آئی سی سی ٹی 20 ورلڈکپ 2026ء کی ٹرافی کو مندر لے کر جانے پر لوک سبھا کے رکن اور سابق کرکٹر کرتی آزاد نے شدید تنقید کی ہے۔
کرتی آزاد نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں ٹی 20 ورلڈ کپ کی ٹرافی کو مندر لے جانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بھارتی ٹیم کو شرم آنی چاہیے۔
اُنہوں نے لکھا ہے کہ جب بھارت 1983ء ورلڈ کپ جیتا تو اُس ٹیم میں ہندو، مسلمان، سکھ اور عیسائی کرکٹرز شامل تھے، وہ ٹرافی بھارت لائی گئی تھی۔
کرتی آزاد نے سوال اٹھایا کہ فاتح ٹیم نے بھارت کی نمائندگی کی، سوریا کمار اور جے شاہ کے خاندان کی نہیں!
اُنہوں نے مزید لکھا ہے کہ محمد سراج ٹرافی کو مسجد نہیں لے کر گئے اور سنجو جنہوں نے اس کامیابی میں سب سے اہم کردار ادا کیا، ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کہلائے، وہ ٹرافی کو چرچ نہیں لے کر گئے۔
سابق بھارتی کرکٹر نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ ٹرافی 140 کروڑ بھارتیوں کی ہے کسی ایک مذہب کی نہیں۔
واضح رہے کہ بھارتی ٹیم کو ٹی 20 ورلڈ کپ کی ٹرافی مندر میں لے کر جانے پر اپنے ہی ملک میں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔