ہم پاکستانیوں کے لیے ماہِ رمضان کی ایک تاریخی اہمیت یہ بھی ہے کہ93ہجری (712ء)کے ماہِ صیام کی دس تاریخ کو اسلامی لشکر نے سندھ فتح کیا، جس سے خطّے میں اسلام کی’’باقاعدہ‘‘ آمد ہوئی اور یوں یہ خطّہ’’باب الاسلام‘‘کے لقب سے سرفراز ہوا۔’’باقاعدہ‘‘ اِس معنی میں کہ سندھ یا موجودہ بھارت کی ساحلی بستیوں کا اِس واقعے سے پہلے بھی دینِ اسلام سے تعارف تھا اور یہاں کے کچھ افراد کی نبی کریمﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضری کے تاریخی شواہد بھی ملتے ہیں، تاہم فتحِ سندھ سے اسلام کی تبلیغ و ترویج کا وسیع پیمانے پر سلسلہ شروع ہوا۔
محمّد بن قاسم کی قیادت میں آنے والے اسلامی لشکر نے کئی ماہ کی کوششوں کے بعد یہاں راجا داہر کے اقتدار کا خاتمہ کیا تھا اور اِس ضمن میں مختلف علاقوں میں کئی معرکے لڑے گئے۔ ’’راوڑ‘‘ کی جنگ میں اسلامی فوج کو فیصلہ کُن فتح حاصل ہوئی کہ اِسی لڑائی میں راجا داہر مارا گیا تھا، مگر اِس کام یابی کا آغاز دیبل سے ہوا تھا، جس کی فتح نے اسلامی لشکر کے لیے مزید کام یابیاں ممکن بنائیں۔
یہاں یہ امر واضح رہے کہ ماہرین ابھی تک تاریخی شہر’’راوڑ‘‘ کے محلِ وقوع سے متعلق کوئی حتمی رائے قائم نہیں کرسکے ہیں، البتہ زیادہ تر کا خیال ہے کہ یہ قلعہ، حیدرآباد اور ٹنڈو محمد خان کے درمیان کہیں واقع تھا۔ اِسی طرح’’یومِ باب الاسلام‘‘ کے موقعے پر یہ بحث بھی تازہ ہوجاتی ہے کہ دیبل کا وہ قلعہ یا شہر کہاں واقع تھا، جس پر خطّے میں سب سے پہلے اسلامی پرچم لہرایا گیا۔ اِس ضمن میں مختلف مؤرخین نے قدیم عربی، انگریزی زبانوں کی کتب اور آثارِ قدیمہ کی بنیاد پر کراچی، بھنبور، لاہری بندر، پیر پٹھو اور ٹھٹہ سمیت کئی مقامات کو دیبل قرار دیا ہے۔
پیر حسّام الدین راشدی نے اپنے 1966ء میں شایع ہونے والے ایک مقالے میں قدیم عربی ماخذات کے حوالوں سے دیبل شہر کی موجودگی ثابت کی ہے، یعنی یہ شہر کوئی قصّہ کہانی نہیں، بلکہ ایک زمانے میں اِسی نام سے وجود رکھتا تھا۔ اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ’’دیبل شہر کے 658ہجری(1260ء) تک موجود ہونے کے شواہد ملتے ہیں، تاہم اُس وقت اس کی بندرگاہ کی اہمیت ختم ہوچُکی تھی اور یہ ایک گاؤں کی شکل اختیار کرگیا تھا، جب کہ قریب میں ٹھٹہ شہر تیزی سے آباد ہو رہا تھا، اِس لیے بعد کے بعض مؤرخین نے اُسے ہی دیبل سمجھ لیا اور یہی وجہ ہے کہ کئی قدیم کتب میں ٹھٹہ، دیبل کے الفاظ ایک ساتھ آئے ہیں۔‘‘ جیسے’’آئینِ اکبری‘‘ میں ابوالفضل نے ٹھٹہ کو دیبل لکھا ہے۔
اِسی طرح کئی ایک نے ایک اور قریبی بندرگاہ، لاہری کو دیبل کہا ہے۔ ’’تحفۃ الکرام‘‘ جیسی معروف کتاب کے مصنّف، میر علی شیر قانع نے بھی ایک مقام پر لاہری بندر کو’’پرانا دیبل‘‘تحریر کیا ہے۔ علّامہ سیوطی نے اپنی کتاب’’تاریخ الخلفاء‘‘میں280ہجری کے ایک زلزلے کے نتیجے میں دیبل کی تباہی کا ذکر کیا ہے، مگر ڈاکٹر نبی بخش بلوچ نے اسے غیر مستند قرار دیا ہے۔ اُن کے مطابق، اصل لفظ’’اردبیل‘‘ تھا، جو کاتب کی غلطی سے دیبل ہوگیا۔
مرزا قلیچ بیگ کی 1922ء میں شایع ہونے والی سندھی زبان کی کتاب میں، جس کا 2014ء میں’’ قدیم سندھ:اُس کے مشہور شہر اور باشندے‘‘ کے عنوان سے اُردو ایڈیشن منظرِ عام پر آیا، دیبل سے متعلق بتایا گیا ہے کہ’’جب سندھ پر رائے گھرانے کے راجاؤں کی حکومت تھی، تب اس کے الگ، الگ چار حصّوں پر چار حُکم ران تھے۔ ایک حاکم برہمن آباد میں رہتا تھا، جس کے زیرِ حکومت دیبل، نیرون کوٹ اور آس پاس کے علاقے تھے۔
دوسرا حاکم سیوستان، تیسرا اسکنداھ (اُچ) اور چوتھا حکم ران ملتان میں ہوتا تھا۔ چچ(راجا داہر کا باپ) کے راج میں، اگم لوہانہ، برہمن آباد کا حاکم تھا اور دیبل سے سمندر تک کا علاقہ اُس کے ہاتھ میں تھا۔‘‘ مؤرخین کا عرب مصنّف، بلاذری کی کتاب’’فتوح البلدان‘‘ کے حوالے سے کہنا ہے کہ اسلامی لشکر نے دیبل، بھروچ اور تھانہ کی تین بندرگاہوں پر دوسرے خلیفۂ راشد، حضرت عُمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دَور میں 15 ہجری میں حملہ کیا تھا۔
پھر عبیداللہ بن نیھان اور بدیل نے711 ہجری میں یہاں کا رُخ کیا تھا۔ یعنی محمّد بن قاسم سے ایک برس قبل۔ معروف محقّقین، ڈاکٹر نبی بخش بلوچ اور علّامہ داؤد پوتا نے اِن دونوں مسلم کمانڈرز کی قبور سے متعلق جو تحقیق اپنی کتب میں درج کی ہیں، وہ بہت سے قارئین کے لیے ہضم کرنا ممکن نہیں، اِس لیے ہم اُس کا ذکر کیے بغیر آگے بڑھیں گے۔ چار بڑے عربی جغرافیہ دان یا سیّاح مسعودی، اصطخری، ابنِ حوقل اور مقدسی بھی دیبل آئے، جس کا اُنھوں نے اپنی کتابوں میں ذکر بھی کیا۔
’’کراچی تاریخ کے آئینے میں‘‘محمّد عثمان دموہی کی کراچی پر ایک تحقیقی و حوالہ جاتی کتاب ہے، جس کے ابتدائی صفحات میں اُنھوں نے مختلف مؤرخین کے بیانات کی روشنی میں کراچی کے دیبل ہونے پر بحث کی ہے۔ عرب مؤرخ، ابنِ حوقل کے مطابق، دیبل ایک بڑی سمندری بندرگاہ تھی اور اِس شہر کے نزدیک ایک جھیل تھی، جس کے مشرق میں دریائے مہران بہتا تھا۔ مقدسی کا کہنا ہے کہ دیبل، ساحلِ سمندر پر اِس طرح واقع تھا کہ سمندر کے چڑھاؤ کے وقت سمندری پانی شہر کی دیواروں سے ٹکراتا تھا۔
یہاں کے لوگ عربی اور سندھی، دونوں زبانیں بولتے تھے۔ سمندری پانی اکثر بازاروں میں آجاتا۔ ادریسی کا بیان ہے کہ چین اور ہندوستان کے جہاز دیبل آتے اور مسقط کی پیداوار بھی جہازوں کے ذریعے یہاں لائی جاتی۔ یورپی تاریخ داں، ایلیٹ کے مطابق، دیبل، منصورہ سے چھے منزل کے فاصلے پر تھا۔ یہ فاصلہ حیدرآباد کا بنتا ہے اور نہ ہی ٹھٹہ کا، لہٰذا اس کا اطلاق کراچی ہی پر ہوتا ہے۔ اِسی طرح کے دیگر دلائل کی بنیاد پر عثمان دموہی کراچی کے دیبل ہونے کا مقدمہ پیش کرتے ہیں۔
تاہم، آگے چل کر وہ کراچی کے’’دربو‘‘ ہونے کے دلائل کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ جیسے اُنھوں نے اعجاز الحق قدوسی کی تصنیف’’تاریخِ سندھ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ’’دیبل پر حملہ کرنے کے لیے محمّد بن قاسم کی فوجوں کا ضروری ساز و سامان کشتیوں کے ذریعے’’دربو بندرگاہ‘‘ لایا گیا تھا، کیوں کہ اُس وقت دیبل سے قریب دربو کے سِوا کوئی اور بندرگاہ نہیں تھی۔‘‘ اِس حوالے سے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دیبل، کراچی کے علاوہ کوئی اور شہر تھا۔
محمودہ رضویہ کی’’ملکۂ مشرق‘‘ کراچی پر شایع ہونے والی اوّلین کتب میں شامل ہے۔ اُنھوں نے دیبل کے ضمن میں لکھا ہے کہ’’وہ عرب خواتین و مرد، جنہیں بحری ڈاکوؤں نے اغوا کرلیا تھا، اُنھیں دیبل کے ایک مندر میں قید رکھا گیا تھا۔ یہ دراصل منوڑا کا قدیم مندر تھا، جسے فتحِ سندھ کے وقت توڑ دیا گیا تھا، مگر بعد میں ہندوؤں نے قدیم مندر کی یاد میں اس کی پرانی جگہ پر ایک نیا’’دریا لال‘‘ نامی مندر تعمیر کروایا تھا۔‘‘ ایک عرصے تک کراچی ہی کو دیبل قرار دیا جاتا رہا ہے، مگر اب بیش تر مؤرخین اِس امر پر متفق ہیں کہ تاریخی شہر دیبل، کراچی نہیں، بلکہ موجودہ بھنبور کے مقام پر تھا۔
اگر ہم کراچی سے نیشنل ہائی وے پر سفر کرتے ہوئے ٹھٹہ کی جانب جائیں، تو تقریباً65 کلومیٹر کے فاصلے پر دھابیجی کے قریب، دائیں ہاتھ کی طرف ایک راستہ جاتا ہے، جہاں سے پانچ کلومیٹر اندر بھنبور کے کھنڈرات موجود ہیں۔ سندھ کی تاریخ پر لکھی گئی پہلی کتاب،‘‘فتح نامہ سندھ‘‘ عرف’’ چچ نامہ‘‘ ہے، جس میں اسلامی لشکر کی جانب سے سندھ کی فتح کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ سندھی ادبی بورڈ کی جانب سے’’چچ نامہ‘‘ کا جو اُردو ترجمہ شایع ہوا ہے، اُس میں معروف محقّق، ڈاکٹر نبی بخش بلوچ نے دیبل کی نشان دہی سے متعلق بہت تفصیل سے اپنی تحقیقی رائے بھی پیش کی ہے۔
اُنہوں نے مختلف تاریخی حوالوں، قدیم عربی اور انگریزی کتب، خطّے کی جغرافیائی صُورتِ حال، سمندری کھاڑیوں اور دریائے سندھ کے بہاؤ وغیرہ کی بنیاد پر یہ فیصلہ سُنایا ہے کہ تاریخی دیبل شہر وہیں تھا، جہاں آج بھنبور ہے۔ اُنھوں نے مختلف سیّاحوں، جغرافیہ دانوں اور تاریخ نویسوں کے چشم دید بیانات سے تین نکات اخذ کیے ہیں۔ اوّل، دیبل، مہران(دریائے سندھ) یا اُس کی کسی شاخ کے کنارے پر نہیں تھا۔ دوم، دیبل، مہران کے مدخل سے کافی فاصلے پر مغرب کی طرف تھا۔
سوم، دیبل، بحری ساحل کی بندرگاہ تھا۔ پھر وہ مختلف دلائل کی بنیاد پر یہ رائے قائم کرتے ہیں کہ’’ دیبل شہر، ساکرو نار(موجودہ بگھیاڑ شاخ) کے قدیم پیٹے(جو میرپور ساکرو میں نمایاں طور پر موجود ہے) سے لے کر کراچی تک، درمیان میں کسی مقام پر تھا۔‘‘ اِن مقامات میں کراچی، کلفٹن، گسری(گذری)، واگھودر(ابراہیم حیدری)، بھنبور، رتو کوٹ، ماڑی مورڑو، ستون والی مسجد، دھاراجا، جاکھی بندر اور راناکوٹ کی بستیاں شامل ہیں۔
گویا، اِن بستیوں ہی میں سے کوئی دیبل شہر تھا۔ وہ کراچی کو تو اِس دلیل کی بنیاد پر بحث ہی سے خارج کردیتے ہیں کہ 1725ء سے پہلے اِس مقام پر کوئی بندرگاہ نہیں تھی۔ کلفٹن اور گذری نئی بستیاں ہیں، جب کہ ابراہیم حیدری میں ایک ویران بستی کے آثار پائے جاتے ہیں، اِسی طرح رتو کوٹ، ماڑی مورڑو، ستون والی مسجد، دھاراجا، جاکھی بندر اور راناکوٹ میں بھی قدیم آثار موجود ہیں۔
وہ اِن تمام آثارِ قدیمہ کے جائزے کے بعد اِس نتیجے پر پہنچے کہ ابراہیم حیدری (کراچی کی ایک نواحی ساحلی بستی)، بھنبور، ماڑی مورڑو اور ستون والی مسجد میں سے کسی ایک مقام کو دیبل قرار دیا جاسکتا ہے۔ بعدازاں، اُنھوں نے بحث سمیٹتے ہوئے مختلف دلائل کی روشنی میں اِس رائے کا اظہار کیا ہے کہ بھنبور ہی دیبل ہوسکتا ہے۔
ہمیں گزشتہ دنوں بھنبور کے آثارِ قدیمہ دیکھنے کا موقع ملا۔ اِس سائٹ میں داخل ہوں، تو پہلے ایک شان دار میوزیم بنایا گیا ہے اور پھر کچھ فاصلے پر تاریخی شہر کے دریافت شدہ آثار ہیں۔ میوزیم کے داخلی راستے پر نصب بوڑد پر درج تحریر کے مطابق، اساتذہ اور گروپ کی صُورت آنے والے طلبا وطالبات سے داخلے کی فیس وصول نہیں کی جاتی۔ میوزیم کی مرکزی عمارت کے باہر منجنیق کا ماڈل آویزاں ہے۔ ہم نے تصاویر میں تو اُس دَور کے اِس جنگی آلے کو کئی بار دیکھا تھا، مگر یوں ماڈل کی صُورت دیکھنے کا یہ پہلا موقع تھا۔
اِس عجائب گھر میں وہ اشیاء رکھی گئی ہیں، جو بھنبور شہر یا قلعے کی کھدائی کے دوران برآمد ہوئیں یا ہو رہی ہیں۔ ہندوستان کے معروف ماہرِ آثارِ قدیمہ، رمیش چندر مجمدار نے 1928ء میں پہلی بار یہاں کھدائی کا آغاز کیا تھا، جو آگے نہیں بڑھ پائی۔ پھر1951 ء میں محکمہ آثارِ قدیمہ کے ایک افسر، لیزلی الکوک کی نگرانی میں یہ کام دوبارہ شروع ہوا، مگر اُن کی تحقیق بعدازاں غلط ثابت ہوئی۔
اُنہیں یہاں اسلامی آثار نہیں ملے تھے، جو بعد کے ماہرین نے ڈھونڈ نکالے۔ 1958ء میں اطالوی اور فرانسیسی ماہرین کی نگرانی میں باقاعدہ کھدائی شروع کی گئی، جس کے دَوران یہاں تین ادوار، سیتھین پارتھی(پہلی صدی قبلِ مسیح سے دوسری صدی قبلِ مسیح)، ہندو، بُدھ مت( دوسری سے آٹھویں صدی) اور مسلمان (آٹھویں سے تیرہویں صدی) کے آثار ملے۔
یعنی آخری اشیاء عباسی دَور تک کی برآمد ہوئی ہیں اور تیرہویں صدی کا یہی وہ زمانہ ہے، جب دیبل کی بندرگاہ اپنی اہمیت کھونے لگی اور قریب میں موجود ایک دوسری بندرگاہ، لاہری بندر نے اِس کی جگہ لے لی۔ اِن ادوار کی اشیاء اِس میوزیم میں ایک ترتیب سے رکھی گئی ہیں۔ یہاں کئی ایسے نقشے اور ماڈلز بھی ہیں، جن کے ذریعے اُس زمانے کا دیبل شہر نظروں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔
مٹّی کے برتن، پتھر، سکّے، زیورات، اوزار اور عام استعمال کی اشیا یہاں کے قدیم باسیوں کے رہن سہن کے طریقوں سے آشنا کرتی ہیں۔ برتنوں پر بنے نقش و نگار میں مختلف جانوروں کی شبیہ بھی نمایاں ہیں۔ کوفی طرزِ تحریر کے نمونے بھی موجود ہیں، جن میں سے سنگِ مرمر کی ایک تختی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ یہاں کی قدیم مسجد سے ملی تھی۔
عجائب گھر کی پُشت کی جانب کئی ایکڑ پر دیبل کے آثار موجود ہیں۔ کھدائی میں قلعے کی فصیل کا خاصا حصّہ واضح ہوچُکا ہے، جب کہ شہر کے کئی دروازے، تجارتی علاقے اور حمام وغیرہ بھی دریافت کیے گئے ہیں۔ یہ قلعہ یا شہر زمین سے خاصی بلندی پر واقع تھا اور صدیاں گزرنے کے باوجود اب بھی یہ بلندی واضح طور پر نظر آتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ دیبل کے قلعے میں بلندی پر ایک مندر تھا، جس پر ایک مقدس جھنڈا لہرا رہا تھا، تو محمّد بن قاسم کی فوج نے منجنیق کے ذریعے بھاری پتھر سے اُسے نشانہ بنا کر گرا دیا، جسے شہر کے باسیوں نے اپنی شکست کی علامت تصوّر کیا۔ دریافت شدہ آثار سے بھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ مندر یہیں تھا۔ ویسے مندر کے ذکر سے ذہن ہندوؤں کی طرف جاتا ہے، حالاں کہ یہ عبادت گاہ ہندوؤں کا مندر نہیں، بلکہ بُدھ مت کے پیروکاروں کی’’وہار‘‘(VIHARA) تھی۔
اُس زمانے کے سندھ میں بُدھ مت کے پیروکاروں کی اکثریت تھی، جب کہ راجا داہر، ہندو تھا، اِس وجہ سے بھی رعایا اور حکومت کے درمیان فاصلے تھے۔یہاں ایک قدیم مسجد کے آثار بھی ملے ہیں، جن پر نصب بورڈ کے مطابق یہ جنوبی ایشیا کی پہلی مسجد ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہاں سے کچھ ایسے کتبے برآمد ہوئے، جن پر خطِ کوفی میں تحریر کردہ عبارت کے مطابق یہ مسجد109ہجری، 727ء میں تعمیر ہوئی تھی۔ یعنی محمّد بن قاسم کی یہاں آمد کے پندرہ سال بعد۔33 ستونوں پر مشتمل یہ مسجد 122 فٹ لمبی اور 120 فٹ چوڑی تھی۔ اِن ستونوں کے آثار اب بھی وہاں دیکھے جاسکتے ہیں۔
مسجد کے دو دروازے بھی برآمد ہوئے ہیں، جب کہ کشادہ صحن بھی دریافت کیا جاچُکا ہے، جو اینٹوں سے بنایا گیا تھا۔ اِن اینٹوں کا کچھ حصّہ اب بھی موجود ہے۔ یہاں اِس امر کا ذکر بھی ضروری ہے کہ بھنبور کے آثارِ قدیمہ پر نصب بوڑد کے مطابق، یہاں جنوبی ایشیا کی پہلی مسجد قائم کی گئی تھی، مگر کئی مؤرخین کا دعویٰ ہے کہ کیرالا(بھارت) کی چیرامن جامع مسجد (Cheraman Juma Mosque) 629ء میں تعمیر ہوئی تھی، یعنی دیبل کی مسجد سے ایک صدی قبل، تو جنوبی ایشیا کی پہلی مسجد کا اعزاز اُسے ہی حاصل ہے۔
اِس ضمن میں بہت سی روایات بھی مشہور ہیں، مگر وہ ’’سینہ گزٹ‘‘ ہی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ دیبل کی مسجد کی قدامت سے متعلق تحریری شواہد موجود ہیں، جو وہاں سے کھدائی کے دوران دریافت ہوئے اور ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے اُنھیں درست بھی تسلیم کیا ، جب کہ چیرامن مسجد کے زمانۂ تعمیر سے متعلق ایسی کوئی ٹھوس شہادت ابھی تک سامنے نہیں آسکی، البتہ، روایات بہت ہیں۔ بھنبور میں بلندی پر کھڑے ہوکر دیکھیں، تو سمندر کی ایک کھاڑی اب بھی وہاں سے قریب نظر آتی ہے، جس کا پانی کبھی یہاں کی فصیلوں سے ٹکرانے کے ساتھ، بازار تک بھی آجاتا ہوگا۔ اب بھی شہر کا بڑا حصّہ کھدائی کا منتظر ہے تاکہ زمین میں دفن مزید راز آشکار ہوسکیں۔