مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں طاقت کا توازن ہمیشہ تغیر پذیر رہا ہے، مگر حالیہ برسوں میں ترکیہ کی دفاعی صنعت میں غیر معمولی ترقی نے اس توازن کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ ایک ایسے خطے میں جہاں عسکری برتری محض جنگی صلاحیت کا نہیں بلکہ سفارتی اثر و رسوخ، معاشی خودمختاری اور نظریاتی قیادت کا بھی پیمانہ سمجھی جاتی ہے، ترکیہ نے اپنے دفاعی ڈھانچے کو ازسرِ نو تشکیل دے کر خود کو علاقائی طاقت کے طور پر منوانے کی منظم کوشش کی ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس نے اسرائیل کو شدید تشویش میں مبتلا کررکھا ہے۔
گزشتہ دہائی کے دوران انقرہ نے دفاعی خودکفالت کو قومی ترجیح بنایا۔ نتیجتاً آج ترکیہ اپنی دفاعی ضروریات کا تقریباً اسی فیصد مقامی سطح پر تیارکر رہا ہے۔ یہ پیش رفت محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ ایک طویل المدت حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے جسکے تحت مغربی ممالک پر انحصار کم کرنے، ٹیکنالوجی کی منتقلی کو یقینی بنانے اور قومی صنعت کو عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل بنانے پر زور دیا گیا۔طیارہ سازی،میزائل ٹیکنالوجی، الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز اور جدید اسلحہ سازی کے شعبوں میں Roketsan اور Aselsan جیسے اداروں نے مرکزی کردار ادا کیا۔ دفاعی صنعت کی کامیابی کا سب سے نمایاں پہلو بغیر پائلٹ طیاروں (ڈرونز) کی تیاری ہے۔ان ڈرونز نے نہ صرف ترکیہ کی عسکری حکمتِ عملی کو بدل دیا بلکہ عالمی سطح پر اسکی ساکھ کو بھی مستحکم کیا۔دفاعی برآمدات سے حاصل ہونیوالی آمدنی کو دوبارہ تحقیق و ترقی پر خرچ کیا جا رہا ہے، جس سے ٹیکنالوجی میں مزید جدت آ رہی ہے۔
اس پس منظر میں اسرائیل کی تشویش کو سمجھنا مشکل نہیں۔اسرائیلی ویب سائٹ Nziv نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ ترکیہ کاجنگی پروگرام (Cenk Program )محض ایک میزائل منصوبہ نہیں بلکہ خودمختار Deterrenceکی جانب اہم قدم ہے۔ دو ہزار کلومیٹر رینج کا بیلسٹک میزائل، جسکا اعلان انقرہ نے کیا، اسرائیل کیلئے اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس کے ذریعے ترکیہ اپنے کسی بھی حصے سے اسرائیل کے تمام علاقوں تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ مزید برآں 'طائی فون بلاک-4 جیسے ہائپر سونک میزائلوں کی تیاری نے اسرائیلی دفاعی حلقوں کی نیند حرام کردی ہے، کیونکہ آواز سے پانچ گنا زیادہ رفتار رکھنے والے ہتھیاروں کا سراغ لگانا اور روکنا جدید ترین دفاعی نظاموں کیلئے بھی چیلنج ہے۔ترکیہ کی بڑھتی عسکری قوت کا ایک اور پہلو اسکا سفارتی و نظریاتی بیانیہ ہے۔ صدر ایردوان نے فلسطین کے حق میں واضح مؤقف اختیارکررکھا ہےاور غزہ کی صورتِ حال پر اسرائیل کو کھل کر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے یہ اشارے بھی ملے ہیں کہ وہ غزہ میں ممکنہ امن دستوں میں ترکیہ کی فوجی موجودگی نہیں چاہتا۔ یہاں ایک اور اہم پہلو پاکستان اور ترکیہ کا دفاعی تعاون میں مسلسل اضافہ ہے جسے اسرائیل اسے اپنے لیے ایک بہت بڑا خطرہ تصور کرتا ہے۔
ترکیہ عالمی منڈی کا فعال حصہ ہے، نیٹو کا رکن ہے اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کیلئے ترکیہ ایک زیادہ پیچیدہ اور طویل المدت چیلنج بن کر ابھرا ہے۔ شام میں ترکیہ کا کردار بھی اس تناظر میں قابلِ ذکر ہے۔ سرحدی سلامتی، کرد ملیشیاؤں کے خلاف آپریشنز اور علاقائی سیاسی عمل میں فعال شرکت نے انقرہ کو شام کے مستقبل میں ایک اہم فریق بنا دیا ہے۔ آذربائیجان میں عسکری معاونت، لیبیا میں مداخلت اور افریقہ میں دفاعی تعاون کے معاہدے اس امر کی نشاندہی ہیں کہ ترکیہ محض مقامی طاقت نہیں بلکہ کثیر جہتی علاقائی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔اسرائیل کی تشویش، درحقیقت یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اب یک قطبی نہیں رہا۔ ایران، پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور اسرائیل سمیت متعدد طاقتیں اپنے اپنے دائروں میں اثر و رسوخ بڑھا رہی ہیں۔
یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ ترکیہ اور اسرائیل براہِ راست تصادم کی طرف بڑھ رہے ہیں، مگر یہ حقیقت ہے کہ انقرہ کی عسکری خودمختاری اور برآمدی صلاحیت نے تل ابیب کو اپنی حکمتِ عملی پر نظرثانی پر مجبور کر دیا ہے۔ اگر ترکیہ اپنی موجودہ رفتار برقرار رکھتا ہے اور 2026 تک جدید میزائلوں کی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کر دیتا ہے تو خطے میں طاقت کا توازن مزید تبدیل ہو سکتا ہے۔
بالآخر سوال یہ نہیں کہ اسرائیل خوفزدہ ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی نئی ترتیب میں ترکیہ کس حد تک قائدانہ کردار ادا کر پاتا ہے۔ اگر وہ اپنی عسکری قوت کو سیاسی بصیرت، اقتصادی استحکام اور علاقائی ہم آہنگی کے ساتھ ہم آہنگ رکھتا ہے تو وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ عالمِ اسلام کے لیے بھی ایک مضبوط دفاعی ستون بن سکتا ہے۔ اور یہی وہ حقیقت ہے جو تل ابیب کے پالیسی سازوں کو سب سے زیادہ تشویش میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔