• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہر کوئی بھی عام نہیں ہوتا خاص ہی ہوتا ہے بشرطیکہ شہریار دیدہ ور ہو ! پہلے اسلام آباد اور پھر کراچی میں یکے بعد دیگرے تین چار دن کے قیام میں سیاسی ٹیوشن لینے کا خوب موقع ملا جس سےجمہوریت ، اسلامک فنانس، غالبین کی ترجیحات اور شخصیات کے متعدد زاویے سامنے آئے۔ فقیر واپس لاہور آیا تو چند نکات اور کچھ تنقیحات کے معاملات ذہن و قلب پر مسلسل ہلکی ہلکی دستک دے رہے ہیں:پورا کراچی گھوما لیکن جگہ جگہ بلاول بھٹو، وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب کی وہ قد آور تصاویر کہیں نظر نہیں آئیں، نہ کسی ٹھیکے پر اور نہ کسی پارک کی دیوار پر۔ جی میں آیا کہ پیپلزپارٹی کے پارلیمانی وکیل وسیاسی وزیر دفاع،عبدالقادر پٹیل اور محنتی و نظریاتی جیالے اور صوبائی وزیر سعید غنی سے پوچھوں کہ "کوئی اپنا وہم ہے درمیان یا گھٹا نے آپ کو ڈرا دیا ؟" یا پھر کراچی میں سرکاری پیسے سے جاندار و شاندار تشہیر کا رواج نہیں؟ لیکن پوچھتے کس سے عبدالقادر پٹیل قومی اسمبلی کے اجلاس میں اسلام آباد تھے اور سعید غنی پیرس یاترا پر۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہم سعید غنی کے مداح ہوتے جاتے ہیں ہمارے ستارے ان سے اتنے ہی دور ہوئے جاتے ہیں سو کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں ؟ آ جا کر ہمارے پاس عبدالقادر پٹیل بچتے ہیںجن سے سیاسی کتھارسس ہو جاتا ہے اور کچھ دلبری بھی۔ اللہ بھلا کرے ان دونوں کا بہرحال بات کو کوئی منطقی انجام تو دیتے ہیں۔ ہم تو جب کبھی کراچی جاتے ہیں ایسی ہی کوشش میں جاتے ہیں جیسے پورے پاکستان سے لوگ روزگار کیلئے جائیں۔ کراچی پر کراچی ہی والے یا کوئی اور جتنی بھی تنقید کر لیں لیکن کراچی میں جو دم خم ہے وہ پاکستان کے اور کسی شہر میں نہیں۔ جدید اسپتالوں ، ماڈرن ہائیر ایجوکیشن اور ریسرچ انسٹیٹیوشنز میں ہنوز لاہور اس کا ثانی ہے نہ پشاور و کوئٹہ اور نہ اسلام آباد ۔ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کمال ہنرمندی اور معنی خیز خاموشی سے ہیلتھ سینٹر کو وہ تقویت فراہم کر رکھی ہے کہ کاش ملک بھر کے وزرائے صحت انہیں قابل رشک اور قابل تقلید جانیں۔ ہو سکے تو اور وزیربھی سیکھیں، یہ سیکھنا ضروری ہے جو جس محکمے کا وزیر ہو ، بھلے ہی صوبائی وزیر اس کا فرض ہے کہ وہ اپنی فیلڈ کی قومی و صوبائی معلومات سے آشنا ہو، پھر وزیر کیلئے شاہ یا شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار ہونا ضروری نہیں بلکہ پیشہ ور باوفا اور شہریار ہونا ضروری ہے۔ پھر کہیں جا کر گلشن کا کاروبار چلتا ہے۔

ہم سعید غنی سے گزارش کریں گے کہ اوکھے سوکھے ہو کر وزیرِ اعلیٰ سندھ سے ہماری سفارش کردیں کہ کراچی ہی نہیں پورے پاکستان کا طالب علم آپ کے یونیورسٹی روڈ سے گزرتا ہے ، اور یہ جنریشن زی ( جینزی) بہت سوچتی ہے ، اوپر سے جنریشن الفا اور جنریشن بی ٹا بھی شعور کا سر نکالنے لگی ہے پس اشرافیہ سیاست سے نکل کر ان پر غور فرمائے ، آخر یونیورسٹی روڈ نے پوری صدی ہی زیر تعمیر رہنا ہے ، ایک تعبیر کیوں نہیں؟ وزیرِ اعلیٰ سندھ کی خدمت میں بھی ’’تیرا شہر میرے نگر کی تعبیر کو جیسے!‘‘ (جنگ) مورخہ 23جون 2024ءبطور نذرانہ پیش کرنا ضروری ہے ممکن ہے پھر شہریار میسر آ ہی جائے ! خیر، شہر کراچی میں الکوثر یونیورسٹی میں ایک منفرد عزم پایا وہ بغداد کے دارالحکمت کی طرز پر پھر کچھ ایسا سوچ رہیں ہے کہ کوئی ہلاکوخان پھر سسٹم کو نیست و نابود نہ کر سکے۔ الکوثر کا سیون ایز فریم ورک اسلامک فنانس کو تقویت بخشتا ہے قابل تقلید ہے.... جیفری ساکس اپنی تصانیف میں لکھتا ہے کہ "ترقی پذیر ممالک میں غربت کا خاتمہ اس لیے نہیں ہوتا کہ وسائل کی کمی ہے، بلکہ اس لیے نہیں ہوتا کیونکہ وہاں اشرافیہ " غالبین" ترقی کی راہ میں دیوار بن جاتے ہیں۔" ایسے ہی بقول جدید ماہر معاشیات تھامس پیکیٹی، جب سود ریٹ گروتھ ریٹ سے بڑھ جائے تو دولت چند ہاتھوں میں جکڑی جاتی ہے، اور جمہوریت عوام کی حکومت کے بجائے امیروں کی حکومت ہو کر رہ جاتی ہے۔ لوئس برانڈیس ( سابق جج امریکی سپریم کورٹ) کے مطابق "ہمارے پاس ایک انتخاب ہے کہ ملک میں جمہوریت رکھ سکتے ہیں یا دولت ، دونوں اکٹھے نہیں!" بات چونکہ شہر اور شہریار سے چلی ، پس ہمیں آج تک وہ زمانہ بھی نہیں بھولتا جب سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف، وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال اور خورشید شاہ سے اپنے اپنے شہروں کی تعمیر و ترقی کی پاداش میں "پیار " ہوا ۔ آج تک سمجھ نہیں آئی ان اصحاب کے شہریار ہونے پر نیب کی "رگِ الفت" کیوں پھڑکی؟ یہ ایک پوری کہانی ہے جو کبھی پھر سہی تاہم شہر اقتدار میں راجہ پرویز اشرف سے ملے تو ان سے ذکر ہوا کہ آپ کا شہر جو شہر اقتدار سے متصل ہے، بالخصوص آپ کا گوجر خان وفا، ایفا اور دفاع کا گہوارہ ہے، جہاں سے کئی چیفس بنے، کیا چیف منسٹر اور اسمبلی چیف (ا سپیکر قومی اسمبلی) بھی، چیف آف آرمی اسٹاف ہی نہیں چیف جسٹس بھی حتیٰ کہ دو نشان حیدر بھی گوجر خان تحصیل کا اعزاز ہیں۔اور یہ بھی کہا کہ ہم آپ کےشہر وفا سے بہرحال قومی و جمہوری شہریاری کی خصوصی توقع رکھتے ہیں: ایک عادل شہر یار عمر فاروق جو تاریخ کے ماتھے پر کندہ ہے۔ ابراہم لنکن ایک جمہوری شہریار رہا جس نے عوام کی حکومت عوام کے ذریعے کی مثال متشکل کی، آج ناروے اور سکینڈینیویا کے حکمران قابلِ ذکر ہیں۔دل ناداں بھی کیا ہے کہ جن شہر یاروں سے مخاطب ہے انہی سے کہتا ہے جو" اک محرومی، ایک خلش جو ایک کمی سی رہتی ہے/ وہ ایک کمی، وہ ایک خلش، وہ اک محرومی تم ہی تو ہو"۔

تازہ ترین