• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

موسم کی تبدیلی قدرت کے نظام کا ایک لازمی حصہ ہے ۔موسم کے ساتھ ساتھ زندگی کے مناظر اور انسانوں کے دن بھی بدلتے رہتے ہیں لیکن قدرت کے اصول کبھی نہیں بدلتے ۔یہ بھی قانونِ قدرت کا ایک حصہ ہے کہ جس اقتدار میں عوام کی شرکت جتنی زیادہ ہوگی وہ اتنا ہی دیر پا اور کامیاب ہوگا ۔بہت سے افراد اور اقوام جو کبھی دنیا کی امامت پر فائز تھے ۔گمنامی کے گہرے غاروں میں گر جاتے ہیں اور بیچارگی کے عالم میں جینے والے ہر طرف اپنی فتح کے جھنڈے گاڑنے لگتے ہیں ۔چنگیز خان اور ہلاکو خان جیسے بے رحم فاتحینِ عالم جنہیں ایک وقت میں مفتوحین کی کھوپڑیوں کے مینار بنانے اور ان کا خون پانی کی طرح بہانے سے ایک انجانی راحت ملتی تھی اور جو خوف و ہراس کی علامت سمجھے جاتے تھے آج تاریخ کے مردہ خانے میں اس طرح دفن ہیں کہ آج کی دنیا اس علاقے کا ذکر تک نہیں کرتی جہاں سے ان کا تعلق تھا۔ جسے منگولیا کہتے ہیں جو آج بھی دنیا کے نقشے پر موجود ہے۔ یہ وہی منگول یا مغل ہیں جنہوں نے پوری دنیا میں اپنی سفاکانہ بہادری کی دھاک بٹھائے رکھی تھی ۔ جنہوں نے عباسی سلطنت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی اور بغداد کو ایک مرتبہ صفحہءِ ہستی سے مٹا دیا تھا ۔ان منگولوں یا مغلوں نے قطب الدین ایبک کے دور سے لیکر ابراہیم لودھی کے زمانے تک ہندوستان پر بھی کئی حملے کیےتھے ۔ابتدا میں تو وہ ناکامی سے دوچار ہوتے رہے لیکن امیر تیمور کے زمانے میں انہیں پہلی کامیابی حاصل ہوئی اور وہ سلطنت دہلی پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے اس وقت تک منگول مشرف بہ اسلام ہو کر مغل بن چکے تھے لیکن ان کی فطرت میں وہی ظلم اور خونریزی پائی جاتی تھی جو ان کے آباؤاجداد میں تھی۔ امیر تیمور کے دہلی پر حملے اور اس کے نتیجے میں دہلی شہر کی مکمل تباہی کی داستانیں آج بھی خون کے آنسو رلا دینے والی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ امیر تیمور کو ہندوستان پر حکومت کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اور وہ ہندوستان کو لوٹ کر واپس اپنے وطن روانہ ہو گیا اور اپنے پیچھے تباہی کی لاتعداد کہانیاں چھوڑ گیا ،اس نے اپنی ہوس گیریء دولت میں نہ تو کسی بڑے چھوٹے کا لحاظ کیا اور نہ ہی کسی بھی مذہب کو ماننے والے کا۔ اس نےتو ایک مسجد میں پناہ لینے والے اپنے 500 ہم مذہب مسلمانوں کو بھی نہ چھوڑا ۔ البتہ 1526میں ہندوستان پر حملہ کرنے والے مغلوں نے بابر کی قیادت میں جب ہندوستان پر اپنی فتح کے جھنڈے گاڑے تو اس وقت تک مغل وسطی ایشیا اور ایران کی شاندار تہذیب سے اتنے مہذب ہو چکے تھے کہ ان کے اقتدار کو نہ صرف ہندوستان کے عوام نے دل سے قبول کیا بلکہ ان کے دور میں ہندوستان دنیا کی ترقی یافتہ قوموں میں شمار ہونے لگا۔

صرف یہی نہیں وہ سرکش منگول جو اپنی پوری غارت گری کے باوجود ہندوستان کی سرزمین پر اپنے قدم نہیں جما سکے تھے بعد میں مقامی لوگوں کے اشتراک کیساتھ 300سال سے زیادہ ہندوستان پر حکومت کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ بھی مغلوں کا ہی کارنامہ ہے کہ ہندوؤں نے بعد میں آنیوالے انگریزوں کی نسبت مغلوں کو ترجیح دی کیونکہ صدیوں سے مغلوں نے نہ صرف بیرونی حملہ آوروں سے ہندوستان کی حفاظت کی تھی بلکہ ہندوستان کی دولت کو ہندوستان کے اندر ہی خرچ کیا تھا اور اسے باہر نہیں لے کر گئے تھے۔ جسکی وجہ سے مقامی ہندو آبادی بھی مغلوں کو دھرتی کے بیٹے تسلیم کرنے لگی اور انہوں نے 1857ءکی جنگ آزادی میں انگریزوں کے خلاف بہادر شاہ ظفر کو اپنا بادشاہ تسلیم کرتے ہوئے انگریزوں سے جنگ کی۔ یہ ہندوستانی تاریخ میں ہزار سالہ مسلم اقتدار کے دوران پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ پورا ہندوستان بلا لحاظِ مذہب و رنگ و نسل، ’’ہندوستانی قومیت ‘‘ کے رنگ میں رنگا گیا اور ہندوستانی عوام کا یہی اتحاد نہ صرف جنگِ آزادی کا سبب بنا بلکہ انگریز سامراج کیلئے سب سے بڑا خطرہ بھی۔ جس کا مقابلہ کرنے کے لیے انگریزوں کو ایسٹ انڈیا کمپنی کے اقتدار کو لپیٹ کر اسے زیادہ زیرک سیاستدانوں کے حوالے کرنا پڑا یعنی یہ اقتدار اب ایسٹ انڈیا کمپنی کی بجائے برطانوی حکومت کے حوالے کر دیا گیا جو بظاہر تو ایک بادشاہت تھی لیکن عملی طور پر وہاں عوام کے منتخب نمائندوں کی حکومت تھی۔ ہندوستان کی جنگِ آزادی جس کا سبب ایسٹ انڈیا کمپنی کی متشدد حکمتِ عملی تھی۔ وہ تو ہندوستان کو زیادہ دیر تک محکوم نہ رکھ سکی لیکن جب اس کا اقتدار سیاسی لوگوں کے ہاتھ میں آیا تو تعداد میں انتہائی قلیل ہونے کے باوجود محض اپنی سیاسی حکمت عملی کی وجہ سے وہ مزید ایک سو سال تک حکومت کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔تاریخ کا یہ ایک ورق بتاتا ہے کہ بادشاہت کے آمرانہ ادوار میں بھی انہی بادشاہوں کی حکومت کو استحکام نصیب ہوا جنہوں نے تلوار کا کم سے کم استعمال کیا اور عوام کے دل جیتنے کیلئے ان کے گروہوں کو حکومت میں نمائندگی دی ۔اگر اس زمانے میں بھی جب اقتدار اور تلوار دونوں ہم معنی الفاظ سمجھے جاتے تھے، عوام کا دل جیتنے کیلئے ان کی خوشنودی کا خیال رکھا جاتا تھا تو آج کے دور میں کیسے ممکن ہے کہ عوام کو ان کے بنیادی حقوق دیے بغیر زیادہ دیر تک مطمئن رکھا جا سکے۔ آج کے اشعار

قفس میں تو وہی جبرِ کہن کا موسم ہے

ذرا بتاؤ تو کیسا چمن کا موسم ہے

ابھی بہار کے نغمے بھی خوں رلائیں گے

ابھی تلک یہاں دار و رسن کا موسم ہے

تازہ ترین