بحرِ ہند میں مارچ کے پہلے ہفتے کے دوران ایرانی بحریہ کے 3 جنگی جہاز ایک بڑے جغرافیائی و سیاسی بحران کا مرکز بن گئے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق 3 ایرانی بحری جہازوں میں سے 1 جہاز امریکی آبدوز کے ٹارپیڈو حملے میں ڈوب چکا ہے جبکہ 2 دیگر جہازوں کو ہنگامی بنیادوں پر بھارت اور سری لنکا کی بندرگاہوں میں داخلے کی اجازت دی گئی ہے۔
یہ واقعات ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پسِ منظر میں پیش آئے ہیں جس سے خطے کے ممالک بھارت اور سری لنکا بھی اس صورتِ حال میں شامل ہو گئے۔
4 مارچ کو ایرانی فریگیٹ آئی آر آئی ایس ڈینا کو سری لنکا کے جنوبی شہر گال کے قریب بین الاقوامی سمندری حدود میں امریکی آبدوز نے ٹارپیڈو سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں جہاز ڈوب گیا۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے واشنگٹن میں اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکی آبدوز نے ایرانی جنگی جہاز کو ٹارپیڈو سے تباہ کیا ہے۔
سری لنکن حکام کے مطابق حادثے کے بعد 80 سے زائد لاشیں سمندر سے نکالی گئیں جبکہ 30 سے زائد افراد کو زندہ بچا لیا گیا۔
اس حملے کے بعد سے درجنوں افراد تاحال لاپتہ ہیں جبکہ بچ جانے والے اہلکاروں کو علاج کے لیے گال لے جایا گیا۔
یہ جہاز بھارتی شہر یشاکاپٹنم میں ہونے والی ایک بحری مشق میں شرکت کے بعد واپس جا رہا تھا۔
دوسرا ایرانی جنگی جہاز آئی آر آئی ایس لاوان تکنیکی خرابی کے باعث بھارت کے پانیوں میں موجود ہے، بھارت نے یکم مارچ کو جہاز کو بندرگاہ میں داخلے کی اجازت دی تھی جس کے بعد یہ 4 مارچ کو کوچی کی بندرگاہ پر پہنچا تھا، جہاز پر تقریباً 183 افراد سوار تھے اور اس وقت جہاز کی تکنیکی جانچ جاری ہے۔
یہ جہاز ایک بین الاقوامی بحری تقریب میں شرکت کے لیے خطے میں موجود تھا۔
رپورٹس کے مطابق تیسرے ایرانی جہاز آئی آر آئی ایس بوشہر نے بھی انجن کی خرابی کے باعث سری لنکا سے مدد مانگی تھی جس کے بعد سے سری لنکا کے پانیوں میں موجود ہے، کشیدگی کے باوجود سری لنکا نے جہاز کو بندرگاہ میں داخل ہونے کی اجازت دی اور جہاز کو اپنی تحویل میں لے رکھا ہے۔
جہاز پر سوار 200 سے زائد افراد کو ویلیسارا نیول بیس منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا طبی معائنہ اور امیگریشن کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔