• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا ویڈیو گیمز واقعی نقصان دہ ہیں؟ نئی تحقیق نے مختلف تصویر پیش کر دی

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے محققین کا کہنا ہے کہ ویڈیو گیم کھیلنا بذاتِ خود بچوں کے لیے نقصان دہ نہیں، بلکہ بعض صورتوں میں اس کے فوائد بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت نے ’گیمنگ ڈس آرڈر‘ کو ایک لت آمیز رویہ قرار دیا اور گیمنگ کی لت کو بیماری کے طور پر درجہ بند کیا ہے، تاہم یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے محققین کے مطابق اس سے قبل کوئی ایسی سائنسی تحقیق موجود نہیں تھی جس میں گیمنگ انڈسٹری کے اصل ڈیٹا اور صارفین کے رجحانات کو مدِنظر رکھا گیا ہو۔

مگر اب یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے محققین نے حال ہی میں ویڈیو گیمز کے کھلاڑیوں پر اثرات سے متعلق ایک باضابطہ سائنسی مطالعہ مکمل کیا ہے، جس کے نتائج کئی روایتی خدشات کو چیلنج کرتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق کھیل کے دوران مہارت کے احساس اور دوسروں کے ساتھ سماجی روابط کا تجربہ افراد کی ذہنی خوش حالی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے، جو افراد کھیل سے لطف اندوز ہوتے تھے ان میں مثبت ذہنی کیفیت کی رپورٹ کرنے کا امکان زیادہ پایا گیا۔

تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم نے 2 مختلف گیمز کے 3 ہزار کھلاڑیوں میں کھیل کے وقت اور ذہنی خوش حالی کے درمیان معمولی مگر مثبت تعلق پایا۔

رپورٹ کے مطابق ہمیں اس بات کا ثبوت نہیں ملا کہ یہ تعلق بنیادی نفسیاتی ضروریات یا محرکات سے متاثر ہوتا ہے، مجموعی طور پر ہمارے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف وقت کی بنیاد پر ویڈیو گیمز کو محدود کرنا شاید وہ فوائد نہ دے سکے جن کی توقع کی جاتی ہے، تاہم ڈیٹا کی باہمی تعلقی نوعیت اس نتیجے کو محدود کرتی ہے۔

گویا گیمرز کو کھیلنے سے روک دینا لازماً درست حکمتِ عملی نہیں، تاہم یہ تحقیق ویڈیو گیمز کے حق میں مکمل تائید بھی نہیں کرتی۔

محققین نے واضح کیا ہے کہ مطالعہ صرف 2 گیمز اور 3 ہزار بالغ کھلاڑیوں تک محدود تھا لیکن اس سے یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ آیا گیمنگ سے متعلق اخلاقی گھبراہٹ محض ایک مبالغہ تو نہیں؟

صحت سے مزید