امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے دوران ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ’ایران کی فتح قریب ہے‘ جبکہ ملک بھر میں فضائی حملوں، دھماکوں اور مبینہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔
عرب میڈیا ’الجزیرہ‘ کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب تہران اور وسطی شہر اصفہان سمیت کئی علاقوں میں مشترکا امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق مقامی حکام نے انسانی جانوں کے نقصان کی تصدیق کی ہے تاہم تفصیلات جاری نہیں کیں جبکہ اسرائیلی اور امریکی میڈیا کے مطابق ایک سینئر ڈرون کمانڈر بھی ان حملوں میں شہید ہوئے ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور سابق پاسدارانِ انقلاب کمانڈر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایرانی میزائلز کا اسرائیلی شہر دیمونا تک پہنچنا جنگ کے ’نئے مرحلے‘ کی علامت ہے اور اسرائیل کا فضائی دفاع کمزور ہو چکا ہے۔
ادھر پاسدارانِ انقلاب کے ایرو اسپیس کمانڈر مجید موسوی نے بھی اسی مؤقف کا اظہار کیا ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی شہر دیمونا اور قریبی شہر عراد میں میزائل حملوں سے 180 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
دوسری جانب وزارتِ دفاع کے ترجمان رضا طلائی نیک نے اعلان کیا ہے کہ دشمن کے ’ہتھیار ڈالنے‘ تک حملے جاری رہیں گے۔
’الجزیرہ‘ کے مطابق ایران کے پولیس سربراہ احمد رضا رادان نے یورپی یونین اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر یورپ گرین لینڈ کا دفاع نہیں کر سکتا تو ایران مدد کے لیے تیار ہے۔‘
ایرانی قیادت کی جانب سے جاری کردہ تازہ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’ایران کے دشمن شکست کے قریب ہیں۔‘