نیند انسانی صحت کے لیے بے حد ضروری ہے کیوں کہ نیند کے دوران جسم خلیات کی مرمت کرتا ہے، مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے، ہارمونز متوازن رہتے ہیں اور دماغ یادداشت کو بہتر بناتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ 18 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کو روزانہ کم از کم 7 گھنٹے کی گہری اور پرسکون نیند لینی چاہیے۔
نیند کے 4 مراحل ہوتے ہیں، پہلے 3 مراحل نان رَیپڈ آئی موومنٹ (NREM) جبکہ چوتھا مرحلہ رَیپڈ آئی موومنٹ (REM) کہلاتا ہے۔
پہلا مرحلہ: ہلکی نیند
دوسرا مرحلہ: جسم مزید پرسکون ہو جاتا ہے
تیسرا مرحلہ: گہری اور بحالی والی نیند
چوتھا مرحلہ (REM): خواب آتے ہیں، دماغ زیادہ متحرک ہوتا ہے اور جسم کے پٹھے عارضی طور پر مفلوج ہو جاتے ہیں۔
REM نیند وہ مرحلہ ہے جس میں زیادہ تر خواب آتے ہیں، اس دوران دماغ کی سرگرمی تقریباً جاگنے جیسی ہوتی ہے مگر جسم حرکت نہیں کر پاتا، یہ مرحلہ یادداشت، سیکھنے کی صلاحیت اور جذباتی توازن کے لیے نہایت اہم ہے۔
عام طور پر نیند شروع ہونے کے تقریباً 90 منٹ بعد REM نیند آتی ہے۔
رات کے آخری حصے میں اس کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے، بالغ افراد کی کُل نیند کا تقریباً 25 فیصد حصہ REM پر مشتمل ہوتا ہے۔
REM نیند کے سبب دماغی کارکردگی اور نشوونما بہتر ہوتی ہے، تخلیقی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت بڑھتی ہے، جذباتی دباؤ اور بے چینی کم ہوتی ہے، یادداشت مضبوط ہوتی ہے اور صبح بیداری کے لیے جسم اور دماغ تیار ہوتا ہے۔
روزانہ ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا، سونے سے پہلے پرسکون معمول اپنانا، موبائل اور اسکرین کی روشنی کم کرنا، کمرہ ٹھنڈا، تاریک اور خاموش رکھنا، کیفین اور رات کے اوقات میں بھاری کھانوں سے پرہیز کرنا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر صحت، ذہنی سکون اور بھرپور توانائی کے لیے REM نیند کو نظر انداز نہ کریں۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔