھی کھلے دل سے پاکستان کے ساتھ اپنے سماجی ،کاروباری اور اسپورٹس سمیت تمام شعبوں میں تعلقات کی بہتری کے لیے آگے بڑھنا چاہئے۔اس سلسلےمیں دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کی ایک نئی بنیاد رکھنے میں مدد مل سکتی ہے جو دونوں ملکوں میں دوستی کے نئے باب وا کرے گی۔

اب ٹی ٹونٹی کرکٹ کی رونقیں بحال ہو جائیں گی اور بھارت یقینا اپنے تمام میچ اخلاقی دبائو میں کھیلے گا (انشااللہ)اس فیصلے سے کرکٹ کے اندر جو معاشی سرگرمیاں ہوئی ہیں اس میں مزید اضافہ ہو گا اور پاکستان کو معاشی طور پر کئی فوائد بھی مل سکتے ہیں۔ اس فیصلےمیں بھارت نے ہر سطح پر اپنی سفارتی لابنگ کی جس کے لیے اس نے سری لنکا ،متحدہ امارات اور بہت سے ممالک کو پاکستان کو اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کیالیکن ایمانداری کی بات ہے کہ کرکٹ کی جیت اور سیاست کی ہار ہوئی ہے اس فیصلے سے بنگلہ دیش کو معاشی طور پر کئی فوائد حاصل ہوں گے اس لئے اب بنگلہ دیش کے لیے بہترین موقع ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش آپس میں مختلف سطح کے کرکٹ کے مقابلے شروع کریں اور پاکستان ایک بار پھرکرکٹ کا فاتح بن کر لیڈ کرے۔

اس حوالے سے حکومت پاکستان نے بھی اچھا اقدام کیا اور اتنے بڑے عالمی دبائو کے بعد پاکستان کا بھارت کے خلاف اقدام کا مقدمہ جیتنے کے بعد پی سی بی کو سرکاری طور پراجازت دی۔ اس صورتحال میںمحسن نقوی نے انوکی کا کردار ادا کرتے ہوئے بھولو پہلوان کے خاندان کو شکست دی ہےجو اتفاق سے یہاں نواز شریف اور وزیر اعظم شہباز شریف خاندان سے تعلق رکھتے تھے،محسن نقوی کے لیے آسڑیلیا سے کرکٹ شائقین کی خوشی کا اظہار قابل دید تھا اس سے پاکستان کے کرکٹ امیج کو بہتربنانے میںمدد ملے گی۔ اب دعا ہے کہ ہمارے کھلاڑی بھی ہماری لاج رکھ لیں نہ صرف بھارت کو 15 فروری کے میچ میں شکست دیںبلکہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے فاتح بن کر قوم کا سر فخر سے بلند کردیں۔

تازہ ترین