گزشتہ دنوں برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم کے چھوٹے بھائی سابق پرنس اینڈریو کی گرفتاری نے عالمی سطح پر ہلچل مچادی ہے۔ اینڈریو کا شمار برطانوی شاہی خاندان کے اہم ارکان میں ہوتا تھا۔ ان کا شمار ملکہ الزبتھ کےسب سے پسندیدہ بیٹے میں ہوتا تھا۔ اینڈریو نے بادشاہت کی سرکاری ذمہ داریاں ادا کیں، فوجی اعزازات حاصل کئے اور برطانیہ کے خصوصی تجارتی نمائندے کے طور پر خدمات انجام دیں۔19فروری 2026 ءکو اپنی 66 ویں سالگرہ کے روز برطانوی پولیس نے انہیں انکی رہائش گاہ سے گرفتار کیا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے برطانیہ کے خصوصی تجارتی نمائندے کی حیثیت سے حساس سرکاری دستاویزات غیر قانونی طور پر امریکی جنسی مجرم جیفری ایپس ٹین کو فراہم کیں جو تجارت اور دیگر معاملات سے متعلق تھیں۔پولیس نے Norfolk اور Windsor میں واقع ان کی رہائش گاہوں کی تلاشی بھی لی تاہم 11گھنٹے کی تفتیش کے بعد انہیں رہا کردیا گیا۔ رہائی کے بعد پولیس اسٹیشن سے روانگی کے وقت گاڑی کی پچھلی نشست پر سر جھکائے ان کی تصویر عالمی میڈیا میں وائرل ہوئی جس میں وہ ایک ہارے ہوئے شخص کی مانند بیٹھے نظر آئے۔ برطانوی پولیس کے مطابق ان کیخلاف تحقیقات کا سلسلہ جاری رہے گا جو اینڈریو کے جیفری ایپس ٹین کے ساتھ وابستگی سے متعلق ہیں۔ بادشاہ چارلس سوم نے اپنے بھائی کی گرفتاری کے بعد ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ انہوں نے برطانوی پولیس کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
گزشتہ کچھ عرصے سے برطانوی شاہی خاندان پر سابق شہزادے اینڈریو کے ایپس ٹین سے تعلقات کے حوالے سے دبائو بڑھ رہا تھا مگر اینڈریو اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے رہے۔ گزشتہ سال اینڈریو کی 2011ءمیں لکھی گئی ای میلز منظر عام پر آئیں جن سے یہ انکشاف ہوا کہ اینڈریو، جیفری ایپس ٹین سے مسلسل رابطے میںتھے۔2019ءمیں اینڈریو پر Virginia Giuffre نامی خاتون نے جنسی استحصال کا الزام عائد کیا جسکے بعد عوامی دبائو کے نتیجے میں 2022ءمیں بکنگھم پیلس نے تمام سرکاری اعزازات اور ذمہ داریاں واپس لے کر ان سے شاہی خطاب اور ونڈسر پیلس میں انہیں دی گئی سرکاری رہائش گاہ سے بھی بے دخل کردیا۔ انکی گرفتاری کے بعد اینڈریو کو شاہی جانشینی کی فہرست سے ہٹانے کیلئے قانون سازی پر غور کیا جارہا ہے۔ اگر حکومت قانون سازی کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اینڈریو کی جانشینی جس میں وہ آٹھویں نمبر پر ہیں، ختم ہوجائے گی۔گزشتہ برس اکتوبر کے اوائل میں اینڈریو نے اپنا شاہی خطاب ’’ڈیوک آف یارک‘‘ چھوڑ دیا تھا جسکے بعد بکنگھم پیلس نے یہ بیان جاری کیا کہ اینڈریو رضاکارانہ طور پر ڈیوک آف یارک سمیت تمام القابات استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کررہے ہیں، یہ اعزاز اُنہیں اُن کی والدہ ملکہ الزبتھ دوم کی طرف سے دیا گیا تھا۔ اینڈریو آرڈر آف دی گارنر کی رکنیت بھی چھوڑ رہے ہیں جو برطانیہ میں بہادری کا سب سے قدیم اور سینئر ترین اعزاز ہے۔
جیفری ایپس ٹین سے اینڈریو کے تعلقات منظر عام پر آنے کے بعد برطانوی شاہی خاندان کو 90 برس میں سب سے بڑے بحران اور شدید عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ان الزامات نے نہ صرف شہزادہ اینڈریو کی ساکھ کو متاثر کیا ہے بلکہ شاہی خاندان کو ایک بڑے بحران سے دوچار کردیا ہے جو شاہی خاندان کی ساکھ اور اعتماد کی بحالی کا ایک بڑا امتحان ہے۔ یاد رہے کہ 1936ءمیں بادشاہ ایڈورڈ ہشتم کی تخت سے دستبرداری اور 1997ءمیں لیڈی ڈیانا کی المناک موت کے بعد اینڈریو کی گرفتاری کو شاہی خاندان کیلئے سب سے سنگین چیلنج قرار دیا جارہا ہے۔ شاہ چارلس ستمبر 2022ءمیں تخت نشین ہونے کے بعد سے یکے بعد دیگرے مشکلات اور بحرانوں سے دوچار ہیں۔ ان کا چھوٹا بیٹا شہزادہ ہیری شادی کے بعد شاہی خاندان چھوڑ کر اپنی اہلیہ میگھن مارکل کیساتھ امریکہ منتقل ہوچکا ہے جس نے اپنی یادداشت کی اشاعت کے بعد پہلے ہی شاہی خاندان کو عوامی بحث کا مرکز بنادیا تھا اور اب برطانوی بادشاہ چارلس سوم کے بھائی اینڈریو پر نابالغ لڑکیوں کے جنسی استحصال اور حساس سرکاری دستاویزات کی غیر قانونی طور پربدنام زمانہ امریکی جنسی مجرم جیفری ایپس ٹین کو فراہم کرنے کے الزامات نے صورتحال کو مزید گھمبیر بنادیا ہے۔ ان الزامات کے تناظر میں اینڈریو کی گرفتاری کو 300 سال میں کسی برطانوی شاہی شخصیت کے خلاف قانونی کارروائی کی ایک غیر معمولی مثال قرار دیا جارہا ہے جس نے برطانوی شاہی خاندان کی ساکھ پر سنجیدہ سوالات کھڑے کردیئے ہیں تاہم اس کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ برطانیہ نے عملی طور پر ثابت کردیا ہے کہ قانون کی بالادستی ہر فرد پر یکساں لاگو ہوتی ہے، خواہ وہ شاہی خاندان کا رکن ہی کیوں نہ ہو جس کا پاکستان جیسے معاشرے میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اینڈریو کی گرفتاری سے ٹرمپ انتظامیہ شدید دبائو کا شکار ہے کیونکہ ایپس ٹین فائلز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، سابق امریکی صدر بل کلنٹن، مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس اور دیگر معروف امریکی شخصیات کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی مگر برطانیہ نے اپنے شہزادے کو گرفتار کرکے یہ ثابت کردیا کہ شاہی فرد بھی قانون سے بالاتر نہیں۔ اس طرح آنے والے وقت میں امریکہ اور دیگر ممالک میں بھی معروف شخصیات کی جیفری ایپس ٹین سے تعلقات رکھنے اور جنسی جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات میں احتساب اور گرفتاریاں متوقع ہیں۔