بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی بیماری کے معاملے کو اگر سوشل میڈیا کے شور، ٹی وی اسکرینوں کی چیخ و پکار اور فوری سیاسی ردِعمل سے ہٹا کر دیکھا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ یہاں اصل تنازع نہ آنکھ ہےنہ علاج نہ میڈیکل رپورٹ۔ اصل لڑائی طاقت، کنٹرول بیانیے اور سیاسی راستہ نکالنے کی ہے۔ عمران خان کی آنکھ سے جڑی خبر محض ایک ٹرگر بنی اصل کہانی اس کے بعد شروع ہوئی اور پھر یہ کہانی اتنی پھیلتی چلی گئی کہ اس میں جذبات سیاست، خوف دباؤ اور ریاستی احتیاط سب کچھ شامل ہوتا چلا گیا۔سب سے پہلے اس معاملے کو انسانی سطح پر سمجھنا ضروری ہے۔ عمران خان اس وقت جیل میں ہیں اور جیل محض قید کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی فضا ہے جہاں غیر یقینی بے بسی اور ذہنی دباؤ مسلسل موجود رہتا ہے۔ بیماری اگر اس ماحول میں لاحق ہو جائے تو وہ محض جسمانی مسئلہ نہیں رہتی، بلکہ ذہنی خوف میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خاندان بالخصوص بہنوں کا ردِعمل فطری ہے۔وہ ایک قیدی بھائی کو دیکھتی ہیں جس کی صحت ان کیلئے سب سے اہم ہے۔ الزام شکوک اور سخت الفاظ اسی خوف کا اظہار ہوتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سیاست کو رک جانا چاہیے، مگر پاکستان میں سیاست اکثر اسی مقام سے شروع ہوتی ہے۔جیسے ہی یہ معاملہ خالص انسانی دائرے سے نکلتا ہےوہ ایک منظم سیاسی فریم میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہاں سے آنکھ محض ایک عضو نہیں رہتی بلکہ ایک علامت بن جاتی ہے۔ قیدی کی بیماری ،جان کو خطرہ، انسانی حقوق اور ممکنہ سانحے کا خدشہ یہ سب وہ الفاظ ہیں جو بظاہر سیاست سے بالاتر دکھائی دیتے ہیں مگر درحقیقت سب سے طاقتور سیاسی ہتھیار ہوتے ہیں۔ جب سیاسی جدوجہد کے باقی تمام راستے بند ہو جائیں عدالتوں سے فوری ریلیف نہ ملے اسٹیبلشمنٹ سے تصادم سیاسی اسپیس کو محدود کر دے اور اسٹریٹ پاور وہ اثر کھو بیٹھے جو کبھی اسکی پہچان تھی تو اخلاقی دباؤ ہی واحد مؤثر راستہ بچتا ہے۔اسی مقام پر بیماری کو محض طبی معاملہ رہنے نہیں دیا جاتا بلکہ اسے ایک بڑے ظلم ،ایک ممکنہ المیے اور ایک اخلاقی بحران کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مقصد علاج نہیں رہتا مقصد دباؤ بن جاتا ہے۔ بیانیہ یہ تشکیل دیا جاتاہے کہ اگر کچھ ہوا تو ذمہ داری ریاست پر ہو گی۔ریاست اسی لئے اس پورے معاملے میں غیر معمولی حد تک محتاط دکھائی دیتی ہے۔ ہر بیان نپا تلا ہےہر وضاحت دستاویزی ہےاور ہر الزام کا جواب قانون ،ضابطے اور فائل کے ذریعے دیا جا رہا ہے۔ میڈیکل رپورٹس سامنے لائی جاتی ہیں ڈاکٹرز کی آرا شامل کی جاتی ہیں جیل قوانین کی تشریح کی جاتی ہے اور یہ باور کرایا جاتا ہے کہ قیدی کو وہی سہولیات میسر ہیں جو قانون اجازت دیتا ہے۔ یہ احتیاط کسی کمزوری کی علامت نہیں بلکہ اس خوف کی عکاس ہے کہ کہیں ماضی کی طرح ایک انسانی معاملہ مکمل سیاسی طوفان میں تبدیل نہ ہو جائے۔
اصل سوال مگر یہاں اور بھی گہرا ہے۔ کیا یہ سب کچھ کسی این آر او کی طرف بڑھنے کی کوشش ہے؟ اگر اسے رسمی اور لفظی معنوں میں دیکھا جائے تو کوئی کھلی درخواست ،کوئی تحریری مطالبہ یا کوئی واضح پیشکش سامنے نہیں آئی۔ مگر سیاست ہمیشہ الفاظ میں نہیں عمل میں کھیلی جاتی ہے۔ یہاں جو کچھ ہو رہا ہے وہ براہِ راست مانگ نہیں بلکہ راستہ ہموار کرنے کی کوشش ہے۔ پہلے انسانی مسئلہ اجاگر کیا جاتا ہے پھر ہمدردی پیدا کی جاتی ہے پھر یہ تاثر قائم کیا جاتا ہے کہ اگر معاملہ نہ سنبھالا گیا تو اس کے نتائج ریاست کیلئے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ یہ وہی پرانا سیاسی طریقہ ہے جو ماضی میں مختلف ادوار میں استعمال ہوتا رہا ہے۔لیکن اس بار ایک بنیادی فرق نمایاں ہے۔ ریاست کا مزاج پہلے جیسا نہیں رہا۔ فوری دباؤ میں دی گئی رعایتوں سے گریز کیا جا رہا ہے۔ نہ پسِ پردہ اشارے ہیںنہ مذاکراتی زبان نہ وقتی حل کی تلاش اس بار پیغام واضح ہے کہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر سہولت دی جائے گی مگر اس دائرے سے باہر نکل کر کوئی سیاسی رعایت نہیں ہو گی۔یوں اس پوری کہانی میں تین بیانیے ایک دوسرے سے متصادم نظر آتے ہیں۔ خاندان کا بیانیہ جذباتی ہے، جماعت کا بیانیہ سیاسی ہے اور ریاست کا بیانیہ انتظامی اور قانونی ۔مسئلہ بظاہر آنکھ کا ہے مگر اصل لڑائی نظر کی ہے کون کس زاویے سے دیکھے گا اور کس زاویے کو غالب تسلیم کیا جائے گا۔اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ جماعت وقت خریدنا چاہتی ہے۔ وقت تاکہ سیاسی درجہ حرارت برقرار رہے کارکن متحرک رہیں اور بیانیہ زندہ رہے۔ ریاست وقت کو اپنے حق میں رکھنا چاہتی ہے تاکہ جذبات ٹھنڈے ہوں دباؤ تحلیل ہواور معاملہ قانون کے دائرے میں واپس آ جائے۔ بین الاقوامی دنیا اس سارے منظرنامے کو خاموشی سے دیکھ رہی ہے، کیونکہ اس کیلئےسب سے اہم چیز استحکام ہے کسی فرد کی سیاست نہیں۔