طبی ماہرین کی جانب سے بہترین مجموعی صحت کے لیے ہفتے میں کم از کم ایک سے دو بار 24 گھنٹے کا روزہ رکھنا تجویز کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں جسم نمایاں تبدیلیوں سے گزرتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق 24 گھنٹے کچھ نہ کھانے پینے کے دوران جسم توانائی کے لیے خوراک کے بجائے ذخیرہ شدہ چربی استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے جس کے کولیسٹرول، بلڈ شوگر اور مجموعی میٹابولزم پر مثبت اثرات پڑتے ہیں۔
دوسری جانب تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ 24 گھنٹے کے پانی پر مشتمل روزے کے دوران مجموعی کولیسٹرول میں عارضی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ایل ڈی ایل (خراب کولیسٹرول) اور ایچ ڈی ایل (فائدہ مند کولیسٹرول) دونوں میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ ٹرائی گلیسرائیڈز میں واضح کمی آتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ تبدیلیاں ہارمونز، خاص طور پر گروتھ ہارمون کے بڑھنے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
صحت مند افراد میں کھانا دوبارہ شروع کرنے پر کولیسٹرول کی سطح معمول پر آ جاتی ہے۔
24 گھنٹے کے (سولڈ فوڈ) روزے کے دوران بلڈ شوگر میں اوسطاً 8 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر کمی دیکھی گئی ہے اور انسولین کی سطح بھی نارمل ہو جاتی ہے، حتیٰ کہ کچھ ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں میں بھی اس کے بہترین نتائج سامنے آئے ہیں۔
ایسی صورت میں جگر میں موجود گلائیکوجن گلوکوز فراہم کرتا رہتا ہے جس سے شوگر خطرناک حد تک نہیں گرتی۔
ماہرین کے مطابق یہ روزہ قلیل مدت میں شوگر کنٹرول بہتر بنانے میں مددگار ہو سکتا ہے، خاص طور پر پری ڈائیبٹیز کے مریضوں کے لیے۔
24 گھنٹے کے روزے میں جسم کی توانائی خرچ کرنے کی رفتار کچھ کم ہو جاتی ہے تاہم چربی جلنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے اور جسم کیٹوسس کی طرف جاتا ہے۔
اس دوران وزن میں کمی زیادہ تر پانی اور گلائیکوجن کے اخراج کی وجہ سے ہوتی ہے نہ کہ فوری چربی گھٹنے سے۔
24 گھنٹے کے روزے کے دوران گروتھ ہارمون عضلات کو محفوظ رکھنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔
ماہرینِ صحت کے مطابق اگرچہ یہ روزہ وزن کم کرنے اور بلڈ شوگر بہتر بنانے میں فائدہ مند ہو سکتا ہے لیکن یہ ہر فرد کے لیے موزوں نہیں۔
’جانز ہاپکنز میڈیسن‘ کے مطابق 18 سال سے کم عمر بچے، حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین، ٹائپ 1 ذیابیطس کے مریضوں اور کھانے کی بیماریوں کی تاریخ رکھنے والے افراد کو 24 گھنٹے کے روزے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کا روزہ یا فاسٹنگ اپنانے سے قبل ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔