ویلنٹائن ڈے کو عام طور پر رومانس، بڑے تحفے اور مثالی تعلقات کے جشن کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، تاہم بہت سے لوگوں، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے، یہ دن خوشی کے بجائے اضطراب لے کر آتا ہے۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق اس موقع پر جذباتی دباؤ، تعلقات میں تناؤ اور احساسِ کمتری میں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔
ماہرِ نفسیات کا کہنا ہے کہ ’ویلنٹائن ڈے کو رومانس اور تعلق کا جشن بنا کر پیش کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ محبت کمزوری، توقعات اور حیاتیاتی عوامل کے ساتھ آتی ہے، جو دباؤ کو بڑھا سکتے ہیں۔‘
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 30 کروڑ سے زائد افراد اضطرابی امراض (اینزائٹی/بےچینی) کا شکار ہیں۔ سماجی تقابل، کارکردگی کا دباؤ اور تعلقات میں عدم تحفظ ان مسائل کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ ویلنٹائن ڈے ان سب کو ایک ساتھ متحرک کرتا ہے، جس سے دماغ کے انعامی، وابستگی اور دباؤ کے نظام بیک وقت فعال ہو جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس دن محبت کے ’مثالی مناظر‘ دکھائے جاتے ہیں، جیسے مہنگے ڈنر، پروپوزل اور فلٹر شدہ تصاویر۔
تاہم ماہر نفسیات کہتے ہیں کہ جو لوگ اکیلے ہیں، یا حال ہی میں انکا تعلق ختم ہوا ہے، یا تعلقات پر سوال اٹھا رہے ہیں، ان کے لیے یہ تقابل خود شک اور تنہائی کا باعث بنتا ہے۔
تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ سوشل میڈیا پر تقابل بےچینی، ڈپریشن کو بڑھاتا ہے اور خود اعتمادی کو کم کرتا ہے۔ حتیٰ کہ مستحکم تعلقات میں موجود افراد بھی اس دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں کہ انہیں محبت کو ‘ظاہر‘ کرنا ہے، جس سے اصل جذباتی تعلق کمزور ہو سکتا ہے۔
نوجوانوں اور طلبہ کے لیے ویلنٹائن ڈے مالی دباؤ بھی لاتا ہے۔ تحائف، مہنگے کھانے اور سفر کی توقعات محبت کو جذباتی کے بجائے ’معاشی لین دین‘ بنا دیتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق مالی دباؤ ذہنی صحت کے مسائل کو بڑھاتا ہے۔
ویلنٹائن ڈے پر اضطراب عام ہے، لیکن یہ کمزوری نہیں بلکہ انسانی دماغ اور جذباتی نظام کی فطری کیفیت ہے۔ محبت کسی ایک دن یا مظاہرے سے ثابت نہیں ہوتی، بلکہ وقت کے ساتھ مستقل مزاجی، احترام اور جذباتی تحفظ سے پروان چڑھتی ہے۔