ایک وقت تھا جب تک پریس فوٹو گرافر یا ریڈیو یا ٹی وی سے ریکارڈنگ کے لئے کوئی کیمرہ یا مائیک بردار نہیں آتا تھا کوئی ادبی تقریب شروع نہیں ہوتی تھی،مہمانِ خصوصی ہمیشہ سے صاحبِ حیثیت ہوتے تھے اس لئے شرکائے محفل کو یقین ہوتا تھا کہ کہ ان کی اپنی تصویری جھلک ان کے قریب بیٹھنے سے ہی ممکن ہے سوائے اس کے کسی کا زرق برق لباس یا خدو خال کیمرہ مین کو پسند آ جائیں۔
لاہور کا ایک یوم اقبال مجھے نہیں بھولتا جس کے مہمان خصوصی پاکستان کے چیف جسٹس اور کرکٹ کنٹرول بورڈ کے چیئرمین تھے مگر ہوا یہ کہ ان کے آنے سے پہلے اہم مقررین خطاب کر چکے تب کہیں آئے ۔وہ چیف جسٹس کافی شگفتہ طبع تھے اور وزیرِ اعظم ایسی تھیں جو انہیں والد کا قاتل خیال کرتی تھیں،اپنی تقریبِ حلف برداری میں بھی وہ شایدکسی سے بآوازِ بلند ایسی سرگوشی کر چکی تھیں کہ آپ کے شاہ جی میرے سامنے کی پہلی قطار میں نظر نہ آئیں تب بھی وہ چیف جسٹس ایک آدھ شگفتہ فقرہ بول کے دوسری قطار میں چلے گئے ۔
اب معاملہ لاہور کے یومِ اقبال کا تھا محترم نسیم حسن شاہ دیر سے آئے تھے ادھر پی ٹی وی کے پروڈیوسر چاہتے تھے کہ نو بجے کے خبرنامے میں یہ بات آ جائے کہ مہمانِ خصوصی شاہ صاحب نے بھی پُر مغز گفتگوکی اور اقبال کے افکار کو برجستہ شعروں سے اجاگر کیا سوایک عجیب منظر ہم سب نے دیکھا کہ کیمرہ مین شاہ جی کے پاس ایک چٹ لے کر گیا وہ روسٹرم پر آئے اور دو منٹ تک بولنے کی اداکاری کی یعنی لفظوں کے بغیر گفتگو کی اب ایسی نایاب ہستیاں کہاں ہیں ۔
فروری میں یومِ غالب منایا گیا اور یومِ فیض بھی لاہور میں کتابوں کی بڑی نمائش ہوئی وہاں مجھے پنڈی سازش کیس کے ایک ملزم ظفر اللہ پوشنی کی کی ساڑھے تین سو صفحات سے زائد ’’ زندگی زنداںدلی کا نام ہے‘‘ کی کتاب دکھائی دی جو میں ایک مرتبہ پہلے بھی پڑھ چکا ہوں یہ اور بات کہ تب کتاب کی ضخامت اتنی نہیں تھی۔پھر اس موضوع پر اتنا لکھا گیا کہ مزید باتوں کی گنجائش بھی نہیں رہتی مگرایک تو پوشنی نے ترانوے برس عمر پائی اور آخر تک سیدھی کمر کے ساتھ کام کرتے رہے اور یہ ایڈیشن ان کی بیٹی انیتا پوشنی نے بک کارنر جہلم سے شائع کرایا ۔کچھ باتیں تو ہم جیسے لوگ پہلے سے جانتے تھے مگر یقین کریں مجھے معلوم نہیں تھا کہ رہائی کے بعد میجر جنرل اکبر خان اور ان کی خوبصورت بیوی نسیم شاہنواز میں علیحدگی ہوگئی۔ اسی طرح ہم یہ تو جانتے تھے کہ پوشنی نے بھی رہا ہونے کے بعد ایل ایل بی کیا اور وکالت شروع کی اور یہ بھی کہ وہ منٹو کے رشتہ دار تھے اور اس کیس میں ان کے وکیل حاجی محمد حسین بار ایٹ لا بھی مگر یہ بھی کتاب پڑھ کے اندازہ ہوا کہ ان کی منگنی ایک لڑکی سے ہوئی تھی اور جب پوشنی پکڑے گئے تو انہوں نے گھروالوں کے ساتھ اس لڑکی سے بھی کہا کہ وہ اپنے مستقبل کا ہم سفر چن لے مگر اس نے کہا میں نے تمہیں چن لیا ہے تاہم جب پوشنی کو چار برس کی سزا سنائی گئی تو اس لڑکی نے یہ ناطہ توڑ لیا اور پوشنی اپنے شگفتہ انداز میں یہ لکھتے ہیں ’اس نے لاہور کے مشہور ترقی پسند وکیل کیساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کر لیا۔
اب یہ کتاب ان کی بیٹی نے مرتب کرکے شائع کی ہے اس لئے انہوں نے اپنے والد گرامی کے اس جذباتی معرکے کی طرف اشارہ نہیں کیا البتہ یہ ضرور بتایا کہ جب پوشنی نے کئی برسوں کے بعد نواسے نواسیوں سے پوچھا کہ کیا آپ نے میری کتاب پڑھی ہے تو انہوں نے کہا کہ نانا ہم تو اردو پڑھ بھی نہیں سکتے تب پوشنی نے خود اس کتاب کا انگریزی ترجمہprison interlude کے نام سے نوے برس کی عمر میں کیا ۔ باقی بہت سی باتیں ہم آپ جانتے ہیں کہ پنڈی سازش کیس کے یہ کردار الگ الگ شخصیتیں تھے، فیض،اکبر خان،میجر اسحاق، صدیق خان، بلوچستان کے محمد حسین عطا یا خیبر پختون خوا کے ارباب نیاز جو علیگ تھے مگر تذکر و تانیث کےمعاملے میں پوشنی کی بم باری کی زد میں آ جاتے تاہم جب وزیر اعظم خود مدعی ہو تو چاہے ملزم کمانڈر انچیف کا چیف آف ا سٹاف کیوں نہ ہو،بے چارے ججوں پر ہی نہیں،پولیس اور جیل حکام پر کیسا دباؤ ہو سکتا ہے۔
ہماری مملکتِ خداداد کے ابتدائی برسوں کا احوال بہت کچھ بتا دیتا ہے اور تو اور جماعت اسلامی سے وابستہ نامور وکیل اللہ بخش، خدابخش(اے کے) بروہی،اور اشتیاق حسین قریشی جیسے لوگ جن پر جامعہ کراچی میں تعلیم ،تاریخ اور کی اشاعت کی تہمت لگی ہے۔پنڈی سازش کیس کے یہ کردار عام طور پر بعض معاملات کو درگزر کرتے ہیں مگر یہ ان دو فوجی ساتھیوں کو معاف نہیں کرتے جو وعدہ معاف بن گئے یا بنائے گئے۔ البتہ کچھ حواشی کی ضرورت اس کتاب کو بھی ہے کہ اپوزیشن مزاج کے ایک جج ملتان کے بھی تھے شیخ شبیر احمد جو بگڑتے تھے تو انہیں سنبھالنا مشکل ہو جاتا تھا جب سپریم کورٹ کے دوسرےچیف جسٹس محمد منیر نے اسمبلی کی بحالی کے لئےمولوی تمیزالدین کے حق میں دئیے گئے سندھ کورٹ کے فیصلے کو الٹ دیا تو اس شر سے خیر کی کرن پیدا ہوئی سو ایلس فیض کرائے کی گاڑی لے کر جسٹس شبیر کے پاس ایک رٹ پٹیشن لے کر پہنچیں تو ان کے فیصلے کو بے اثر کرنے کے لئےحکومت نے نئی قانون سازی کر لی اسے بھی ایلس فیض نے چیف جسٹس پنجاب کورٹ ایم آر کیانی کی عدالت میں چیلنج کیا توملزمان کی ضمانت لیتے ہوئےاس عظیم جج نے کہا کہ آپ ہمارا فیصلہ لے کر جلدی سے ساہیوال جیل میںپہنچیں کہیں ملک میں مارشل لا ہی نہ لگ جائے۔