• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’پانی کب آئے گا…پانی آ رہا ہے…اوہ! پانی چلا گیا‘‘ گرمی ہو یا سردی، کراچی کے عوام بس اِسی فکر میں غلطاں رہتے ہیں۔ یہ صُورتِ حال پوش علاقوں سے لے کر پس ماندہ اور کچّی آبادیوں تک یک ساں ہے۔ ہم پاکستان میں اپنے پروفیشنل کیریئر کے دَوران پانی سے متعلقہ مسائل پر غور کرتے رہے اور اِس ضمن میں امریکا تک جاکر دیکھا کہ بڑے شہروں میں کس طرح پانی سپلائی کیا جاتا ہے۔

کراچی میں پانی کا بحران دراصل اِس اہم ترین سوال سے تعلق رکھتا ہے کہ’’ کیا کراچی کا مسئلہ صرف پانی کی کمی ہے؟‘‘ قطعاً نہیں۔ یہ معاملہ درحقیقت انتظامی نااہلی، ناکارہ اور پرانے انفرا اسٹرکچر، مینٹینینس اور کانٹیجینسی پلان کے نہ ہونے، طویل مدّتی منصوبہ بندی کے فقدان، بدعنوانی، تقسیم کے نظام میں عدم مساوات اور عوام کی عدم فعالیت کا مجموعہ ہے۔

دوسرے الفاظ میں، یہ بحران انتظامی انجینئرنگ اور عوامی بے اعتنائی کا شکار ہے۔ آپ نے حکّام کو اکثر یہ کہتے سُنا ہوگا کہ’’ کراچی کو کنٹرول کرنے والی کوئی ایک اتھارٹی نہیں۔‘‘ کراچی میں پانی کا مسئلہ دو اہم عناصر پر مشتمل ہے۔ اوّل، پانی کی کمی، یعنی پانی ضرورت کے مطابق گھروں اور صنعتوں تک نہیں پہنچ پاتا۔ دوم، پانی کے معاملات میں بدانتظامی۔ اور یہ بات شہر کا ہر باسی، ماہر اور افسر، سب ہی کرتے ہیں۔

نتیجتاً کچھ علاقوں کو ہفتہ وار یا پندرہ روز میں ایک بار صرف چند گھنٹے پانی ملتا ہے، کچھ علاقے مکمل طور پر ٹینکرز پہ انحصار کے لیے مجبور ہیں۔ اب اگر کوئی پانی کا بل ادا نہیں کرتا، تو اس میں زیادہ قصور اداروں ہی کا ہے کہ وہ عوام کو پانی دیں، تو بل بھی ادا ہو ہی جائیں گے۔ جب کہ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اگر کسی چیز کے ساتھ حکومت کا نام منسوب ہو، تو لوگ کیوں اُسے اہمیت نہیں دیتے اور اُسے’’مالِ مفت‘‘ کیوں سمجھتے ہیں۔

کراچی کے پاس تو بلدیاتی کاؤنسلرز کی فوج ہے، جو گھر گھر جاکر عوام کو متحرّک کرسکتے ہیں۔ اگر کراچی میں پانی کے مسئلے کو خالصتاً تیکنیکی نظر سے دیکھا جائے، تو یہ کئی مسائل کا مجموعہ بن چُکا ہے۔ پانی کی پائپ لائنز پَھٹتی رہتی ہیں اور اِسی طرح دھابیجی پمپنگ اسٹیشن بھی آئے روز خبروں میں رہتا ہے۔ شہر میں ٹینکرز مافیا کی موجیں لگی ہوئی ہیں۔غیر قانونی ہائیڈرینٹس دھڑلّے سے چل رہے ہیں۔ ایک بند ہوتا ہے، تو چار نئے کُھل جاتے ہیں۔

پھر شہریوں کو جو پانی دیا جا رہا ہے، وہ بھی کیمیائی تجزیے کے مطابق پینے کے قابل نہیں۔ غیر قانونی پانی کی سپلائی میں سیاسی اثر ورسوخ شامل ہے اور اِسی لیے آپ نے شاید ہی کسی بڑے آدمی کو پانی کی کمی کی شکایت کرتے سُنا ہو۔ اگر دیکھا جائے، تو عوام بھی کم قصور وار نہیں۔ سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ کراچی کے عام شہری پانی کا رونا تو بہت روتے ہیں، لیکن متعلقہ اداروں پر منظّم دباؤ ڈالنے سے قاصر ہیں۔

شہر کی بڑھتی آبادی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جو ایٹم بم سے کم نہیں۔ یہ آبادی بغیر کسی روک ٹوک بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ ہر صوبے سے لوگ’’مِنی پاکستان‘‘ کہتے ہوئے کراچی آتے ہیں، لیکن اُن کے صوبے اِس اندرونِ مُلک نقل مکانی پر ایک پائی تک خرچ کرنے کو تیار نہیں۔ اپنے عوام کو خود روزگار دے نہیں سکتے اور جہاں روزگار ہے، وہاں اپنا حصّہ نہیں ڈالتے۔ صوبوں کے مالیاتی حصّوں پر تو بڑی سیاست ہوتی ہے، کیا کبھی اِس پس منظر میں کراچی کے پانی کا مسئلہ بھی زیرِ بحث آیا؟

آبادی بڑھنے سے شہر انسانوں کا جنگل بن چُکا ہے اور شہر میں بچھائی گئی پائپ لائنز پچاس سال پرانی ہیں۔ کے-تھری منصوبہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں لانچ ہوا، پھر کے-فور منصوبے کا بھی بہت ذکر ہوتا ہے، لیکن عملی اقدامات اور پیسوں کی فراہمی پر سب کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ نیز، شہر کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بھی خاصی کم ہے، جب کہ غیر قانونی کنیکشنز کی بہتات اور جگہ جگہ پانی کے رساؤ سے بھی صُورتِ حال بگڑ چُکی ہے۔

کراچی کو پانی تین ذرائع سے فراہم کیا جاتا ہے۔ دریائے سندھ، حب ڈیم، پھر پمپنگ اسٹیشنز اور پائپ لائنز۔ جب کہ اگر پانی کی فراہمی کے ذرائع میں کمی یا کوئی خلل آجائے، تو شہری پانی کی بوند بوند کے محتاج ہو جاتے ہیں۔ پانی کے بحران میں انتظامی خامیوں، نا اہلی سے لے کر سرمائے کی کمی تک شامل ہے۔ سیاسی ادارے الزام تراشیوں ہی میں لگے رہتے ہیں اور یہ مسئلہ وراثت کے طور پر ایک کے بعد دوسری سیاسی جماعت یا انتظامیہ کو منتقل کر دیتے ہیں۔

پانی کی تقسیم سے کئی ادارے وابستہ ہیں، جیسے واٹر کارپوریشن، میئر، ضلعی انتظامیہ اور حکومتِ سندھ وغیرہ۔ ہماری اطلاعات کے مطابق پانی کے نظام سے متعلق عالمی بینک کی ایک رپورٹ دو سالوں سے کارپوریشن یا حکومتی سرد خانے میں پڑی ہے۔

یہاں ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ شہر کو کئی ادارے چلاتے ہیں اور کسی ایک کی مکمل ذمّے داری نہیں بنتی، اِسی لیے ہر کوئی اپنا اپنا راگ الاپتا اور دوسرے کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے۔ ہمارے ہاں کی ریت یہی ہے کہ ہر مسئلہ التوا میں ڈال دیا جاتا ہے۔ گویا، خود بہ خود حل ہوجائے گا یا لوگ بھول جائیں گے یا خُود ہی اس کا کوئی حل تلاش کرلیں گے۔ یہی حال پانی کی فراہمی کا ہے۔ پورا انفرا اسٹرکچر پرانا اور ناکارہ ہوچُکا ہے۔

آرٹی فیشل انٹیلی جینس کے ذریعے مانیٹرنگ کے جدید طریقوں کی طرف کسی کا دھیان ہی نہیں جاتا۔ جس طرح ہمارے تمام انتظامی و مالیاتی معاملات میں سیاست حاوہ ہے، اُسی طرح کراچی جیسے میگا سٹی کا فراہمیٔ آب نظام بھی سیاست زدہ ہے۔ تمام ہی جماعتیں میئر شپ کے منصب پر رہی ہیں، لیکن کوئی بھی پانی کا مسئلہ حل نہ کرسکی اور نہ ہی کوئی اِس ضمن میں اپنے تجربات شیئر کرنے پر آمادہ ہے۔ آپریشنل فیصلے سیاست کے تابع کردیئے گئے ہیں۔

ہر روز سُننے میں آتا ہے کہ دھابیجی پائپ لائن پَھٹ گئی اور ایک ہفتے شہریوں کا پانی بند رہے گا۔ اِس کا کوئی متبادل انتظام نہیں، حالاں کہ یہ روز کا معمول ہے۔ یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دھابیجی، کراچی کے ضمن میں شہریوں کی لائف لائن ہے۔ دل دھڑکتا ہے، تو جسم میں خون دوڑتا ہے۔ گویا، پائپ لائن کے بار بار پَھٹنے کا مطلب یہ ہوا کہ اِس’’دل‘‘ کو بائی پاس کی فوری ضرورت ہے۔ پانی کی پائپ لائنز ناقص ہوچُکی ہیں۔

زیادہ عرصے تک استعمال سے ان کی دیواریں گل جاتی ہیں۔ یہ پائپ لائنز پانی کے اچانک دباؤ کو، جسے تیکنیکی زبان میں’’واٹر ہیمر‘‘ یا’’پانی کا ہتھوڑا‘‘ کہتے ہیں، برداشت نہیں کرپاتیں اور جب پمپ اچانک بند ہوجائے، تو والو فوراً بند ہوجاتے ہیں، نتیجتاً پریشر کے جھٹکے پائپ لائنز توڑ دیتے ہیں، بالخصوص کم زور حصّہ تو پہلی ہی ضرب میں ٹوٹ جاتا ہے۔

پائپ لائن کے ذریعے پانی بند ہونے کی صُورت میں، ٹینکرز متبادل سپلائی کا ایک راستہ ہے، لیکن اگر یہ’’سروس‘‘ مافیا کی شکل اختیار کر جائے، تو پھر یہ شہریوں کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں اور یہاں ایسا ہی ہو رہا ہے۔ ہر طرف ٹینکر مافیا کا راج ہے، وہ چاہے جس قیمت پر پانی بیچیں، کوئی پوچھنے والا نہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ ٹینکرز کسی باقاعدہ نظم و ضبط کے تحت ہیں اور کیا ان کی تنظیموں کو شہریوں سے کوئی ہم دردی بھی ہے؟ پانی کی بندش میں اِس مافیا کی چاندی ہوجاتی ہے، حالاں کہ ان کا کردار تو صرف پانی کی سپلائی میں معاونت کا ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اِتنے طاقت وَر ہیں کہ انہیں کوئی بھی کنٹرول نہیں کر سکتا، حالاں کہ اگر جدید طریقے اپنائے جائیں، تو یہ مسئلہ بھی حل کیا جاسکتا ہے۔

جیسے ڈیجیٹل ٹینکر ٹریکنگ سسٹم، آن لائن بکنگ، ہائیڈرینٹس پر میڑنگ نظام، پانی کا خودکار جانچ سسٹم، ہر روز سپلائی کیے گئے پانی کی علاقے وار تقسیم ویب سائٹ پر اَپ لوڈ کرنا وغیرہ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک بار سرمایہ لگا کر اس ٹینکر مافیا سے نجات پالی جائے کہ بار بار رونے سے ایک بار رونا بہتر ہے۔ کیا پائپ لائن اور پمپس کے پھٹنے کا کوئی انجینئرنگ کی شکل میں حل موجود ہے؟ بالکل ہے۔ اِس ضمن میں چند باتوں پر غور کرلیں۔

سب سے پہلے تو پائپ لائنز کے جو کم زور سیکشن ہیں، اُنھیں تبدیل کردیں۔ نیز، surge valve ، ایئر والو اور پریشر ریلیف والو نصب کیے جائیں، جو واٹر ہیمر کو روکتے ہیں اور ان پر خرچ بھی کم آتا ہے۔ یہ طریقہ شہریوں کے لیے فوری اور آسان ریلیف ہے۔ علاوہ ازیں، پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے شہریوں کو بھی اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔

رونے دھونے یا نجی محفلوں میں شور مچانے کی بجائے اُنہیں عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ صرف سوشل میڈیا پر پوسٹ لگا کر کام ختم نہ سمجھیں۔ اِس ضمن میں سب سے پہلے تو محلّہ تنظیمیں بنائیں،جن میں بلدیاتی کاؤنسلرز بھی شامل ہوں، بلکہ اُنہیں آگے رکھیں اور متعلقہ حلقوں پر پانی کی درست تقسیم کے لیے دباؤ بڑھائیں۔ پانی بنیادی شہری ضرورتوں میں شامل ہے اور اِس کی فراہمی کوئی احسان نہیں، بلکہ حکم رانوں کی ذمّے داری ہے۔

محلّے کے ساتھ، شہری سطح پر بھی تنظیمیں قائم کی جائیں، جو حکومت سے رابطے میں رہیں۔ یہ تنظیمیں بیرونی سرمایہ کاری میں مد دیں اور نظر رکھیں کہ قرض کا پیسا صحیح جگہ پر لگے۔ یہ تنظیمیں عوامی حمایت اور حکومتی تعاون سے ٹینکر مافیا کا زور توڑیں کہ بڑے سے بڑا شہہ زور بھی عوامی طاقت کے آگے نہیں ٹھہر سکتا۔ لوگوں کو اعتماد دیں کہ یہ سیاسی نہیں، اجتماعی، انتظامی معاملہ ہے۔

پانی فراہمی سے متعلقہ ادارے محلّے اور گھروں کا سروس نظام بہتر بنائیں اور اگر کوئی فالٹ آجائے، تو اس کا فوراً تدارک کیا جائے۔ اپنے علاقے کے لوگوں کو پانی کا بِل دینے کی ترغیب دیں تاکہ اداروں کو سرمایہ مل سکے، جس کے ذریعے نظام میں بہتری لائی جاسکے۔ کمیونٹی کی شکایت کا نظام مرتّب کیا جانا چاہیے۔ میڈیا پریشر بھی ضروری ہے اور اِس ضمن میں سوشل میڈیا کے علاوہ مین اسٹریم میڈیا کو بھی ایسا مواد فراہم کریں، جس سے مسائل سامنے آ سکیں اور ساتھ ہی عوام میں شعور بھی اجاگر ہو۔

میڈیا مالکان اور بڑے اینکرز کو احساس دلائیں کہ جہاں دنیا بھر کے مسائل پر بات کرتے ہیں، ہفتے میں کم ازکم دو، تین بار پانی جیسی بنیادی شہری ضرورت پر بھی بات کی جانی چاہیے اور اِس طرح کے پروگرامز میں حکومت، سیاسی جماعتوں، ماہرین اور شہریوں کو شامل کیا جائے تاکہ تمام شراکت داروں کا نقطۂ نظر سامنے آسکے۔ عوام کو پانی کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لیے مہم چلائی جائے تاکہ پانی ضائع ہونے سے بچایا جاسکے۔

دیکھا جائے تو پانی کی فراہمی صرف کراچی ہی کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ دنیا کے کئی دیگر بڑے شہروں کے باسی بھی ایسی ہی مشکلات سے گزر رہے ہیں۔ کیپ ٹاؤن، میکسیکو سٹی، لاگوس، چنائے اور جکارتا وغیرہ میں بھی آبادی اور انفرااسٹرکچر کی وجہ سے پانی کی فراہمی میں تعطّل آتا رہتا ہے۔

اگر کراچی میں گورنینس بہتر، سیاسی مداخلت ختم اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہوجائے، تو یہاں عوام کے تعاون سے پانی کی بلاتعطّل فراہمی ممکن ہے۔ انجینئرنگ کے لحاظ سے کراچی میں پانی کا مسئلہ تین طریقوں سے حل کیا جاسکتا ہے۔

شہرِ قائد کو ایک فوری اور طویل مدّتی پانی کے ماسٹر پلان کی ضرورت ہے۔ دس سالہ مدّت کے پہلے فیز میں پائپ لائن پھٹنے کے واقعات روکنے کے لیے انتظامات کرنے ہوں گے۔ دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کی ایمرجینسی مینٹیننس کے ساتھ، پریشر سرج کنٹرول ضروری ہے۔ علاوہ ازیں، ٹینکر سروس کی ڈیجیٹلائزیشن بھی ضروری ہے تاکہ کرپشن کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔

غیر قانونی ہائیڈرینٹس کا خاتمہ کیے بغیر بھی مسئلہ حل نہیں ہوپائے گا۔میڈیم پلان میں پائپ لائنز کی مرمّت اور جدید مانیٹرنگ نظام کی تنصیب وغیرہ شامل ہیں۔ لانگ ٹرم پلان پانچ سے پندرہ سال پر محیط ہو، جس میں واٹر سپلائی بڑھانے، ڈی سیلینیشن پلانٹس کی گنجائش میں اضافے اور پانی کی تقسیم کے نظام کی تعمیرِ نو جیسے اقدامات کو ترجیح دی جائے۔

سنڈے میگزین سے مزید