• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ناصر کے نام سے محبت ہوئی ہوگی جب جمال عبدالناصر مصر کے صدر تھے جواہر لال نہرو کے دوست تھے ۔ہماری طرح وجنتی مالا کو پسند کرتے تھے ۔پھر ہم سے ایم اے میں ایک کلاس سینئر نصراللہ ناصر آیا جو بہاولپور کا شہزادہ دکھائی دیتا تھا جو چنن پیر کے ٹیلوں کو چاندنی رات میں دیکھ دیکھ کے چولستان کے گم شدہ دریا کو ڈھونڈنے گیا اور واپس نہ آیا مگر مجھے آج ایک نواب زادہ بے اختیار یاد آ رہے ہیں جن کا تخلص ناصر تھا ان کے والد کو انگریزوں نے 11گائوں دئیے تھے مگر وہ سرکار کی پسندیدہ جماعت یونینسٹ میں شامل ہونے کی بجائے احراریوں کے ساتھی ہو گئے۔

ایوب خان کے دور میں وہ نجانے کیسے متحدہ اپوزیشن کے قائد ہو گئے پھر شاید کچھ جماعتوں سے منسلک ہوئے مگر آخر آخر ان کی پہچان پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی(پی ڈی پی) ہو گئی ۔انہیں بابائے مذاکرات بھی کہا جاتا ہے ۔ضیا الحق کے مارشل لا میں شاید پہلا شگاف ذوالفقار علی بھٹو کی بیوہ نصرت بھٹو نے ڈالا جب انہوں نے نواب زادہ نصراللہ خان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جسے ایم آر ڈی کہتے ہیں جس میں عزم کیا گیا تھا کہ ضیا الحق کو انتخابات کرانے پر مجبور کیا جائے گا تاہم حکومت بنانے کا اختیار ضیا کے ساتھیوں کو دیا جائے گا نواب زادہ صاحب کے مشورے سے ۔ میں غریب مدرس اقتدار کی بارہ دریوں میں کبھی نہیں پھرا اور نہ ایسا میر مشاعرہ رہا کہ ان کے کلام کی داد دیتا۔

ان کے اشعار شاید ایم آرڈی کی بنیاد بنے ہوں گے ممکن ہے کہ قومی اسمبلی یا سینیٹ میں یا شاہراہ دستور پر درج ہوں۔ البتہ ایک مرتبہ خان گڑھ گیا مہر گل محمد یا ڈاکٹر عبدالحمید کے ساتھ تب مجھے خوش فہمی تھی کہ اگر ڈاکٹر کرامت علی زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہو گئے تو ملتان میں جمہوریت کا سورج طلوع ہو جائے گا سو جب مظفر گڑھ کے نواح میں خان گڑھ گیا جہاں پری کیڈٹ اقامتی سکول کا جال بچھا ہےجہاں میرے مرحوم بھائی بھولے کے دو بیٹے عمیر اور خرم رعایتی پیکیج پر میں نے داخل کرائے تھے ،سو وہاں نواب صاحب کی گاڑی بے شک بہت بڑی تھی مگر اسے ایک بوڑھا نوکر نلکا گیڑ کر دھو رہا تھا وہ اس ملال میں تھا کہ ایک ایک کرکے سارے کھیت بک گئے ہیں،اپوزیشن کی سیاست میں بابا رہا تو باقی سب کچھ بھی بِک بکا جائے گا وغیرہ اسکے بعد لاہور میں نکلسن روڈ پر پی ڈی پی کے دفتر میں دو ملاقاتیں ہوئیں کھانے کے وقت معلوم ہوا کہ کراکری تو شاندار اور کندورا (ترک اس کپڑے کو کندورا کہتے ہیں) بھی دلفریب مگر نواب صاحب نے تعریف کی کہ سامنے ٹھیلے والا چنے مزیدار بناتا ہے سو ایک طرح سے نواب صاحب کا نمک خوار بھی ہوں۔ پھر محمد خان جونیجو اپنی دانست میں شریک اقتدار ہوئے اور ’’ چوہے بلی‘‘ کا کھیل شروع ہوا۔

ملتان پیپلزپارٹی کی طاقت کا ایک مرکز تھا نواب زادہ صاحب نے ایک دو بڑے جلسوں سے خطاب کیا مگر کچھ عرصے کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو کو محسوس ہوا کہ نواب صاحب کو تائید نہیں ملنی چاہئے چنانچہ ملتان کے اسٹیڈیم میں نواب صاحب کا ایک ویران سا جلسہ ہوا پھر بھی انہوں نے آغاز میں کہا ’’ آج کا یہ عظیم الشان اجتماع ۔‘‘ میرے ساتھ ا سٹیڈیم کی سیڑھیوں پر ایک بابا بیٹھا تھا جس نے ایک ٹھنڈا سانس لیا اور کہا ’’بابے دی دید وی مک گئی اے شیت ‘‘ اگلی کہانی افسوس ناک ہے نواب صاحب سے صدارت کا وعدہ تھا مگر جنرل اسلم بیگ نے غلام اسحاق کو صدر بنوایا وزیر خزانہ اور وزیر خارجہ بھی اپنی مرضی سے رکھا ۔ ہمارے میاں ساجد پرویز کہتے ہیں اس رات جب نواب صاحب سے وعدہ خلافی ہوئی جس جس نے نواب صاحب کو دیکھا سبھی نے کہا کہ یہ ان کی آخری رات سمجھئے مگر ظفراللہ جمالی نے بلوچستان اسمبلی توڑی ایک بحران پیدا ہوا تونواب صاحب کے کمرے کی چہل پہل بحال ہوئی اور ان کا حقہ بھی سلگ گیا تاہم اتنے برس گزر گئے ایک عوامی ترجمان کا فقرہ دل پر نقش ہے’’بابے دی دید ای مُک گئی اے شیت‘‘ آپ بھی چاہیں تو اس بات سے لطف لے سکتے ہیں کہ لیڈر اچھا وہی ہے جو یہ ماننے کو تیار نہیں ہوتا کہ اس کی لیڈری رفتہ رفتہ سمٹ رہی ہے جب کہ اس کے سرہانے بیٹھے اس کےجاں نثار جانشینی کی تمنا میں نواب صاحب کے حقے کی طرح سلگ رہے ہوتے ہیں۔

کل رات ملتان یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی کےنامور طالب علم رئوف کلاسرا کو جب معلوم ہوا کہ میں اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں ہوں تو وہ ملنے آئے،بہت سے استادوں اور کتابوں کا ذکر ہوا اس نے تجویز کیا کہ مجھے سعید مہدی کی کتاب’ چشم دید‘ ضرور پڑھنی چاہئے تاکہ ایک پہلو یہ بھی سامنے آئے کہ بھٹوصاحب ضیاالحق (بیچارے؟) کو مجبور کر رہے تھے کہ مجھے پھانسی دو۔ ہم مونچھوں کو اپنے جوتوں کے تسمے بنانے کی دھمکی یا آئین شکنی پر سزائے موت کی چتاونی کے بارے میں بہت کچھ پڑھ اور سن چکے ہیں ۔اس میں شک نہیں کہ اس وقت تمام پڑھے لکھے سعید مہدی کی باخبری اور تاریخی گواہی کا ذکر کر رہے ہیں تاہم ایک دو باخبروں نے سعید مہدی کی تین پسندیدہ شخصیتوں کا ذکر کیا ہے جس کے بعد یہ کتاب پڑھنے کا اشتیاق نہیں رہا البتہ رئوف نے مجھے یاد دلایا کہ ایک مرتبہ میں نے اسے کہا تھا کہ ہر صبح شیو ضرور کرو تاکہ نئی صبح کا إحساس ہو۔مجھے جو بھٹو پسند ہےاس نے پھانسی سے پہلے شیو کیا۔

میں نے بھی آج اپنے نواسے احمد عمران سے کہا ہے کہ یار گھر سے میرا شیو کا سامان لیتے آنا کہ میری ڈاکٹر بیٹی(نویرہ نشاط) نے کہا تھا کہ ایک دو دن میں ہسپتال سے ڈسچارج ہو جائوں گا۔

تازہ ترین