امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون نے اسرائیل سے متعلق جاسوسی کے خطرے کی درجہ بندی بڑھا کر ’انتہائی سنگین‘ کر دی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی خفیہ ادارے ایران سے متعلق امریکا کی پالیسی اور مذاکراتی سرگرمیوں کی معلومات حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ اسرائیل نے ایران سے مذاکرات سے وابستہ اہم امریکی عہدیداروں کی سرگرمیوں اور رابطوں پر نظر رکھنے کی کوشش کی ہے۔
بعض امریکی اہلکاروں کے موبائل فونز میں مبینہ طور پر نگرانی کے سافٹ ویئر کی موجودگی بھی سامنے آئی ہے۔
اسرائیل نے جاسوسی کے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی اداروں یا حکام کے خلاف کوئی خفیہ معلومات جمع نہیں کرتے جبکہ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بھی میڈیا رپورٹس کو غلط قرار دیا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ سفارتی معاہدے پر امریکا اور اسرائیل کے مفادات میں اختلاف بڑھ رہے ہیں۔
اسرائیل کو خدشہ ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی طویل المدتی معاہدے سے ایران کے خلاف اس کی آئندہ فوجی کارروائیوں کی گنجائش محدود ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل پر ماضی میں بھی امریکا کے خلاف جاسوسی کے الزامات لگتے رہے ہیں، سب سے مشہور واقعہ 1985ء میں امریکی بحریہ کے تجزیہ کار جوناتھن پولارڈ کا تھا جسے اسرائیل کو خفیہ معلومات فراہم کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔
الجزیرہ کے مطابق تجزیہ کاروں کا اس معاملے سے متعلق کہنا ہے کہ موجودہ صورتِحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران کے معاملے پر واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان اختلافات نمایاں ہو رہے ہیں جبکہ اسرائیل امریکی مذاکراتی حکمتِ عملی سے متعلق معلومات حاصل کرنے میں غیر معمولی دلچسپی رکھتا ہے۔