• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریر: شائستہ اظہر صدیقی، سیال کوٹ

ماڈل: ماہی

ملبوسات: فائزہ امجد اسٹوڈیو، ڈی ایچ اے، لاہور

آرائش: دیوا بیوٹی سیلون

عکّاسی: عرفان نجمی

لے آؤٹ: نوید رشید

ہائے وہ فیض کے کیا غضب کے اشعار ہیں۔ ؎ رات یوں دل میں تِری کھوئی ہوئی یاد آئی… جیسے ویرانے میں چُپکے سے بہار آ جائے… جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے بادِ نسیم… جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے۔ کیا آپ کو بھی کبھی کچھ لوگوں سے مِل کر، اُن کو سوچ کر ایسا محسوس ہوا کہ خالق نے اِن رُوحوں کو کسی الگ ہی مٹی، جوہر سے تراشا ہے…؟ ہمارا خیال ہے، یقیناً ہر ایک کبھی نہ کبھی اس قسم کے تجربے سے ضرور گزرا ہوگا۔

ایسے لوگوں سے مِل کرلگتا ہے کہ ان میں کچھ ایسی خاص سُندرتا و پوتّرتا رکھ دی گئی ہے کہ محض اُن کی قربت ہی سے انسان اندر کے انتشار و اضطراب سے کچھ دیر کے لیے یک سر آزاد ہوجاتا ہے۔ دل کےاندھیروں میں جیسےچُپ چاپ اُترتی کوئی روشنی، شام کے بعد پھیلنے والی نرم رُو چاندنی، وجود کے تھکے ہوئے حصّوں کو اَن کہی راحت سے بھردینے والے لوگ۔

بلاشبہ قدرت کے حُسن و جمال کی بھی اپنی ایک الگ ہی زبان ہے۔ صُبح کی پہلی روشنی، شام کی مدھم اداسی، بارش کے بعد مٹی کی خوشبو، درختوں سے گزرتی نرم ہوا، خاموش جھیلوں پر ٹھہری دھند، چاندنی میں بھیگتی راتیں، واپسی کے رستے پر گام زن پرندوں کی ڈاریں، خزاں کے ٹوٹ ٹوٹ بکھرتے زرد پتّے اور… بہارکے ہزار ہا رنگ۔

مگر ان سب کو سراہنے کے لیے ایک خُوب صُورت نظر، بہت حسّاس دل چاہیے اور چاہنے کے لیے شاید اک عُمر کہ قدرت کا حُسن چہار سُو جلوہ افروز ہونے میں کبھی جلدی نہیں کرتا۔ پھول ایک دن میں نہیں کِھل جاتے، نہ ہی موسم دنوں، ہفتوں میں بدلتے ہیں۔ درخت مُدتوں میں تب سایہ بنتے ہیں، جب مٹّی برسوں پانی جذب کرتی ہے، چاند دھیرے دھیرے رات بہ رات اپنی روشنی بڑھاتا ہے اور پھر یہی روشنی آہستہ آہستہ آسمان کے رنگ بدلتی ہے۔

فطرت ہی کی مانند، عظیم ادب بھی اپنی تمام تر خُوب صُورتی، پرت در پرت دل کشی فوراً آشکار نہیں کرتا۔ یہ انسان کے ساتھ ساتھ سفر کرتا ہے اور سفر بھی وہ، جو صدیوں پر محیط ہے۔ یہ اُس سفر کے تجربوں کے ساتھ کئی کئی رنگ بدلتا ہے، کسی پر ایسے کُھلتا ہے، تو کسی پر ویسے۔ اور تجربات بھی ایسے، گویا سرتاپا آبلہ پائی کی ایک عجیب و غریب داستان۔ اور پھر… جب کسی تنہا اداس شام میں یوں ہی بےوجہ کسی جانب تکتے تکتے، برستی بارش میں گھنٹوں بیٹھے بھیگتے بھیگتے یا رُوح جما دینے والی سردی میں انگیٹھی میں سلگتے چٹختے بالن کی سِسکاریاں سُنتے سُنتے اچانک ہی کچھ جملے، باتیں یاد آجائیں، تب جا کراحساس ہوتا ہے کہ ارے! وہ ادب تو ہمارے اندر، کہیں بہت گہرائی تک اُتر چُکا ہے۔ اور، یہ بھی تو سچ ہے کہ کسی بھی خزاں رسیدہ درخت، لمبی خالی سڑک، بارش میں بھیگتی کھڑکی، شام کی اداس سُرمگیں پینٹنگ، پرانی کتابوں کی مہک، قفل زدہ کمروں کی سیلن، دیہات کی رُوح پرور اذان، دُور بجتی گھنٹی کی آواز، دریا کی روانی کے سرگم اور پرندوں کی ہجرت جیسے سب ہی مناظر کی، اُن کے ظاہر سے ہٹ کر بھی کوئی نہ کوئی کتھا، کہانی ضرور ہوتی ہے۔ جب کہ عین اِسی طرح ہر ہُوک لکھتا شاعر بھی محبوب کے چہرے کے حُسن سے پرے، حُسن کی علامتوں کا وسیع کائناتی چشم دید گواہ ہے۔

چلیں بھئی، آج کا فلسفہ تو تمام ہوا، اب بات کرتے ہیں، ہر رنگ و انداز میں اِترائے اِترائے پِھرنے والے حُسن کےاِک نئے نکور رُوپ سروپ کی۔ ذرا دیکھیےتو بیج رنگ پہناوے کی قمیص کے اگلے حصّے پر موتی دھاگے کی کڑھت کیسی خوش نُما معلوم ہو رہی ہے، جب کہ گلے کے کناروں پر لیس کی پٹیوں کا استعمال شرٹ کاحُسن دوآتشہ کیے دے رہا ہے۔ پھر کشادہ پائنچوں والے ٹراؤزر پر قمیص ہی سے ہم آہنگ لیس کی آراستگی کے ساتھ پینٹیکس کا بھی جلوہ ہے، جو پہناوے کے توازن کو خوب برقرار رکھے ہوئے ہے۔

ہلکا فیروزی رنگ موسمِ گرما کے لیے ایک انتہائی فرحت بخش انتخاب ہے۔ اِسی رنگ کے لباس کی قمیص پر سفید رنگ جوائننگ لیس سے گلے سے دامن تک سیدھی لائنز بنائی گئی ہے، تو آستینوں کے بارڈرز اور شرٹ کے دامن پر چوڑی نیٹ لیس کا انتخاب کیا گیا ہے، جب کہ ساتھ نسبتاً تنگ پائنچوں کے ٹراؤزر کی ہم آہنگی ہے۔ سبز کے مختلف شیڈز کے امتزاج سے (گہرے اور ہلکے) تیار کردہ آرگنزا ڈریس کے حُسن و دل کشی کا بھی جواب نہیں۔ قمیص کے اگلے حصّے پر عمودی پینلز کو لیس کے ذریعے جوڑا گیا ہے، تو آستینوں پر بھی اِسی طرح کے پینلز اور کڑھت کی دل آویزی ہے، جب کہ لباس کے ساتھ موجود دوپٹے پر بھی پہناوے سے ہم آہنگ کڑھت اور پینلز کا انداز نمایاں ہے۔

گہرے سُرمئی رنگ کے لباس کی شرٹ پر رنگ برنگ کڑھت بہت نمایاں ہونے کے ساتھ انتہائی دل کش تاثر دے رہی ہے۔ پورے فرنٹ پر سُرخ، نیلے، پیلے پھولوں، بیل بُوٹوں کے نمونے بنے ہیں، تو آستینوں کے کناروں پر جیومیٹریکل ڈیزائن کی ندرت ہے، جب کہ لباس ہی کے ہم رنگ دوپٹے کے کناروں پر باریک کٹ ورک بہت خُوب صُورت معلوم ہورہا ہے۔

بلاشبہ، یہ پہناوا موسم کی مناسبت سے کسی ثقافتی دن کے موقعے پر ایک شان دارانتخاب کی صُورت آپ کو پوری محفل میں نمایاں کرسکتا ہے۔ اور لیونڈر شیڈ ڈریس کی قمیص کے اگلے حصّے اور گلے پر کثیر رنگی دھاگوں، موتیوں سے جڑی دیدہ زیب کڑھت کے تو کیا ہی کہنے۔ پھر شرٹ کے دامن پر منفرد جیومیٹریکل ڈیزائن کی ایک پٹی بھی موجود ہے، جس میں سبز، گلابی رنگوں کا استعمال اِسے خوب نمایاں کررہا ہے، تو آستینوں کا منفرد انداز بھی بہت حسین لُک دے رہا ہے، جب کہ ساتھ کشادہ پائنچوں کے ٹراؤزر کی ہم آہنگی بھی گویا اپنی مثال آپ ہے۔

رنگارنگ جلووں، دل رُبا اداؤں سے سجی اِس بزم کا انگ انگ اُن سب خُود شناس خواتین کے نام ہے، جو آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر بےاختیار ہی کہے جاتی ہیں۔ ؎ یہ ترے سوچے ہوئے رنگ کا محتاج نہیں… حُسن تو حُسن ہے، ہر رنگ میں اِتراتا ہے… دیکھنے والے محبّت کی نظر سے دیکھیں… مَیں وہ منظر ہوں، جسے حُسنِ نظر بھاتا ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید
جنگ فیشن سے مزید