• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شاہ نواز میں یُوں تو سات حروف ہیں، مگر یہی سات جب شاہ نواز زیدی کے نام میں آن چمکتے ہیں، تو کبھی سات سُر بن جاتے ہیں، کبھی سات رنگ، کبھی سات آسمانوں کا رُوپ دھار لیتے ہیں، تو کبھی ہفتے کے سات دِنوں کا کہ جن میں سے ہر دن اپنے رنگ ڈھنگ میں انوکھا، نرالا ہوتا ہے۔ ہم نے کم ہی کوئی ایسا سمپورن آدمی دیکھا کہ جس میں ہر آرٹ کا الگ تھلگ مگر مکمل خانہ ہو۔

یہ صاحب ایسی ہی سمپورن راگنی ہیں۔ ان سے ملاقاتوں کا سلسلہ دراز بھی ہے اور ماضی کی چراغ بھری گلیوں میں دُور تلک پھیلا ہوا بھی۔ سن تو ٹھیک سے دھیان میں نہیں، لیکن پہلی بار ان کا نام مَیں نے اپنے تایا سُسر اور تائی ساس یعنی ظفر اللہ اور ڈاکٹر کنول امین کی زبانی سُنا۔ یہ دونوں پاکستان کے معروف گلوکار اور اداکار علی ظفر کے والدین ہیں۔ آرٹ اور میوزک اُن کے ہاں یُوں رچا بسا ہے، جیسے موتیے میں صبحِ دم خوشبو۔

شاہنواز زیدی کا نام آتا تو ان سب کے پاس تعریف ہی تعریف ہوتی۔ ہم تب بھی شاعری کے طالبِ علم اور موسیقی کے دل دادہ تھے۔ سوچا تو سہی کہ آخر یہ صاحب ہیں کون کہ جو ہرفن مولا ہیں؟ مصوری، موسیقی، مجسمہ سازی، محبت، صداکاری، اداکاری۔ اور ہاں، شاعری۔ ارے بھئی، کوئی فن تو ہمارے لیے بھی چھوڑ دیتے صاحب ! خیر، تحیّر تجسّس میں بدلا اور تجسّس تفکّر میں۔ کب، کہاں اور کیسے ملاقات ہو؟ اُنہی دنوں خالد احمد مرحوم ’’بیاض‘‘ کے زیرِ اہتمام طرحی مُشاعرے کروایا کرتے تھے۔ ایسے ہی ایک مشاعرے میں ہماری شاہ نواز زیدی سے ملاقات ہوئی۔

نکلتا ہوا قد، ہیروجیسا ڈیل ڈول، کشادہ ماتھا، کترواں مونچھوں تلےپوشیدہ لبِ بالا، ڈھیلےڈھالے کُرتے پاجامے میں ملبوس۔ بولتے تو جُنبشِ لب نہ ہونے کے برابر لگتی۔ کھرج جان دارمگر لہجہ اتنا دھیما کہ بات پر بھی خاموشی کا گمان گزرے۔ یُوں لگا، جیسےشاہ جہاں آباد عُرف پُرانی دِلی سے مُسافر نیا نیا لاہور میں اُترا ہو۔ نہایت مہین مگر مستقل مسکراہٹ چہرے پر آویزاں۔

گوتم جیسی، نئے نئے نروان شُدہ گوتم جیسی۔ اُن دنوں بھی اِنہیں دیکھ کر یہی محسوس ہوا کہ انہیں کسی بات کی جلدی نہیں۔ نہ کہیں پہنچنے کی کھکھیڑ، نہ کسی دوڑ میں اوّل آنے کا لپکا۔ حضرتِ داغ جہاں بیٹھ گئے، بیٹھ گئے۔ ٹھیک سے یاد نہیں پڑتا کہ اُس مشاعرے کا طرح مصرع کیا تھا، ہاں مگر اتنا یاد ہے کہ طالبِ علم کو یہ سمپورن شخصیت بہت بھائی۔

تب سے آج تک وہی پہلا تاثر قائم ہے۔ اُن کے مزاج میں ایک سہج سہج سا سہار ہے۔ شعروادب کا میدان ہوکہ مصوری و موسیقی، کسی سے اڑنگا نہیں لگاتے۔ اُن کی فنی اُپچ میں کسی نومولود، گل گوتھنے سے معصوم بچّے کی سادہ دِلی ہے۔ حالاں کہ بعض ہنروَروں کی قابلیت بڑی ضدّن ہوتی ہےکہ مَیں تو خُود کومنوا کر ہی چھوڑوں گی۔ سچ ہے کہ صاحبِ ہُنر کو شور نہیں مچانا پڑتا۔ جو شور مچائے، سمجھ لو یا تو بالکل ہی بے ہُنر ہے یا ہُنر میں کچا ہے۔

کہانی یُوں ہے کہ پچھلے ہی دِنوں اُن کے گھر جانا ہوا۔ گھر کیا ہے، ہُنر کے شہ کاروں سے بَھری حویلی کہہ لیں۔ ایسا پُر ماجرا اورجیتا جاگتا گھر، وہ بھی اس ماٹی ملےمرن جوگے زمانے میں بہت غنیمت ہے۔ باہرتک استقبال کے لیے آئے۔ مُنے سے پائیں باغ اور پیش دالان سے گزرو تو تمہیں ایک صحن چبوترا دِکھائی دے گا۔ اُسی سے مِلواں ایک کار پورچ ہے کہ جس کی پوری لمبان میں پھول پتّے ہیں۔ صدر دروازے کی جا پر ایک چوبی شاہ کار لگا رکھا ہے، جو صدیوں قدیمی تو ہوگا۔ آگے آگے چل رہے تھے۔ مَیں تو دروازہ ہی دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔ ایک محراب سی پچی کاری سےبنی ہے۔ چوکھٹ کے اوپری حصّے پر نہ عُمودی، نہ افقی مگر ترچھے زاویے پر شیخ سعدی سے منسوب مشہور نعتیہ رُباعی درج ہے۔

بلغ العُلٰی بکمالہٖ

کشف الدُجا بجمالہٖ

حسُنت جمیعُ خصالہٖ

صلو علیہِ وآلہٖ

اِس کی الگ کہانی پھر کبھی سہی کہ کیسے چوتھا مصرعہ ہو کر نہیں دے رہا تھا اور خواب میں سرورِکائناتﷺ کی زیارت نصیب ہوئی اور چوتھا مصرعہ عطا ہوا۔ رُباعی کے نیچے بنی محراب کو غور سے دیکھیں، تو پتا چلتا ہے کہ مہین مہین بیل بُوٹے، گُل پتیاں جھالرکی سی صُورت دروازے پر کندہ ہیں۔ اللہ جانے کن ہُنروَر ہاتھوں کا شاہ کار ہے۔ چھوٹی کیلیں، میخیں مختلف حصّوں کو آپس میں جوڑے ہوئے ہیں۔ اوپر لوہے کی زنجیر بھی ہے۔ قُفل لگا کرجاتے ہوں گے۔ کواڑ چھوٹے ہیں۔ اُدھر صاحبِ خانہ کو دیکھو تو اونچے لمبے۔ جُھک کر گزرے۔ ’’اس کی کیا کہانی ہے، سر؟‘‘مَیںنےپوچھا۔ تھوڑا رُکے۔

دروازے کو یُوں دیکھا، جیسے کوئی پرندہ اپنائیت سے اپنے گھونسلے کو دیکھتا ہے، پھر بولے۔ ’’مجھے قدیم پُراسرار اشیاء سے پیار ہے۔ ہمیشہ ہی تھا۔ جب یہ دروازہ دیکھا تو سوچا کہ کتنے لوگ اس دروازے سے آئے گئے ہوں گے،کتنےلوگوں نےاس کی چوکھٹ پار کی اور دہلیز پھلانگی ہوگی۔ اس دروازے کی تاریخ تو میرے پاس نہیں، لیکن اسے پہلی نظردیکھ کرسوچا کہ مَیں یہ شہ کار ایک بہت کشادہ خالی قطعۂ زمین میں نصب کردوں گا اور پھراس کے اردگرد گھر بناؤں گا۔‘‘

صاحبو! یقین کیجے کہ گھر بنایا تو کیا خُوب! ہم اندرونے میں پہنچے تو دِلّی کے کُوچوں کا سا حال تھا، اوراقِ مصوَّر تھے۔ جو شکل نظرآئی، تصویرنظرآئی۔ صاف ظاہر ہے، شاہ نواز ہمارے پاس اُن سُہانے دِنوں کی یادگار ہیں، جب ادیب شاعر نرے کھرے ادیب شاعر ہُوا کرتے تھے۔ باقیات الصالحات کہہ لیجے۔ کھانے دانے کے لوبھ لالچ سے مُنزّہ۔ یہ اُس دَورکی نشانی ہیں، جب ادب میں مارا ماری، نفسانفسی اور تِیر مِیر شروع نہیں ہوئی تھی۔ تم نے ہمیں ڈپٹ لیا، ہم نے تمہیں لفظ دو لفظ کہہ ڈالے، اے لو، بات آئی گئی ہوئی۔

نہ دِلوں میں کینہ، نہ ماتھے پر پسینہ۔ شاہ نواز اپنی وضع قطع کے ایک ہی آدمی ہیں۔ انہوں نے تمام عُمر حکّام رس ہونے کے باوجود درویشی اوڑھے رکھی۔ کبھی افسروں کا آگا تاگا نہیں لیا۔ ہاں، دامے درمے قدمے ادب اور ادیب کے لیے پیش پیش رہے۔ اسی درویشی کے سبب چہرے پر آج بھی گلابی آنند جھلکتا ہے۔ ماشااللہ اسّی سے اونچے ہیں، مگر ساٹھ کے لپیٹے میں لگتے ہیں۔

آج کل کے نام نہاد ادیبوں جیسے نہیں کہ چہرے پر ہمہ دم زردی کھنڈی ہے، بس کوئی قسمت کا مارا ہم کلام ہوا اور ناریل چٹخا۔ گھر میں جابہ جا گوتم کے مجسمے دھرے ہیں۔ صاحبِ خانہ ہی کی طرح شانت اور نِروان صفت۔ بُدھا کی زندگی اور بُدھ مت کے حوالے سے جہازی سائز کی’’کافی ٹیبل بُکس‘‘ بھی نظر آئیں۔ ہم نےبھاگم دوڑمیں ایک پوری کتاب ہی کی تصاویر لے لیں۔ پھر دائیں بائیں جائزہ لیا۔ اِدھرنگاہ کرو تو ہارمونیم اور اُدھر نظر دوڑاؤ تو شریعہ بھابھی کا پورٹریٹ۔

شاہ نواز زیدی کی اہلیہ یعنی ہماری بھابھی شریعہ ایرانی ہیں اور کیا ٹھاٹ کا جوڑا ہے۔ ان کی محبّت کےالگ ہی قہقہے چہچہے ہیں۔ وہ بھی ایسےکہ گھنٹوں سُنو تو جی نہ بھرے۔ ایران، پاکستان دوستی کے حاسدین میں بھلے جتنی چرغم چرغم ہو، سچ یہی ہے کہ شریعہ و شاہ نواز محاورے کے عین مطابق ایک دوسرے کے لیے بنےہیں۔ ایک مجسم غزل گو، دوسری سراپا غزل۔ ایک مکمل مصور، ایک کامل تصویر۔ یہ سچّے سنگیت کار، وہ سچّی سرگم۔ پوچھا کہ کہانی بتائیے۔

ہلکا سا شرما کر بولے۔’’شریعہ کے بارے میں کیا کہوں۔ اس کے سگے ماموں پاکستان میں ایران کے ایمبیسڈر تھے۔ ان کے ساتھ وہ پاکستان آئی اور یو ای ٹی سے آرکیٹیکچر میں پی ایچ ڈی کیا۔ پھر کامسیٹس یونی ورسٹی میں لیکچرارلگ کئی۔ مَیں ان دنوں وہاں بطور ایڈوائزر کام کررہا تھا۔ سوچتا ہوں، شاید مجھ سے اَن جانے میں کوئی نیکی سرزد ہوگئی تھی، جو اللہ تعالیٰ کو پسند آگئی۔

وہ اسی کا انعام ہوسکتی ہے۔‘‘ اِسی گپ شپ کے دوران انہوں نے بکمالِ محبت اپنی چار کتابوں سے نوازا۔ رُخصت چاہی تو دروازے تک چھوڑنے آئے۔ اُسی چوبی شہ کاریعنی دروازے پرعین زنجیرِدرکےساتھ ایک چھپکلی چِپکی تھی۔ مَیں نے اشارے سے دھیان دلوایا تو انہوں نے پہلے تو اپنے مخصوص دھیرے لہجے میں اُسے تشریف لے جانے کو کہا۔

اُس کم سماعت نے سُنی ان سُنی کی تو انہوں نے اپنے تئیں تھوڑا سختی سے ہشت کہا۔ شاید اُسے محسوس ہوگیا کہ یہ مصور و موسیقار و شاعر دل رُبا لہجے ہی میں بات کریں گے۔ سو، وہ اُن کی لاج رکھتے ہوئے پلک جھپکتےمیں کہیں غائب ہوگئی اور اس دوران ہمارے شاہ نواز نے اپنے لہجےکا دھیما پن برقرار رکھا۔

اس محبّت بَھرے فن کدے سے نکل کر چراغ جلے مَیں اپنے گھر واپس پہنچا۔ کام دھام اور کھان پان سے فراغت پا کر ان رنگا رنگ صحیفوں یعنی شاہ نواز زیدی کی کتابوں کی ورق گردانی کرنے بیٹھ گیا۔ یہ یہ جھم جھماتے رنگ ڈھنگ کہ کیا عرض کروں۔ کتاب کُھلی، خوشبوئے فن کی لپٹ آئی۔ نام ہی ’’سُگندھ‘‘۔ ٹیگور سےماخوذ نظمیں۔’’اپنی بات‘‘ (پیش لفظ) میں گلزار صاحب کا قول دُہرایا ہے کہ’’ترجمہ اُس مسٹریس کی طرح ہوتا ہے کہ جو خوب صُورت ہے تو وفادار نہیں اور وفادار ہے، تو خوب صُورت نہیں۔‘‘ پھر فرمانے لگےکہ اس مسٹریس سے وفا کی نہیں بلکہ ادا کی اُمید رکھنی چاہیے۔ ’’لے پالک نظمیں ہیں، لیکن مَیں نے انہیں بہت پیار دیا ہے۔‘‘

ٹھیک ہی تو کہا۔ انہی کیفیات سےمَیں بھی گزرا جب پابلو نرُودا کی سَو سانیٹس کا منظوم ترجمہ کیا۔ ’’سگندھ‘‘ کا کوئی صفحہ پلٹ لیجے، کیفیات کی ایسی لُٹس پڑی ہے، جیسے برکھا رُت بہت اللہ آمین کی ہو۔ کچوریوں جیسے خستہ، کرارے لفظ، عشق کے گھی میں چمکتے دمکتے۔ ترجمے ایسے کہ خدئی قسم طبع زاد تصنیف کا مزہ ملے۔ ایک صفحہ چھوڑ دوسرے پر یُوں ہی رواروی میں پینسل سےآڑی ترچھی سی کچھ لکیریں یُوں کھینچ رکھی ہیں کہ دیکھیو خُوش نما خاکے بن گئے۔

شاعری میں مُصوری یُوں گُھل مِل گئی، گویا دودھ میں شکر۔ ’’تماشا‘‘ ایک الگ طُرفہ تماشا ہے۔ غزلوں، نظموں میں کوئی تیزم تازی نہیں، بس رچا پچا ٹھہراؤ اور خاموش تحیّر۔ آج کل کے شعروں جیسے نہیں کہ جتنی بار پڑھو، اولَو اولَو معلوم ہوتے ہیں، گویا مارے باندھے لکھے گئے ہوں۔ شاہ نواز کی شاعری آپ سے مطالعے کا تقاضا کرے، تو نہیں نُکڑ کی گنجائش نہیں بچتی۔ سخن کا یہ سلون پن اُن کے ہاں خداداد ہے، کسی لیپاپوتی سےنہیں آیا۔

ٹیگور ہی کی ’’گیتانجلی‘‘ کا منظوم ترجمہ بھی خاصّے کی چیز ہے اور ہم جیسے عاشقانِ ٹیگور و مداحینِ شاہ نواز کے لیے تحفۂ خاص کہ آپ کواس میں دونوں شِیروشکر ملیں گے۔ ’’آئینہ دار‘‘بھی اپنے نام کی مانند دل کش غزلوں، نظموں کا مجموعہ ہے۔ ہم ابھی اس میں غلطاں ہی تھے کہ سول سروس ہی کے ایک بھولے بسرے دوست آ نکلے۔ اُنہیں شاعری سے کوئی خاص علاقہ نہیں۔ لیکن ہم نے ایک شعر کیا سُنایا، وہ ہم سے اس وعدے پر’’آئینہ دار‘‘ لے کر سٹک لیے کہ پندرہ دن میں لَوٹا دوں گا۔ شعر کچھ یُوں تھا۔ ؎

یہ کوئی شرط نہیں ہے کہ بس یہیں سے مِلے

ہمیں تو دل کا سُکوں چاہیے، کہیں سے ملے

شاہ نواز زیدی کی عُمر فن کی تدریس میں گزری اور بھرپور گزری۔ ان کے طلباء و طالبات دُنیا بھر میں رنگ پاشی کررہے ہیں۔ پنجاب یونی ورسٹی ہی سے فائن آرٹس میں ایم اے، یہیں لیکچرارشپ اور پھر یہیں چیئرمین کےعہدے تک پہنچ کر ریٹائر منٹ۔ اس دوران اس جامعہ کے درودیوار نے شاہ نواز کو ہر سُو علم و ہُنر بکھیرتے دیکھا۔ ان کے چیئرمین ہوتے ہوئے ایک دو بار جامعہ جانا ہوا۔ ہم حالاں کہ اچھے خاصے بوجھ بجھکڑ ہیں لیکن پھر بھی نہیں بھول پائے کہ فائن آرٹس کے جس طالبِ علم سےبھی تب ہماری دوستی تھی،وہ اِنہی کے گُن گاتا تھا۔

اُستاد تب محض لُقمۂ ترکی خیرمنانے اور صرف حلوے مانڈے کے پیچھے بھاگنے والے نہیں تھے بلکہ فن میں سرتاپا ڈوبے لوگ تھے۔ کمانے دھمانے کا جھنجھٹ الگ اور علم و ہُنر کی سچائی الگ۔ اُدھر کامسیٹس یونی ورسٹی کے شعبہ آرٹ اینڈ ڈیزائن میں بھی ان کی ہر دل عزیزی کا حال یہی تھا کہ اسٹوڈنٹس جان چھڑکتے تھے۔ مصوری کی لگ بھگ ایک سو نمائشوں میں خونِ جگر کے ذریعے معجزۂ فن کی نمود کرچکے۔

مَیں نے انہیں بہت سُنا ہے، کیوں کہ اُن کی پڑھنت بہت سکون آور ہے۔ ایک بار مَیں کسی مشاعرے کے لیے لمبا سفر کررہا تھا۔ انہی کے یو ٹیوب چینل سے انہی کی زبانی اقبال کی نظمیں سُنیں پھر انیس کے مرثیے، کرشن چندرکا ناول سُنا، پھر منٹو کا افسانہ۔ میرے ساتھ بیٹھا مسافر کہنےلگا کہ ’’یہ ضیاء محی الدین واقعی بہت اچھا پڑھتے ہیں۔ آپ کے ساتھ ساتھ مَیں بھی لُطف لے رہا ہوں۔‘‘ مَیں نے عرض کیا کہ یہ شاہ نواز زیدی ہیں۔ بہت حیران ہُوا اور فرمائش کرکے مجھ سے یُو ٹیوب چینل کا لِنک مانگا۔

تمغۂ امتیاز اور تمغۂ حُسنِ کاردکرگی کو شاہ نواز زیدی کب کے مل چُکےاور یہ دونوں اعزازات اس اعزاز پرکافی خوش ہیں۔ ایسا فن کار کہ جس کا اوڑھنا بچھونا ہی فن ہو اورعلم و ہنر کے ساتھ ہی جس کا مرنا بھرنا ہو، اُسے اصل اعزازات مداحین کی محبت میں ملتے ہیں۔ پُرانی انارکلی سے ملحقہ فائن آرٹ شُعبے میں ناچیز نے بارہا خُود دیکھا کہ شاہ نواز زیدی اپنے دفتر سے باہر نکلتے تو اردگرد اسٹوڈنٹس کا ہجوم یُوں اکٹھا ہوجاتا، جیسے کبوتروں کےجھلڑ شام رہے اپنی چھتری کو لَوٹ آتے ہیں کہ گھر تو آخر یہی ہے۔ ایکوں ایک ان سے عقیدت سے ملتا۔ سبھی کی آنکھوں میں دھاروں روتی عقیدت دکھائی دیتی۔ اور یہ محبت دہائیوں پرمُحیط تھی۔ یُوں تھوڑی تھا کہ رُت دو رُت نِبھی اور پھر چٹخ گئی۔

پانچویں جماعت تک منڈی بہاؤالدین میں گھرکی تعلیم سے آراستہ ہونے والے شاہ نواز زیدی کے کیرئیر نے ثابت کیا کہ والدین ہُنر وَر ہوں تو بچّے کی صلاحتیں بھی نکھر جاتی ہیں۔ بعد میں بھی کارپوریشن کے ایک اسکول یعنی ’’ٹاٹ اسکول‘‘ نے اس جوہر کو تراشا اور پاکستانی معاشرے کو وہ نام دیا کہ جو رہتی دُنیا تک ہمارے مُلک کے علم و فن کا روشن و رخشاں چہرہ بنا رہے گا۔

مُجھ ناچیز کو خاکہ نگاری کی اس سیریز یعنی ’’احسنِ تقویم‘‘ میں خاکہ در خاکہ خاک چھانتے ہوئے بہت سے جواہر مِلے، لیکن آج وہ گوہرِ یکتا ہاتھ آیا ہے کہ بولی ٹھولی میں لکھنؤ، سُر سنگیت میں بنگال اور مصرعۂ تر میں سمرقند و بخارا کے رنگ ڈھنگ رکھتا ہے۔ ربِ تخلیق اگر مجھ سے پوچھے کہ بتا تیری رضا کیا ہے؟ تو مَیں ہچر مچر کیے بغیر عرض کروں گا کہ مجھے فن و شخصیت کے تمام حوالوں سے شاہ نواز زیدی جیسا بننا ہے۔

(خاکہ نگار اسلام آباد میں تعینات سینئر بیوروکریٹ، نہایت مقبول شاعر اور بہترین کالم نگار ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید