• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اپنی طاقت اور اختیارات کے غلط استعمال کو کرپشن کہتے ہیں اور کرپشن کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسانی وجود کی ۔ دنیا میں جتنے بھی پیغمبر، صوفی، دانشور اور حریت پسند گزرے انکی جدوجہد کا بنیادی نقطہ ہی کرپشن کیخلاف جہاد کرنا تھا ۔جو طبقاتی مذہبی اخلاقی اور معاشی ناانصافی پر مبنی تھی ۔اگر مذہبی نقطہ ءِ نظر سے دیکھا جائے تو انسان کی تخلیق میں فرشتوں کی طرف سے جو سب سے بڑا اعتراض کیا گیا تھا وہ یہی تھا کہ انسان اپنی طاقت اور اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے یعنی کرپشن کرتے ہوئے اس حد تک آگے چلا جائے گا کہ وہ بے گناہوں کا خون بہانے پر اتر آئے گا۔ لہٰذا ایسی امن دشمن اور پرتشّدد مخلوق کی تخلیق سے گریز کیا جائے لیکن خدا نے فرشتوں کے اس نقطہ ءِ نظر سے اتفاق نہیں کیا تھا اوربعد ازاں اللہ تعالیٰ نے ابلیس کے آدم علیہ السلام کو بوجہ تکبر سجدہ نہ کرنے پراسےکہا تھا کہ جو انسان میرا پسندیدہ ہوگا وہ کرپشن سے پاک یعنی امن پسند ہوگا اور اس کیلئے خدا نے لفظ مومن استعمال کیا جس کا لغوی ترجمہ ’’امن قائم کرنے والا‘‘ ہے۔ یہ اس کشمکش اور جدوجہد کی ابتدا تھی جو تخلیقِ آدم کے بعد سے آج تک چلی آ رہی ہے جس میں ایک طرف کرپٹ ٹولہ ہے اور دوسری طرف کرپشن کے خلاف جہاد کرنے والے ہیں۔

یاد رہے کہ لفظ مومن سے مراد کسی خاص مذہب کے افراد نہیں بلکہ ہر وہ شخص ہے جس کا مذہب چاہے کچھ بھی ہو یا کچھ بھی نہ ہو لیکن وہ نا انصافی، ظلم ، دھوکہ دہی اور حق تلفی کے خلاف سینہ سپر ہو، وہی مومن کہلاتا ہے۔ اس لئے عام طور پر کہا جاتا ہے کہ دنیا کی امامت ہمیشہ مومنوں کے پاس رہتی ہے کیونکہ ان کی زیرِ سرپرستی انکی حکومتوں میں نسبتاً زیادہ معاشی اور انتظامی خوشحالی اور امن ہوتا ہے ۔وہ سائنس اور دیگر علوم میں دوسروں سے آگے ہوتے ہیں لیکن جب وہ اس راستے سے بھٹک جاتے ہیں تو دنیا کی امامت ان سے چھین لی جاتی ہے اور ان کے معاشرے بھی تنزل کا شکار ہو جاتے ہیں۔

حالیہ تاریخ میں اس کی سب سے بڑی مثال سلطنتِ برطانیہ کی ہے۔ جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا اور اب یہ عالم ہے کہ وہ عظیم سلطنت اتنی سکڑ گئی ہے کہ اس میں بمشکل سورج طلوع ہوتا ہے۔ دوسری مثال چائنا کی ہے کہ آج سے ایک صدی قبل چین افیونیوں کی ایک ڈوبتی ہوئی قوم تھا جہاں ہر طرف کرپشن عام تھی جبکہ آج چین دنیا کی امامت کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ جہاں اس نے سائنس اور جدید علوم میں حیرت انگیز ترقی کی ہے وہیں ہر طرح کی کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی بھی بنا رکھی ہے۔ جس میں کرپٹ افراد کو چاہے ان کا تعلق کسی بھی شعبہ ہائے زندگی سے ہو ، سزائے موت دینے کے قانون کی بھی سختی سے پابندی کی جاتی ہے۔ اس موقع پر یہ جاننے کی بھی ضرورت ہے کہ کرپشن کیا ہے؟ اور یہ کس طرح معاشرے کو تباہ کرتی ہے؟ کیا صرف مالی کرپشن ہی کرپشن ہے ؟

اس کا سیدھا سادہ جواب یہ ہے کہ صرف مالی کرپشن ہی کرپشن کے زمرے میں نہیں آتی ۔مالی کرپشن تو نچلی سطح پر ہونے والی کرپشن کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال یعنی غربت کے ردّ عمل کے طور پر پیدا ہوتی ہے جس میں غیر قانونی طریقوں سے دولت کا حصول شامل ہے۔ جو آگے چل کر مزید کئی قسم کی کرپشن کو جنم دیتا ہے۔ کرپشن ایک شیطانی چکر ہے جس کی بنیاد "ناانصافی" پر مبنی ہے جس معاشرے میں نا انصافی عام ہو ، وہاں کرپشن عام ہوتی ہے۔ اس معاشرے میں انسان کا واسطہ اس "عفریت " سے پیدا ہوتے ہی پڑ جاتا ہے۔ وہ جیسے جیسے شعور سنبھالتا ہے۔ اس کا یہ احساس پختہ ہوتا چلا جاتا ہے کہ اسے زندگی میں آگے بڑھنےکیلئے دولت اور اختیارات کی ضرورت ہے جو اسے صرف محنت اور ایمانداری سے حاصل نہیں ہو سکتے کیونکہ کرپٹ سسٹم ایسے انسان کو قبول نہیں کرتا جو اس کے اصولوں کو قبول نہیں کرتا۔ اس چکر میں بظاہر ایک اچھا بھلا نیک نیت انسان بھی نہ چاہتے ہوئے اسی رنگ میں رنگا جاتا ہے جو رنگ کرپشن سسٹم کا ہوتا ہے ۔جس میں ناانصافی کئی شکلوں میں اس کے سامنے آنے لگتی ہے۔ کبھی ہمدردی، کبھی قرابت داری، کہیں سفارش اور کہیں رشوت کی شکل میں۔ کہیں قانونی طور پر رشوت کو کمیشن کا نام دے کر اسے جائز قرار دے دیا جاتا ہے۔

یہ سارا عمل جو نا انصافی پر مبنی ہوتا ہے انسان سے اس کے اخلاقیات کے تقدس کو چھین لیتا ہے اور انسان اخلاقی طور پر مردہ ہو جاتا ہے۔ جب انسان اخلاقیات سے محروم ہو جاتا ہے پھر وہ سوسائٹی کے امن کو چھین کر نہ صرف پرتشدد بنا دیتا ہے بلکہ عموماً مومن کے بجائے محض منافق بن کر رہ جاتا ہے۔ رفتہ رفتہ یہ عمل سوسائٹی کو تباہ کر دیتا ہے اور کرپشن کو اتنا عام بنا دیتا ہے کہ لوگ رشوت مانگتے اور اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے شرم محسوس نہیں کرتے۔ کیا ہمارا معاشرہ تباہی کی اس سطح پر نہیں پہنچ چکا آپ کا کیا خیال ہے ؟ آج کا شعر

دو قدم زمین اور آسمان مٹھی بھر

مجھ کو چاہیے فقط یہ جہان مٹھی بھر

تازہ ترین