• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نفرت انگیز گفتگو: سنگین انسانی المیہ، عالمی امن کے لیے کڑا چیلنج

مشرق و مغرب میں چاہے کوئی اور قدر مشترک ہو، نہ ہو مگر دونوں جگہ نفرت انگیز گفتگو کا چلن معمولی کمی بیشی کے ساتھ عام ہے۔ نفرت انگیز گفتگو (Hate Speech) سے مُراد ایسا زبانی، تحریری یا بصری ابلاغ ہے، جو کسی فرد یا گروہ کے مذہب، نسل، قومیت، رنگت، جنس یا معذوری کی بنیاد پر توہین، تذلیل یا تشدّد کو فروغ دیتا ہو۔

یہ تمام وجوہ سماجی عوامل اور معاشی و سیاسی مفادات کے ساتھ باہم مدغم ہو کر ایک پیچیدہ اور حسّاس منظرنامہ تخلیق کرتی ہیں، جو انتہائی سخت جملوں اور رکیک تبصروں میں تبدیل ہو کر کم و بیش روزانہ ہی ہماری سماعتوں سے ٹکراتا یا تحریری مواد کی صُورت دکھائی دیتا ہے۔

اِسی لیےاقوام متحدہ نےپہلی بار 2019ء میں اس قسم کی گفتگو کے سدِباب کے لیے ایک جامع ایکشن پلان تیار کیااور اُسی کے تحت یہ فیصلہ ہوا کہ ہر سال 18جون کو نفرت انگیز گفتگو کی روک تھام کا عالمی یوم (International Day for Countering Hate Speech) منایا جائے گا،جس کا بنیادی مقصد معاشرے میں بڑھتے ہوئے عدم برداشت کے رویوں، تعصبات اور نفرت انگیز بیانات کےخلاف بے داری پیدا کرنا اور امن و رواداری کوفروغ دینا ہوگا۔ بعدازاں،18 جون2022 ء سے دنیا بھر میں یہ دن باقاعدہ طور پر منایا جانے لگا۔

اگر ہم دُنیا کےمختلف خطّوں میں نفرت انگیز گفتگو کے محرّکات کی ابتدا مذہب سے کریں، تو ’’اسلاموفوبیا‘‘ کی شکار مغربی اقوام میں مسلم مخالف نفرت انگیز گفتگو میں مسلمانوں کی صُورت گری دہشت گرد، انتہا پسند اورمغربی اقدار کو بگاڑنے والوں کے رُوپ میں کی جاتی ہے۔ واضح رہے، مغرب میں یہود دشمنی پر مبنی نفرت انگیز نظریات اورگفتگو کی بھی ایک طویل تاریخ ہے اور امریکا میں کچھ حلقوں میں یہ بات راسخ ہے کہ یہودی میڈیا، بینکاری اور حکومت کو کنٹرول کر رہے ہیں۔

یہاں دِل چسپ اَمر یہ ہے کہ پورے مغرب کی 60 سے 65 فی صد آبادی عیسائیت کی پیروکار ہے اورماضی میں مختلف عیسائی فرقوں کے درمیان خوں ریز جنگیں ہونے کے باوجود آج یہاں مختلف عیسائی فرقوں کے درمیان نفرت انگیز گفتگو کا رواج نہ ہونے کے برابر ہے۔ تاہم، افریقی ممالک میں مذہب اور مسلک کی بنیاد پر نفرت انگیز گفتگو کی شدّت کو قبائلی و معاشی تنازعات دوچند کر دیتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں نفرت انگیز گفتگو کا سبب فرقہ وارانہ تقسیم اورسیاسی اثرورسوخ کی جنگ ہے۔

اگر برعظیم کی بات کریں، تو بھارت میں آباد 80 فی صد ہندوؤں، 14.2 فی صد مسلمانوں، 2.3 فی صد عیسائیوں اور باقی اقلیتوں کی اندرونی کشمکش اکثر نفرت انگیز گفتگو سے بڑھ کر پُرتشدد رنگ اختیار کر لیتی ہے، جب کہ پاکستان کی 96 فی صد سے زائد مسلم آبادی میں مختلف مکاتبِ فکر کے مابین موجود علمی و نظریاتی اختلاف عوامی مکالمے کا موضوع بن گئے ہیں۔ ایک دوسرے کے احترام اور رواداری کی جگہ انتہا پسندی نے لے لی ہے اور بحث نے تکرار کی شکل اختیار کرکے گفتگو کا معیارگرا دیا ہے۔

مخالف کے لیے مخصوص قسم کےجارحانہ اور تحقیرآمیز جملے نجی محافل سے نکل کر عوامی سطح اور سوشل میڈیا پر چھائے ہوئے ہیں، جہاں جذبات کی طغیانی میں تنقید اورگالی کا فرق مٹ کر رہ گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج صرف غیر مسلم ہی ہمیں مسلمان سمجھتے ہیں، جب کہ ہم خُود ایک دوسرے کو معمولی فروعی اختلافات پر دائرۂ اسلام سے خارج کرنے پر تُلے رہتے ہیں۔ تکفیر، الحاد اور توہینِ مذہب کےفتوے اور غیر مُلکی ایجنٹ ہونے کے ساتھ فنڈنگ کے طعنے، مذہبی اقلیتوں کے لیے پیشہ ورانہ اور سماجی تفریق کونمایاں کرتے حقارت آمیزالقابات معاشرے میں کُھلےعام استعمال ہوتےہیں، جب کہ مشرقِ بعید میں مذہبی بنیاد پر نفرت انگیز گفتگو کی شدّت کم ہے۔

دُنیا میں نسل، قومیت، زبان اور رنگت کی بنیاد پر نفرت انگیز گفتگوکی تاریخ خاصی پُرانی اور تلخ ہے۔ امریکا میں ایک عرصے سےمنظّم نسلی تعصّب سےنبردآزما سیاہ فام افریقی نژاد امریکیوں کو عوامی مباحث اور سوشل میڈیا پر مجرمانہ ذہنیت کا حامل اور کم تر نسل بنا کر پیش کیاجاتا ہے، نیز اُنہیں مغربی دُنیا اور دیگر خطّوں میں بدترین لفظی تشدّد کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ نسل پرست گورے، سیاہ فام افراد کی تضحیک کے لیے انہیں ’’سیاہ چمڑی‘‘، ’’بندر‘‘ یا ’’گوریلا‘‘ کہتے ہیں۔

اسٹیڈیمز میں فُٹ بال میچز کے دوران سیاہ فام کھلاڑیوں کو دیکھ کر بندر کی آوازیں نکالنا مغرب میں ایک عام نفرت انگیز رویّہ ہے۔ اِسی طرح مضبوط و مستحکم معیشتوں میں ’’زینوفوبیا‘‘ یعنی غیرمُلکیوں سے بےزاری کا اظہار تارکینِ وطن کو ’’مسائل کی جڑ‘‘ اور ’’اپنے مُلک واپس جاؤ‘‘ کہہ کر کُھلے بندوں کیا جاتا ہے۔ امریکا میں مقیم 52ملین سے زائد تارکینِ وطن، جو کہ آبادی کا 15فی صد ہیں، نفرت انگیز گفتگو کا براہِ راست شکار ہیں۔

یہاں لاطینی امریکا کے باشندوں کو ’’غیرقانونی‘‘ اور ایشیائی نسل کے افراد کو ’’معیشت پر قابض غیرمُلکی درانداز‘‘اورکووِڈ 19کی عالم گیروبا کےبعد’’وبا پھیلانے کے ذمّے دار‘‘ قرار دیا جاتا ہے، جب کہ لاطینی امریکا میں نفرت انگیز گفتگو کی عمارت غیرعلانیہ نسلی نظام، غُربت اور امارت کی بنیاد پر طبقاتی تقسیم اور تارکینِ وطن کو بےروزگاری کا ذمّےدار قرار دینے پر کھڑی ہے۔

برِاعظم یورپ میں تارکینِ وطن کی مجموعی تعداد تقریباً 87 ملین ہے، جن میں سے بیش تر جرمنی، فرانس، اٹلی اور برطانیہ میں مقیم ہیں اور انہیں ’’معاشی بوجھ ‘‘، ’’ٹیکسز پرپلنے والے‘‘، ’’جرائم پیشہ‘‘ اور ’’ثقافت، زبان اور اقدار کو تباہ کرنے والے‘‘ جیسے طعنے دینا معمول ہے۔ یاد رہے، یہ زہر صرف غیر یورپی اقوام کے لیے ہی نہیں اُگلا جاتا بلکہ مغربی یورپ والے مشرقی یورپ والوں کو بھی ’’سستی لیبر‘‘ اور ’’سماجی نظام پربوجھ‘‘ کہنے سے نہیں چُوکتے۔ بعض ممالک میں تو مقامی باشندوں اور قبائل سے متعلق تضحیک آمیز گفتگو وتیرہ بن چُکی ہے اور انہیں ’’ترقّی کی راہ میں رُکاوٹ‘‘ کہہ کر مسترد کیا جاتا ہے۔

افریقی ممالک میں فتنہ انگیزگفتگو کی بڑی وجہ قبیلہ پرستی ہے، جہاں ایک دوسرے کو’’وحشی‘‘، ’’چور‘‘ یا ’’ناقابلِ اعتبار‘‘ کہنا عام ہے۔ عرب دُنیا میں بھی بظاہر ایک زبان اور ثقافت ہونے کے باوجود گہرے اندرونی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ یہاں مقامی باشندوں اور تارکینِ وطن میں طبقاتی خلیج واضح ہے اور سوشل میڈیا پر انہیں مُلک کے ’’وسائل پر بوجھ‘‘ اور ’’جرائم کا سبب‘‘ کہہ کر نشانہ بنایا جاتا ہے۔

قدیم تہذیبوں(مصراورشام وغیرہ) کا امین سمجھ کر اورامیرخلیجی ممالک کے بعض افراد دیگر عربوں کو معاشی طورپرپس ماندہ گردانتے ہوئے طعنے دیتے ہیں۔کچھ عرب معاشروں میں سیاہ فام عربوں یا افریقی نژاد شہریوں کو اب بھی ’’عبید‘‘ (غلام) جیسے توہین آمیز الفاظ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح بھارت میں مسلمانوں کو سوشل میڈیا اور جلسے جلوسوں میں کُھلے عام ’’غدار‘‘، ’’مُلک دشمن‘‘ یا ’’پاکستانی ایجنٹ‘‘ قرار دیا جاتا ہے اور یہاں ’’لَو جہاد‘‘ یا ’’لینڈ جہاد‘‘ جیسی اصطلاحات کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈا عام ہے۔

دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ معاشرہ جتنا پس ماندہ اور غیر مہذّب ہوگا، وہاں صنف کی بنیاد پراُتنی ہی زیادہ نفرت آمیز گفتگو کا رجحان ہوگا۔ مثال کے طور پر پس ماندہ معاشروں میں مَردوں کو’’زہریلی مردانگی‘‘ یعنی مَردوں سے وابستہ دقیانوسی تصوّرات کا دباؤ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یہاں مَردوں کو ہرحال میں سخت اور جارحانہ رویّہ اپنانے پر مجبور کیا جاتا ہے اور سماج اُن کے عام انسانی جذبات مثلا دُکھ، تکلیف، کم زوری یا خوف کے اظہار پر قدغن لگاتا ہے۔

بصورتِ دیگر ان پر بُزدل، نامرد اور زن مرید ہونے کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔ معاشی طور پر آسودہ نہ ہونے والے مَردوں کو ناکام اور بےکار قرار دے دیا جاتا ہے، جب کہ خواتین کی عقل اورصلاحیت پر شُبہ اور روایات سے سرِمُوانحراف کرنے پرکردار، اخلاقیات اور لباس پررائے زنی بیش تر خطّوں میں گوارا ہے۔

ایک خاص عُمرتک غیر شادی شدہ، طلاق یافتہ، بیوہ خواتین اور خواجہ سرا دِل دُکھانے والی گفتگو کا آسان ہدف ہیں، جب کہ صنف کی بنیاد پر طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے روایتی معاشرتی اصولوں پر پورا نہ اُترنے والے افراد کے لیے ناپسندیدہ جملے بازی تشدّد کی راہ ہم وار کرتی ہے۔

نفرت انگیز گفتگو کے پسِ پردہ گہرے اور پیچیدہ نفسیاتی عوامل کارفرما ہوتے ہیں،جوکسی فردکی ذہنی حالت، ماضی کے تجربات اورسماجی اثرات کامرکّب ہوتے ہیں۔ انسان فطری طورپر گروہوں میں رہنا پسند کرتا ہے اور ’’ہم بمقابلہ وہ‘‘ کی نفسیات میں لوگ اپنے گروہ کے لوگوں کو اچّھا، ہم درد، مددگار اور محافظ خیال کرتے ہیں، جب کہ دوسرے گروہ کے لوگوں کو بیرونی خطرہ اور تمام بُرائیوں کی جڑ سمجھا جاتا ہے اور یہی سوچ دوسرے گروہ سے خوف اورعدم تحفّظ کے احساس کو پروان چڑھاتی ہے۔

ڈر اور خوف افراد کو دفاعی پوزیشن پہ لے آتا ہے اور عدم تحفّظ خود کو برتر ثابت کرنے اور دوسرے کو نیچا دکھانے کی ترغیب دیتا ہے اور پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ اپنی زندگی، معاشی حالات اور سماجی حیثیت سے غیرمطمئن افراد اپنی ناکامیوں کی ذمّے داری خُود اُٹھانےکی بجائے سارا ملبہ کسی اقلیت یا دوسرے گروہ پر ڈال کر پُرسکون ہوجاتے ہیں۔ مایوسی اورعدم تحفّظ کے شکار افراد اکثر دوسروں کو مغلّظات بک کریا اُن کی توہین کر کے فرضی طاقت اور برتری کا احساس اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہاں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ نفرت انگیز گفتگو کرنے والے افراد میں نہ صرف احساس کی کمی ہوتی ہے بلکہ ان میں انسان پسندی کے خاتمے کا عمل بھی جاری ہوتا ہے۔ وہ دوسرے گروہ کے افراد کو اپنے جیسا جیتا جاگتا اور جذبات رکھنے والا انسان ہی نہیں سمجھتے۔ علاوہ ازیں، اُن کی توجّہ حاصل کرنے کی خواہش سوشل میڈیا پرمنفی اور نفرت انگیز گفتگو کی پذیرائی کی صُورت میں پوری ہوجاتی ہے۔

نفرت انگیز جملے بظاہر چند الفاظ کا مجموعہ ہوتے ہیں، لیکن یہ سماجی اکائیوں کےدرمیان تفریق، تعصّب اور دشمنی کو اُبھار کر باہمی اعتماد ختم اوردُوریاں پیدا کردیتے ہیں، جس کا لازمی نتیجہ عدم برداشت، تصادم، انتشار اور تشدّد کی صُورت نکلتا ہے اور یہ رویّے نسل در نسل منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ اکثر ایسی گفتگو کا مقصدکسی مخصوص گروہ کےخلاف نفرت پھیلانا یا اُسے نقصان پہنچانا ہوتا ہے اور کسی خاص طبقے سے ایسا امتیازی سلوک اس کے بنیادی حقوق سلب کر کے اُسے تنہا کرنے یا اس کے سماجی بائیکاٹ کا باعث بن سکتا ہے۔

نفرت انگیز گفتگو صرف اختلاف، ناراضی یا نفرت کے اظہارکا ذریعہ نہیں بلکہ یہ ہتھیار کے طور پر مختلف سیاسی وسماجی فوائدحاصل کرنےکے لیے بھی استعمال کی جاتی ہے اور یہ نہ صرف معاشرتی ہم آہنگی بلکہ عالمی امن کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہے۔

آج کے ڈیجیٹل دَورمیں نفرت انگیز گفتگو کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر جعلی ناموں یا اسکرین کے پیچھے چُھپے رہنے کی سہولت نے شناخت کیے جانے کا خوف ختم کر دیا ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی طرف سے فراہم کی گئی گُم نامی، فاصلے اور براہِ راست رابطے کی رعایت نے صارفین کو رُوبرو گفتگو میں برتے جانے والے لحاظ اور مروّت کے تکلف سے آزاد کرکے ایسے خیالات کے اظہارکی بھی جرأت دے دی ہے کہ جو وہ کسی کے سامنے کرتے ہوئے دشواری محسوس کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد میں اضافے کے حوالے سے متعدّد بین الاقوامی تحقیقی رپورٹس اور ڈیٹا موجود ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سوشل میڈیاخصوصاً ’’ایکس‘‘ پرکی جانے والی تحقیق سےثابت ہوا ہےکہ خواتین سیاست دانوں اور صحافیوں کو روزانہ کی بنیاد پربڑے پیمانے پرنفرت اورتضحیک آمیز کمنٹس کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جب کہ پیو ریسرچ سینٹر نے تقریباً 40فی صد سے زائد بالغ صارفین کے انٹرنیٹ پر منفی رویّوں کے شکار ہونے کا تخمینہ لگایا ہے۔

نفرت انگیزمواد پھیلانےمیں سوشل میڈیا الگورتھم کی ساخت کو بھی موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے، کیوں کہ ایسا مواد صارفین کے جذبات برانگیختہ کرکے زیادہ پذیرائی حاصل کرتا ہے۔ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بُک، ایکس، ٹک ٹاک اور واٹس ایپ گروپس پرنفرت انگیز گفتگو، فیک نیوز اور اشتعال انگیز بیانات بغیر کسی فلٹر کے تیزی سے وائرل ہو کر مختلف گروہوں کے درمیان تناؤ اور خلیج کو وسیع کر رہے ہیں۔

یہ صُورتِ حال نفرت انگیز مواد کی روک تھام کے لیے سماجی میڈیا کے فوری اور مؤثر محاسبےکی ضرورت نمایاں کرتی ہے۔ آج کئی ممالک میں ایسے قوانین نافذالعمل ہیں کہ جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو کسی بھی طرح کا اشتعال انگیز مواد فوری طور پر ہٹانے کا پابند کرتے ہیں۔

یہاں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ آزادیٔ اظہارکا مطلب ہرگز ایسی نقصان دہ غلط اطلاعات پھیلانے کی کُھلی آزادی نہیں کہ جن سے لوگوں کو واقعتاً نقصان پہنچے۔ انسانی حقوق کا قانون واضح طور پر کہتا ہے کہ اظہار کی آزادی وہاں ختم ہوجاتی ہے، جہاں سےتفریق، مخالفت یا تشدّد بھڑکانے والی نفرت کا آغاز ہوتا ہے۔

گرچہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے نفرت انگیزمواد کی روک تھام کے لیےکمیونٹی گائیڈ لائنز تشکیل دی ہیں لیکن ان کی بیان کردہ پالیسیز اور ان پرعمل درآمد کے مابین واضح خلا موجود ہے۔ آزادانہ تحقیقات بتاتی ہیں کہ سوشل میڈیا کمپنیاں 70فی صد نفرت انگیزمواد کی نشان دہی کرنے اور اسے ہٹانے میں ناکام رہتی ہیں۔ اہلِ دانش نفرت انگیز گفتگو کے قبح سے بخوبی آگاہ ہیں مگر کچھ عاقبت نا اندیشوں نے اسے پوری دُنیا کے لیے ایک سنگین چیلنج بنا دیا ہے۔

کان میں پڑی ہر آواز پر آنکھ بند کرکے یقین کرنے کی بجائے سطحِ عمومی سے بلند ہو کر خُود اس کا تجزیہ، اخلاقی حدود میں رہ کر شائستہ الفاظ کا چناؤ اور’’جیو اور جینے دو‘‘ کا اصول انفرادی طور پر نفرت انگیز گفتگو کے انسداد کا آغاز ثابت ہوسکتا ہے، تاہم اس کا مکمل سدِباب اقوامِ عالم میں شعور اجاگر کرنے، ابلاغی تعلیم وتربیت کی فراہمی اور جذبات اُکسانے والے مسائل کے دیرپا حل سے مشروط ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید