سابق کپتان شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ بھارت کے خلاف کھیلتے ہوئے بہت سارے غلط فیصلے لیے گئے۔
شاہد آفریدی نے ٹی 20 ورلڈ کپ کے ہائی وولٹیج ٹاکرے میں پاکستان کی بھارت کے خلاف شرمناک شکست کے بعد نجی ٹی وی کے پروگرام میں قومی ٹیم کے کھلاڑیوں، کپتان، کوچنگ اسٹاف اور سلیکشن پالیسیز پر شدید تنقید کی ہے۔
اُنہوں نے کہا ہے کہ کھلاڑیوں کو صرف میرٹ اور کارکردگی کی بنیاد پر اسکواڈ میں شامل کیا جانا چاہیے۔
سابق کرکٹر نے ٹیم کی قیادت اور کوچنگ اسٹاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کوچز کی طرف سے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی جا رہی، وہ خاموش کیوں ہیں؟
اُنہوں نے کپتان کی ذاتی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ٹیم کا مورال بلند رکھنے کے لیے کپتان کو آگے بڑھ کر ٹیم کی قیادت کرنی چاہیے کیونکہ اگر کپتان آگے نہیں بڑھتا تو باقی کھلاڑیوں میں بھی حوصلہ نہیں رہتا۔
شاہد آفریدی نے حالیہ میچز پر غور کرتے ہوئے کہا کہ قومی ٹیم نے کئی غلط فیصلے کیے جیسے کہ آخری اوور شاہین آفریدی کی بجائے فہیم اشرف کو دینا چاہیے تھا۔
اُنہوں نے بھارت کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کے فیصلے پر بھی حیرت کا اظہار کیا۔
سابق کرکٹر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر وکٹ گیلی ہوتی تو پہلے فیلڈنگ کا انتخاب صرف اس صورت میں صحیح ہوتا ہے جب ٹیم سامنے سے ملنے والے ہدف کا تعاقب کرنے میں پُراعتماد ہو۔
اُنہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میچ کے دوران عثمان طارق جیسے اچھے اسپنر پر مکمل بھروسہ کرنے کی بجائے دوسرے کھلاڑیوں کا استعمال کیا گیا۔
شاہد آفریدی نے کہا کہ بھارتی بولرز نے پاکستان کی بیٹنگ کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا۔
اُنہوں نے صائم ایوب اور صاحبزادہ فرحان کی بیٹنگ ٹیکنیک پر بھی تنقید کی۔
سابق کرکٹر نے کہا کہ شائقین ہمیشہ اکیلے بابر اعظم سے ہی میچ جیتنے کی امید نہیں رکھ سکتے، اس لیے ٹیم کو اجتماعی طور پر ذمے داری قبول کرنی چاہیے۔