ردا فاطمہ
اسکول کے ہاف ٹائم میں فہد نے اپنے دوست یاسر کو چھپ کر پانی پیتا دیکھا تو حیران رہ گیا، کیوں کہ اُس نے صبح ہی بتایا تھا کہ آج اس کا روزہ ہے۔ فہد نے یاسر کو آواز دے کر کہا ،’’ تم یہ کیا کر رہے ہو۔‘‘
یاسر، فہدکی آواز سن کر گھبرا کر پلٹا۔
’’تم پانی پی رہے ہو تمھارا تو روزہ تھا نا؟ فہد نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔
’’نن نہیں تو ...میں وہ … میں تو بس یونہی کْلی کر رہا تھا‘‘ یاسر نے گھبراہٹ چھپاتے ہوئے جواب دیا۔
فہد کو اپنے سب سے اچھے دوست کے روزہ نہ رکھنے اور پھر جھوٹ بولنے پر افسوس تھا، وہ کچھ کہے بغیر وہاں سے چلا گیا۔ یاسر سمجھ گیا کہ، فہد اس کا جھوٹ جان گیا ہے۔ اسی لیے وہ پریشان ہوگیا کہ، اب مزید اس جھوٹ کو کیسے قائم رکھے یا سچ بتائے تو آخر کس طرح۔ وہ اسی پریشانی میں پورا دن فہد سے بات نہیں کر سکا۔ فہد کا گھر واپس آنے کے بعد بھی موڈ خراب تھا۔ وہ اپنے کمرے میں بیٹھا رو رہا تھا۔ امی کمرے میں آئیں تو اسے روتا دیکھ کر پوچھا’’فہد بیٹا! کیا بات ہے کیوں رو رہے ہو؟‘‘
’’امی جان! آج مجھے بہت دکھ ہو رہا ہے‘‘ یہ کہہ کر وہ اپنی امی سے لپٹ گیا۔
’’کیوں کیا ہوا ہے میرے شہزادے کو؟‘‘ انہوں نے فہدکے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا۔
’’ آج میں نے ہاف ٹائم کے بعد یاسرکو پانی پیتے دیکھا، جب کہ صبح اس نے کہا تھا کہ، اس کا روزہ ہے اور جب میں نے اس سے پوچھا تو اس نے مجھ سے جھوٹ بولاکہ، وہ کلی کر رہا ہے۔ امی ! اللہ تعالیٰ جھوٹ بولنے والوں سے کتنا ناراض ہوتا ہے ناں، پھر رمضان کا مہینے میں تو برے کاموں اور جھوٹ بولنے سے بچنا چاہیے ۔ ‘‘ مجھے افسوس ہے کہ وہ میرا اتنا اچھا دوست ہے پھر بھی مجھ سے اُس نےجھوٹ بولا ۔‘‘ افسوس اور دکھ کی ملی جلی کیفیت میں فہد نے اپنی ماں کی جانب دیکھ کر کہا۔
امی اس کی طرف دیکھ کر آہستہ سے مسکرائیں اور کہنے لگیں کہ، ’’بیٹا، غلطیاں تو سب سے ہوتی ہیں، لیکن اس طرح افسوس کرنے سے کچھ نہیں ہوتا بلکہ غلطی کرنے والے کو پیار سے نیکی کا سبق سکھا کر برائی سے روکا جائے۔
آپ کو بھی یہی کرنا چاہیے۔ یاسر کو پیار سے رمضان کی فضیلت کے بارے میں بتائیں، اس کو نیکی اور برائی میں فرق سمجھائیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کی بھلائی کے لئے اللہ سے ہر نماز میں دعا بھی کریں .. چلیں اب اٹھیں شاباش نماز پڑھیں اور پھر دل سے دعا کریں‘‘۔
’’امی! دل سے دعا کیسے کرتے ہیں؟‘‘
’’بیٹے ! دل سے دعا کا مطلب یہ ہوتا ہے کے پورے خلوص سے دعا کی جائے، ایسی دعا جلدی اللہ کی بارگاہ میں قبول ہوتی ہے۔‘‘ فہد وضو کرنے چلا گیا۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ دعا کے ساتھ ساتھ کوشش بھی کرنی ہے۔ اگلے روز بھی اُس نےیاسر سے کوئی بات نہیں کی، وہ اب بھی اس سے خفا تھا۔
یاسر سے فہد کی خاموشی برداشت نہیں ہو رہی تھی، وہ کئی بار اسے بہانے بہانے سے بلانے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا، تو اُس نے معافی مانگنے کا فیصلہ کر کے اس کی برابر والی کرسی پر بیٹھ گیا۔’’میں نے تم سے جھوٹ کہا تھا، مجھے معاف کر دو پلیز‘‘یاسر شرمندگی سے نظریں جھکائے معافی مانگ رہا تھا۔
فہد نے اس کے ہاتھ پکڑ کر کہا کہ، ’’دیکھو یاسر، اگر یہ معافی تم اس لئے مانگ رہے ہو کہ، میں تم سے بات کر لوں تو اس کا فائدہ نہیں اور اگر اس لئے مانگ رہے ہو کہ، تم واقعی جھوٹ بولنے اور روزہ توڑنے پر شرمندہ ہو تو مجھ سے نہیں اللہ سے معافی مانگو، کیوں کہ روزہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے رکھا جاتا ہے، روزہ صرف بھوک پیاس کا نام نہیں ہے، میرے دوست یہ تمام برائیوں سے خود کو بچانے کا نام بھی ہے۔
اللہ تعالیٰ کو کیا ضرورت ہے کہ وہ اپنے بندے کو بھوکا پیاسا رکھے، جب وہ برائی سے دور ہی نہ ہو، تمہیں اندازہ ہے اس کا کتنا سخت گناہ ہے، اللہ کتنا ناراض ہوگا۔ جب تم نے روزہ نہیں رکھا اور پھر جھوٹ بولا۔
یہ برکتوں والا مہینہ ہے، اس مہینے میں شیطان بند کردیا جاتا ہے، تاکہ مسلمان زیادہ سے زیادہ نیکیاں کما سکیں۔تم جانتے ہو کتنے قسمت والے ہوتے ہیں، وہ لوگ جو اس مہینے کے طفیل برکتیں اور رحمتیں سمیٹتے ہیں۔ امی کہتی ہیں کہ، ہمیں اپنے روزوں کو ہر برائی سے پاک رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ‘‘
’’فہد میں بہت شرمندہ ہوں، اب میں اللہ تعالیٰ کو کیسے راضی کروں؟‘‘ یاسر نے روتے ہوئے کہا۔
’’اللہ سے خلوصِ دل سے رو رو کے معافی مانگو اور آئندہ روزہ گھر والوں کو دکھانے کے لیے نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے رکھنا‘‘ فہدنے محبت سے یاسر کو دیکھ کر کہا۔’’ہاں ٹھیک ہے میں سمجھ گیا ہوں، شکریہ میرے دوست میں کل سے روزے پوری ایمانداری سے رکھوں گا اور اللہ سے بھی معافی مانگوں گا‘‘ یاسر پُرعزم تھا۔
آج فہد بہت خوش اور سکون محسوس کر رہا تھا۔ اس نے دعا کے ساتھ، اپنے دوست کی اصلاح بھی کی۔
پیارے بچو! آپ نے دیکھا کہ فہدنے اپنے دوست کو اس کی برائی کا احساس کس طرح دلایا اور اس کے سمجھانے پر یاسر نے فوراً اپنی غلطی تسلیم بھی کی اور توبہ بھی کرلی، تو بچو آپ بھی جب کبھی کوئی برائی دیکھیں تو اسے دعا اور کوشش سے دور کریں۔