بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر نوئیڈا میں ویلنٹائن ڈے کے روز ایک نوجوان نے مبینہ طور پر اپنی گرل فرینڈ کو گولی مار کر قتل کرنے کے بعد خود کو بھی گولی مار لی۔
بھارتی پولیس نے گاڑی سے دونوں افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد کر لیں، جبکہ موقع سے پستول اور خول بھی قبضے میں لے لیے گئے۔
پولیس کے مطابق مقامی افراد نے فائرنگ کی آوازیں سن کر پولیس کو اطلاع دی، جب پولیس ٹیم موقع پر پہنچی تو ایک بند گاڑی کے اندر ایک مرد اور ایک خاتون بے ہوش حالت میں پائے گئے، گاڑی کو تحویل میں لے کر علاقے کو فرانزک معائنے کے لیے سیل کر دیا گیا۔
مرنے والوں کی شناخت 26 سالہ ریکھا اور 32 سالہ سمت کے طور پر ہوئی ہے، دونوں گزشتہ روز سے لاپتہ تھے اور اہلِ خانہ کی جانب سے گمشدگی کی رپورٹس بھی درج کرائی جا چکی تھیں۔
اطلاعات کے مطابق دونوں تقریباً 15 برس سے تعلق میں تھے اور دونوں خاندان اس رشتے سے آگاہ تھے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گاڑی اندر سے بند تھی اور پستول سمت کے ہاتھ میں موجود تھا، فرانزک ٹیم نے موقع سے شواہد اکٹھے کر کے لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔
سمت نے واٹس ایپ پر ایک پیغام بھی چھوڑا، جس میں اس نے اپنی 15 سالہ محبت اور خودکشی کی وجہ بیان کی۔
پیغام میں اس نے الزام عائد کیا کہ ریکھا نے شادی کا وعدہ کیا تھا لیکن اب وہ کسی اور سے شادی کر رہی تھی، جسے وہ دھوکا قرار دیتے ہوئے خودکشی کا قدم اٹھا رہا ہے۔
تاہم سمت کے اہلِ خانہ نے پولیس کے ابتدائی مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ واقعہ خودکشی نہیں بلکہ قتل ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ لڑکی کے خاندان کی جانب سے ذات پات کے معاملے پر طعنے دیے جاتے تھے اور انہیں بیرونِ ملک نمبروں سے دھمکی آمیز کالز بھی موصول ہوئی تھیں جس میں پولیس کارروائی کی دھمکیاں دی گئیں۔
اہلِ خانہ کے مطابق گاڑی سالارپور گاؤں کے قریب محض چند سو میٹر کے فاصلے پر ملی، جو کہ مشکوک ہے، انہوں نے الزام لگایا کہ دونوں کو ذات پات کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور تمام پہلوؤں، بشمول اہلِ خانہ کے الزامات، کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔