وزن کم کرنے کے لیے اکثر لوگ سخت ورزش، لمبی دوڑ یا جِم کو ضروری سمجھتے ہیں مگر فٹنس ماہرین کا کہنا ہے کہ روزمرہ کی بنیاد پر کی جانے والی چھوٹی چھوٹی حرکات بھی بڑی تعداد میں کیلوریز جلا سکتی ہیں، اسی عمل کو NEAT (نان ایکسر سائز ایکٹیویٹی تھرمو جینیسیس) کہا جاتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق NEAT سے مراد وہ تمام جسمانی سرگرمیاں ہیں جو باقاعدہ ورزش کے بغیر روزمرہ زندگی میں کی جاتی ہیں، جیسے گھر میں چلنا پھرنا، سیڑھیاں چڑھنا، صفائی کرنا، باغبانی کرنا، کھڑے ہو کر کام کرنا یا سامان اٹھانا وغیرہ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی جسم میں روزانہ توانائی کے خرچ کا تقریباً 60 فیصد حصہ ریسٹنگ میٹابولک ریٹ (RMR) سے آتا ہے جبکہ 10 سے 15 فیصد ڈائٹ انڈیوسڈ تھرمو جینیسیس (DIT) سے حاصل ہوتا ہے، باقی 15 سے 30 فیصد یا اس سے زیادہ حصہ جسمانی سرگرمیوں سے خرچ ہوتا ہے جس میں NEAT اہم کردار ادا کرتا ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق کچھ افراد روزمرہ کی سرگرمیوں کے ذریعے روزانہ 200 سے 800 کیلوریز تک اضافی جلا سکتے ہیں جبکہ زیادہ متحرک طرزِ زندگی رکھنے والے افراد میں یہ تعداد 1500 سے 2000 کیلوریز تک بھی پہنچ سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 1 گھنٹے کی ورزش بھی دن بھر بیٹھے رہنے کے مضر اثرات کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتی، اس لیے دن بھر حرکت میں رہنا ضروری ہے۔
کھانے کے بعد تھوڑی چہل قدمی لازمی کریں، لفٹ کے بجائے سیڑھیوں کا استعمال کریں، فون پر بات کرتے ہوئے چلنا شروع کر دیں، گاڑی آفس سے دور پارک کریں، آفس میں ہر 1 گھنٹے کے بعد اٹھ کر حرکت کریں، روزانہ ہلکے پھلکے گھریلو کام لازمی کریں جیسے کے گھر یا الماری کی سیٹنگ وغیرہ اور دفتر میں اسٹینڈنگ ڈیسک کے استعمال کو بیٹھ کر کام کرنے پر فوقیت دیں۔
طبی ماہرین کے مطابق روزمرہ حرکت میں اضافہ خون میں شوگر کا توازن بہتر کرتا ہے، انسولین کی حساسیت بڑھاتا ہے اور توانائی کی سطح کو بہتر بناتا ہے۔
فٹنس ماہرین کا کہنا ہے کہ وزن کم کرنے کے لیے صرف جِم پر انحصار ضروری نہیں، بلکہ دن بھر متحرک رہنا بھی صحت مند طرزِ زندگی اور وزن کے کنٹرول میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔