• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نوجوانوں میں خوشی کی سطح میں کمی، وجہ سوشل میڈیا: ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ 2026 میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نوجوانوں میں خوشی کی سطح میں نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس کی بڑی وجہ سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔

2026 کی رپورٹ کے مطابق فن لینڈ ایک بار پھر دنیا کا خوش ترین ملک قرار پایا، تاہم دنیا بھر میں نوجوانوں پر سوشل میڈیا کے غیر ضروری استعمال کے سبب منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔

یہ رپورٹ یونیورسٹی آف اکسفورڈ کے ویلبیئنگ ریسرچ سینٹر نے گیلپ اور اقومِ متحدہ کے اشتراک سے تیار کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سمیت کئی ممالک میں 25 سال سے کم عمر افراد میں زندگی سے اطمینان کی سطح گزشتہ دس سالوں میں تیزی سے کم ہوئی ہے۔

یہ تحقیق تقریباً 140 ممالک کے ایک لاکھ افراد کے سرویز پر مبنی ہے، جس کے مطابق بعض نوجوان چاہتے ہیں کہ کوئی بھی سوشل میڈیا استعمال نہ کرے۔

رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال نوجوانوں کی فلاح و بہبود میں کمی سے جڑا ہوا ہے، خاص طور پر انگریزی بولنے والے اور مغربی یورپی ممالک میں نوعمر لڑکیوں کے درمیان یہ رجحان زیادہ دیکھا گیا۔

یہ نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حکومتیں کم عمر افراد کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندیوں پر غور کر رہی ہیں۔

محققین کے مطابق روزانہ 7 گھنٹے سے زائد سوشل میڈیا کا استعمال کم فلاح و بہبود سے منسلک ہے، جبکہ الگورتھم پر مبنی، تصاویر پر مرکوز پلیٹ فارمز اور انفلوئنسر مواد کو اس کی بڑی وجوہات قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا کے بیشتر کالج طلبہ چاہتے ہیں کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز موجود ہی نہ ہوں۔

رپورٹس کے مطابق طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ سوشل میڈیا اس لیے استعمال کرتے ہیں کیونکہ دوسرے لوگ بھی استعمال کر رہے ہوتے ہیں، لیکن وہ چاہتے ہیں کہ کوئی بھی اسے استعمال نہ کرے۔ تاہم، وہ افراد جو روزانہ ایک گھنٹے سے کم سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، ان میں ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ فلاح و بہبود رپورٹ ہونے کا امکان ہوتا ہے جو سوشل میڈیا بالکل استعمال نہیں کرتے۔

رپورٹ کے مطابق فن لینڈ مسلسل نویں سال دنیا کا خوش ترین ملک قرار پایا، جبکہ نورڈک درجہ بندی میں سرفہرست رہے۔ اس کی وجہ دولت، مساوات، مضبوط فلاحی نظام اور بلند متوقع عمر کو قرار دیا گیا ہے۔

کوسٹا ریکا درجہ بندی میں چوتھے نمبر پر آ گیا، جس کی وجہ مضبوط سماجی اور خاندانی تعلقات بتائے گئے ہیں۔

افغانستان بدستور فہرست میں سب سے نچلے نمبر پر رہا، جبکہ پاکستان کا 104واں نمبر ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید