امریکا نے خلیجی ممالک کی تیل کی برآمدات جاری رکھنے کے لیے آبنائے ہرمز کے قریب خفیہ جہاز سے دوسرے جہاز میں تیل منتقلی کا ایک وسیع نظام قائم کر رکھا ہے، اس کارروائی میں فوجی نگرانی، ڈرونز اور ہیلی کاپٹرز کی مدد لی جا رہی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے فجیرہ اور عمان کی بندرگاہ صحار کے قریب مخصوص مقامات پر تیل ایک جہاز سے دوسرے بڑے آئل ٹینکر میں منتقل کیا جا رہا ہے، 11 جون کو حاصل کی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں جہازوں کے 17 جوڑے بیک وقت یہ عمل کرتے دکھائی دیے۔
رپورٹ کے مطابق مئی کے آغاز سے اب تک کم از کم 92 جہاز اس نظام کا حصہ بن چکے ہیں، اندازہ ہے کہ 90 ملین بیرل سے زائد خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات اس نیٹ ورک کے ذریعے منتقل کی جا چکی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ طریقۂ کار وہی ہے جو ایران برسوں سے پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے تاہم امریکا اسے خلیجی تیل کی سپلائی بحال رکھنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جہازوں کے ٹرانسپونڈر بند رکھنے اور رات کے وقت محدود روشنی میں سفر کرنے سے تصادم اور سیکیورٹی خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
امریکی حکام نے جہازوں کے درمیان براہِ راست تیل منتقلی میں فوجی شمولیت کی تردید کی ہے تاہم رائٹرز کا اپنی رپورٹ میں ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے کہنا ہے کہ پورے نظام کی نگرانی امریکی فوج کر رہی ہے۔
رائٹرز کا کہنا ہے کہ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ انتظام وقتی نوعیت کا ہے اور آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈی کو درپیش خطرات بدستور برقرار ہیں۔