• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’آٹو بریوری سینڈروم‘‘ ایک کم یاب، لیکن سماجی شرمندگی کا باعث بننے والی بیماری

2019ء میں Mark Mongiardo ایک ہائی اسکول میں ڈائریکٹر ایتھلیٹس تھے۔ ایک رات اُنہوں نے ڈنر پارٹی میں شرکت کی، جہاں پیٹ بھر کر بیف رول، بریانی کھائی، کولڈ ڈرنک اور میٹھے مشروبات پیے اور گھر کی راہ لی۔ راستے میں پولیس نے اُن کی گاڑی روکی کہ وہ موبائل فون پر مصروف تھے، جو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ سارجنٹ کو مانگیارڈو کے منہ سے شراب کی بُو آتی محسوس ہوئی، تو اُس نے سوال، جواب شروع کردئیے۔

مانگیارڈو کے انکار پر پولیس نے ایک طبّی آلے (Breathalyzer) کے ذریعے اُن کے خون میں الکحل کی مقدار چیک کی اور حیران کُن طور پر الکحل کی تصدیق ہوگئی۔ ٹریفک سارجنٹ نے پرچا کاٹ کر اُنھیں جیل بھیج دیا۔ مانگیارڈو کو سخت حیرت تھی کہ اُس نے ایک سال پہلے شراب پی اور چالان اب ہو رہا ہے۔

دراصل، اُس کے منہ سے ایک عرصے سے ایسی بُو آ رہی تھی، جس کی وجہ سے اُس کے روزمرّہ امور کے ساتھ، گھریلو زندگی بھی بُری طرح متاثر ہو رہی تھی۔ آخر کسی نے مشورہ دیا کہ جب وہ مے نوشی نہیں کرتے اور پھر بھی بُو سے نجات نہیں مل رہی، تو کسی ڈاکٹر سے معاینہ کروانا چاہیے تاکہ مسئلہ حل ہوسکے۔ لہٰذا، گھر والوں نے نیو یارک کے نامی گرامی گیسٹرو انٹرولوجسٹ ڈاکٹر وِک سے رابطہ کیا، جنہوں نے تفصیلی میڈیکل ہسٹری اور چیک اَپ کے بعد ایک ٹیسٹ کیا، جس میں مانگیارڈو کو چینی سے بَھرا گلاس پینے کو دیا گیا۔

یہ ٹیسٹ تقریباً آٹھ گھنٹوں پر مشتمل تھا۔ ٹیسٹ کے دوران اُسے شراب فراہم نہیں کی گئی، جب کہ وقفے وقفے سے خون کے نمونے لیے جاتے رہے اور بلڈ سیمپل میں آہستہ آہستہ خون میں الکحل کی مقدار0.14فی صد تک جا پہنچی۔ ڈاکٹر وِک لیب روم سے باہر آئے اور مانگیارڈو سے مخاطب ہوئے۔’’تمہیں’’ آٹو بریوری سینڈروم‘‘Auto-Brewery Syndrome (ABS) ہے۔‘‘

77سالہ جُو بارٹنک، ٹیکساس کے رہائشی ہیں۔ اُن کی اہلیہ 74سالہ باربرا کورڈیل نرسنگ کے شعبے سے وابستہ رہیں اور اُنھوں نے’’آٹو بریوری سینڈروم‘‘ پر تحقیق بھی کی ہے۔ وہ اپنے شوہر سے متعلق بتاتی ہیں کہ 2004ء سے مسٹر جُو نشے کی حالت میں رہنے لگے، حالاں کہ وہ شراب نہیں پیتے تھے۔ سمجھ سے بالاتر بات یہ تھی، جب وہ ایسا نہیں کرتے، پھر نشے میں کیوں رہتے ہیں۔2009ء کی بات ہے، مسٹر جُو کو گھر پر شدید دورہ پڑا، مَیں سمجھی، فالج کا اٹیک ہوا ہے، تو فوراً ایمبولینس منگوا لی اور اُنھیں اسپتال منتقل کردیا۔ بلڈ سیمپل لیے گئے، تو اُن میں الکحل کی تصدیق ہوئی، جو 0.37فی صد تھی۔ اِس طرح جُو بارٹنک کو حادثاتی طور پر’’آٹو بریوری سینڈروم‘‘کا مرض تشخیص ہوا۔

اب سوال یہ ہے کہ ’’آٹو بریوری سینڈروم‘‘کیا ہے۔ آٹو کے معنی خودبخود اور بریوری یعنی شراب کشید کرنے کی فیکٹری، مطلب یہ ہوا کہ ہمارے جسم میں ایسی فیکٹری موجود ہے، جو خودبخود شراب بناتی ہے۔ ہمارا نظامِ انہضام (Digestive System) خوراک ہضم کرنے میں مدد کرتا ہے، جس کے دوران لاتعداد بیکٹیریا خوراک میں موجود کاربوہائیڈریٹس(نشاستہ) اور شوگر کو Ethanolمیں تبدیل کردیتے ہیں۔ ایتھنول، الکحوحل کی ایک قسم ہے، جو نشے کا سبب بنتی ہے۔

عام طور پر یہ ایتھنول انتہائی کم مقدار میں بنتی ہے، جو سکینڈز میں ہضم ہوجاتی ہے اور خون میں صفر فی صد رہ جاتی ہے، لیکن آٹو بریوری سینڈروم میں یہ ہوتا ہے کہ ہمارے نظامِ ہاضمہ میں موجود بیکٹیریاز غیر معمولی طور پر زیادہ کام کرتے ہیں، جس کی وجہ سے کاربوہائیڈریٹس اور شوگر سے زیادہ ایتھنول بننا شروع ہوجاتی ہے۔ کسی حد تک تو جگر ایتھنول کو فلٹر کردیتا ہے، مگر جو ضرورت سے زائد ایتھنول ہوتی ہے، وہ خون میں شامل ہوکر نشے کا سبب بنتی ہے۔

ایک تازہ تحقیق کے مطابق، جب آٹو بریوری سینڈروم کے مریضوں کا اسٹول چیک کیا، تو خاص طور پر دوبیکٹیریاE.ColiاورKlebsiella pneumoniaeکی غیر معمولی تعداد پائی گئی، جو اِس طرف اشارہ ہے کہ یہ دونوں بیکٹیریا جسم میں ایتھنول کی پروڈکشن میں بنیادی اور اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک دوسری ریسرچ کے مطابق، ہماری آنتوں میں فنگس جراثیم کی افزائش میں اضافہ ہوجاتا ہے، جو آٹو بریوری سینڈروم کی وجہ بن سکتی ہے۔

ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ اینٹی بائیوٹکس کے استعمال سے نظامِ ہاضمہ میں موجود مفید اور ضرر رساں بیکٹیریاز کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ مفید بیکٹیریا ختم ہونے لگتے ہیں، جب کہ مضرِصحت بیکٹیریا حاوی ہوجاتے ہیں، جس سے فنگس کی افزائش میں غیر معمولی اضافہ ہوجاتا ہے، جو آٹو بریوری سینڈروم کی وجہ بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اِس کا علاج اینٹی فنگل میڈیسن سے کیا جاتا ہے، جس سے یہ مرض کنٹرول میں رہتا ہے۔

مانگیارڈو نے کئی ہفتوں تک اینٹی فنگل میڈیسن استعمال کی، احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے کاربو ہائیڈریٹس اور شوگر فری خوراک لی، کولڈ ڈرنکس، میٹھے یا نشہ آور مشروبات سے پرہیز کیا اور سب سے بڑھ کر اپنے گلے میں طبّی آلہ ’’Breathalyzer‘‘دن بھر لٹکائے رہتا، تاکہ وقتاً فوقتاً جسم میں الکحل کی مقدار چیک کی جاسکے۔ اور یہ ایک طرح سے اُس کا معمول بن گیا تاکہ پولیس کارروائی اور قانونی موشگافیوں سے بچا جا سکے۔

ہمیں بھی’’آٹو بریوری سینڈروم‘‘ کے پیشِ نظر اپنی خوراک کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ کم شوگر، کاربوہائیدریٹس والی غذائیں کھائیں، کولڈ ڈرنکس، میٹھے مشروبات، فاسٹ فوڈز کا استعمال اعتدال سے کریں، جب کہ نشہ آور اشیاء سے مکمل پرہیز کے ساتھ، غیر ضروری اینٹی بایوٹیکس سے بھی بچیں۔

واضح رہے، آٹو بریوری سینڈروم نامی یہ بیماری بہت کم افراد کو لاحق ہوتی ہے، لیکن بہرحال اپنا وجود رکھتی ہے۔ ہمارے ہاں چوں کہ ریسرچ کی کمی ہے، تو اسی سبب بہت سی بیماریاں اب بھی ہماری نظروں سے اوجھل ہیں۔ (مضمون نگار، سِول اسپتال، حیدرآباد سے بطور چیف میڈیکل آفیسر، شعبہ گیسٹرو انٹرولوجی منسلک ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید
صحت سے مزید