نہ جانے اِس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے، ہم بمشکل ایک قدم آگے چلتے ہیں کہ دو قدم پیچھے کو دھکا لگ جاتا ہے۔ دہشت گردی کیخلاف ہم نے جنگ لڑی اور ایسے لڑی کہ جسے دنیا کی جامعات میں کیس اسٹڈی کے طور پر پڑھایا جانا چاہیے، لیکن یہ دہشت گردی ایسا راوَن ہے کہ جس کا ایک سر کاٹو تو دوسرا دوبارہ اُگ آتا ہے، اسلام آباد کی امام بارگاہ میں خودکُش حملہ اسی کا شاخسانہ ہے۔ اِس حملے کے منصوبہ ساز کو اگلے ہی دن گرفتار کر لیا گیا مگر اِس کے پیچھے جو مائنڈ سیٹ ہے وہ بدستور کارفرما ہے اور اُس کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں۔
ایک مرتبہ کینیڈا میں دو ٹیکسی ڈرائیوروں سے ملاقات ہوئی، دونوں افغان تھے، اور ظاہر ہے کہ پاکستان سے نفرت کرتے تھے۔ میں نے اُن سے سوال پوچھا کہ افغانستان پر ایک مرتبہ سویت یونین نے اور دوسری مرتبہ امریکہ نے حملہ کیا، اور دونوں مرتبہ ملک کو کھنڈر بنا دیا گیا، لیکن افغان باشندے روسیوں اور امریکیوں سے اتنی نفرت نہیں کرتے جتنی پاکستانیوں سے کرتے ہیں، اِس کی کیا وجہ ہے؟ جواب میں وہی آئیں بائیں شائیں کہ پاکستان نے اُن کے ملک میں دخل اندازی کی وغیرہ۔ بندہ پوچھے کہ جن ممالک نے براہ راست حملہ کرکے تمہارے ملک کو برباد کیا اُسے کچھ نہیں کہتے، سارا ملبہ پاکستان پر ڈال دیتے ہو، یہ اچھی منطق ہے۔ مزید دلچسپ بات یہ تھی کہ وہ دونوں ہی اسلام آباد کی مدد سے ویزا لگوا کر کینیڈا پہنچے تھے۔
افغانستان کے معاملے میں ہمارے دانشور بھی مخمصے کا شکار رہتے ہیں، جو مذہبی رجحان رکھتے ہیں وہ اب افغان معاشرے کو اسلامی سمجھتے ہیں، نہ جانے یہ کون سا مثالی اسلامی معاشرہ ہے جہاں عورتیں نہ تعلیم حاصل کر سکتی ہیں اور نہ کوئی ملازمت مگر مسجد کے باہر شٹل کاک برقع پہن کر بھیک ضرور مانگ سکتی ہیں۔ لاکھوں بچے اس افغاستان میں غذائی قلت کا شکار ہیں جس معاشرے کو ہمارے مذہبی دانشوروں نے بانس پر چڑھا رکھا ہے۔ اور دوسری طرف سیکولر دانشور ہیں جنہیں اُس وقت تک چین نہیں آتا جب تک اُن افغان ٹیکسی ڈرائیوروں کی طرح ہر معاملے میں پاکستان کوموردِالزام نہ ٹھہرا دیں۔ اگست 2021ء میں جب افغانستان میں طالبان کی حکومت آئی تو نہ صرف مذہبی طبقے نے بلکہ اچھے خاصے آزاد خیال حلقے نے بھی بغلیں بجائیں اور مٹھائیاں بانٹیں کہ اب مغربی سرحد محفوظ ہو گئی ہے اور ’اسٹرٹیجک ڈیپتھ‘ کا خواب پورا ہو گیا ہے۔ بغضِ امریکہ میں بھی شادیانے بجائے گئے۔ لیکن یہ سب ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (PIPS) کی رپورٹس کے مطابق، افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں جو اضافہ ہوا اُس کا اندازہ اِس بات سے لگا لیں کہ 2025میں دہشت گردی کے واقعات میں 2024کی نسبت 34فیصد اضافہ ہوا اور اِن میں سے 95 فیصد واقعات خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں رونما ہوئے۔ لیکن تصویر کا دوسرا رُخ یہ بھی ہے کہ ریاست نے بھی بھرپور ردِعمل دیا اور 259 کارروائیوں میں 1313 دہشت گرد مارے اور یہ شرح 2024 کی نسبت 64فیصد زائد ہے۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اِن دہشت گردوں کے ہاتھ جدید اسلحہ لگ چکا ہے،پینٹاگون کی اپنی رپورٹ کے مطابق، جب امریکی افواج نے افغانستان سے انخلا کیا تو وہ تقریباً سات ارب ڈالر مالیت کا جدید فوجی ساز و سامان وہیں چھوڑ گئے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم اپنی متعدد حالیہ رپورٹس میں یہ تسلیم کر چکی ہے کہ ٹی ٹی پی کے افغانستان میں محفوظ ٹھکانے موجود ہیں اور ان کے جنگجوؤں کی تعداد 4000 سے 6000کے درمیان ہےاور انہیں افغان سرزمین پر مکمل آزادی حاصل ہے اور وہ وہیں سے بیٹھ کر پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ جب اقوام متحدہ جیسا ادارہ حقائق بیان کر رہا ہے، تو کیا افغان حکومت کے اس دعوے میں کوئی وزن رہ جاتا ہے کہ ان کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہو رہی؟ یہاں داخل ہوتا ہے انڈیا جس نے نہایت چالاکی سے مذہبی انتہا پسندوں (TTP) اور سیکولر علیحدگی پسندوں (BLA وغیرہ) کا ایک غیر فطری گٹھ جوڑ بنوا دیا ہے اور یوں وہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں دہشت گردی کو بطور ریاستی پالیسی استعمال کر رہا ہے۔ ہم طویل عرصے تک ’گڈ طالبان‘ اور ’بیڈ طالبان‘ کے چکر میں الجھے رہے، اور گزشتہ چند برسوں میں تو ہم نے ایک ایسی خوفناک غلطی کی جسکی وجہ سے اِس راوَن کا سر دوبارہ اُگ آیا، اور وہ یہ کہ ہم نے ان خونخوار درندوں کے ساتھ مذاکرات کی میز سجائی اور انہیں خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں آباد ہونے کی خاموش اجازت دے دی۔ ہم نے سوچا کہ شاید یہ دہشت گردی چھوڑکر اسٹاک ایکسچینج کا کام شروع کر دیں گے، ظاہر ہے کہ یہ حماقت ہی تھی، اِس نام نہاد ’امن عمل‘ کا نتیجہ یہ نکلا کہ دہشت گردوں نے خود کو دوبارہ منظم کیا، اپنے ’سلیپر سیل‘ بیدار کیے اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کر دیا۔ لیکن پاکستان نے اب جس طرح افغانستان میں کارروائی کی ہے اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے وہی اِس عفریت سے نمٹنے کا بہترین طریقہ ہے۔
اِن لوگوں سے نہ کوئی مذاکرات کیے جا سکتے ہیں اور نہ کوئی رعایت دی جا سکتی ہے۔ آئینِ پاکستان اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والا، چاہےکسی بھی لبادے میں ہو، دہشت گرد ہے اور اس کے ساتھ وہی سلوک ہونا چاہیے جو ایک دہشت گرد کے ساتھ ہوتا ہے۔ افغان حکومت کے ساتھ اب ’برادرانہ‘ جذبات سے زیادہ ’ریاستی مفادات‘ کی بنیاد پر بات ہونی چاہیے۔ اگر افغان حکومت ٹی ٹی پی کو لگام ڈالنے اور ان کے ٹھکانے ختم کرنے میں ناکام رہتی ہے (یا جان بوجھ کر ایسا نہیں کرتی)، تو پاکستان اسی طرح افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائیگا۔ پاک افغان سرحد اب ایک بین الاقوامی سرحد ہے، دنیا میں کہیں بھی بغیر پاسپورٹ اور ویزے کے سرحد پار نہیں کی جا سکتی، پاکستان کی بھی نہیں کی جانی چاہیے، اِس پر کسی قسم کے سیاسی یا قبائلی دباؤ میں آکر پسپائی اختیار نہیں کرنی چاہیے۔ دنیا کا کوئی بھی ملک لاکھوں غیر ملکیوں کو دہائیوں تک بغیر کسی قانونی دستاویز کے اپنے ہاں رہنے کی اجازت نہیں دیتا، خاص طور پر اس وقت جب ان میں سے کچھ براہ راست ملک کے امن و امان کیلئے خطرہ بن چکے ہوں۔ اُن تمام لوگوں کو جو غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم ہیں، انسانی حقوق کے دائرے میں رہتے ہوئے، یا تو قانونی اجازت نامہ دیا جائے یا پھر پوری ریاستی طاقت کے ساتھ واپس بھیج دیا جائے۔ فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت ہے، شہروں کے اندر دہشت گردی سے لڑنے کا اصل کام پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کا ہے، اسی کو یہ کام کرنا چاہئے۔
اسلام آباد میں امام بارگاہ پر حملہ ایک قیامت تھی جو وہاں نمازیوں پر گزری مگر ایک قیامت وہ بھی ہو گی جس کا وعدہ اللہ نے کیا ہے۔ ہم ایک قیامت سے گزر رہے ہیں، دوسری کا انتظار ہے!