• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آئی سی سی ججز کا ٹرمپ انتظامیہ پر مقدمہ، خود پر پابندیاں غیر قانونی قرار دیدیں

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے 3 ججوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے خود پر عائد پابندیوں کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔

ججوں کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات عدالتی فیصلوں پر اثرانداز ہونے اور انہیں دباؤ میں لانے کے لیے کیے گئے۔

گزشتہ روز مین ہٹن کی وفاقی عدالت میں دائر کیے گئے مقدمے میں کینیڈا کی جج کمبرلی پروسٹ، یوگنڈا کی جج سولومی بالونگی بوسا اور بینن کی جج رین ایڈیلیڈ سوفی الاپینی گانسو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکی پابندیوں کا مقصد عدالت کے ججوں کو سزا دینا اور ان کے فیصلوں پر غیر عدالتی دباؤ ڈالنا تھا۔

خیال رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ سال آئی سی سی کے متعدد ججوں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب عدالت نے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا، جبکہ اس سے قبل افغانستان میں امریکی فوجیوں کے مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کا آغاز بھی کیا گیا تھا۔

پابندیوں کے نتیجے میں مذکورہ ججوں کے امریکا میں موجود اثاثے اور جائیدادیں منجمد کر دی گئیں، جبکہ امریکی اداروں اور افراد کو ان کے ساتھ مالی لین دین، خدمات یا اشیاء کی فراہمی سے بھی روک دیا گیا۔

آئی سی سی کا دائرۂ اختیار

2002ء میں قائم ہونے والی بین الاقوامی فوجداری عدالت نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے مقدمات کی سماعت کا اختیار رکھتی ہے، بشرطیکہ متعلقہ ملک عدالت کا رکن ہو یا معاملہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے عدالت کو بھیجا گیا ہو۔

اگرچہ آئی سی سی کے 125 رکن ممالک اس کے دائرۂ اختیار کو تسلیم کرتے ہیں، تاہم امریکا، چین، روس اور اسرائیل سمیت کئی ممالک عدالت کی قانونی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے۔

ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں بھی ان کی انتظامیہ نے افغانستان سے متعلق تحقیقات کے باعث اُس وقت کی چیف پراسیکیوٹر فاتو بینسودا اور ان کے ایک معاون پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

پابندیاں اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں: جج

مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ پابندیاں انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (IEEPA) کی حدود سے تجاوز کرتی ہیں اور ان کی بنیاد کسی حقیقی قومی ہنگامی صورتِ حال یا غیر معمولی خطرے پر نہیں رکھی گئی تھی۔

عدالتی درخواست میں کہا گیا ہے کہ پابندیوں کا نظام ان ججوں اور آئی سی سی کے دیگر اراکین پر غیر عدالتی دباؤ ڈالنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے، تاکہ ان کے مالی اور ذاتی مفادات کو نشانہ بنا کر انہیں سابقہ عدالتی فیصلوں کی سزا دی جا سکے اور مستقبل میں قانون اور حقائق کی بنیاد پر فیصلے کرنے کے بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دینے پر مجبور کیا جا سکے۔

ججوں کے مطابق ان پابندیوں نے ہماری روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے، آئی ای ای پی اے کے تحت ایسی پابندیوں کا سامنا کرنا مالیاتی سزائے موت کے مترادف ہے، ان پابندیوں کے باعث جج پروسٹ، بوسا اور الاپینی گانسو کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے، بینکنگ خدمات تک رسائی حاصل کرنے، ایمیزون اور گوگل جیسے آن لائن پلیٹ فارمز استعمال کرنے، سفر کی بکنگ کرانے اور بعض صورتوں میں ہیلتھ انشورنس حاصل کرنے سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔

ججوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ پابندیوں کے باعث ان کی عدالت میں زیرِ سماعت یا مستقبل کے مقدمات میں شواہد اور قانونی دلائل جمع کرانے کے عمل میں بھی رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے، جو عدالتی کارروائی اور انصاف کی فراہمی کے لیے نقصان دہ ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید