مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹس کو نجی راز سونپنا کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے، اس کی ایک مثال حالیہ رپورٹ میں سامنے آئی ہے، جہاں ایک چینی شخص کی غلطی سے ایک مبینہ خفیہ مہم بے نقاب ہو گئی۔
رپورٹ کے مطابق یہ مہم کسی خفیہ ایجنسی نہیں بلکہ اوپن اے آئی نے بے نقاب کی، جو چیٹ جی پی ٹی کی خالق کمپنی ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ ایک صارف چیٹ جی پی ٹی کو ذاتی نوٹ بک یا ڈائری کے طور پر استعمال کر رہا تھا اور اسی دوران اس نے مبینہ طور پر بیرونِ ملک مقیم مخالفین کو ہراساں کرنے کی منصوبہ بندی کی تفصیلات درج کیں۔
اوپن اے آئی کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ صارف نے چیٹ بوٹ کو ایک ’رننگ جرنل‘ کے طور پر استعمال کیا، جس میں وہ مبینہ خفیہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور پیش رفت ریکارڈ کرتا رہا۔
ان کارروائیوں میں بیرونِ ملک مقیم ناقدین کو امریکی امیگریشن حکام کا روپ دھار کر دھمکانے اور جعلی عدالتی دستاویزات کے ذریعے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان کے اکاؤنٹس بند کرانے کی کوششیں شامل تھیں۔
کمپنی کے مطابق اس مبینہ مہم میں سیکڑوں افراد اور ہزاروں جعلی آن لائن اکاؤنٹس مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سرگرم تھے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کو براہِ راست زیادہ تر مواد تیار کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا گیا، بلکہ اسے بنیادی طور پر منصوبہ بندی اور ریکارڈ رکھنے کے لیے استعمال کیا گیا، جبکہ دیگر نظاموں کے ذریعے مواد آن لائن پھیلایا گیا۔
اوپن اے آئی نے مشتبہ سرگرمی کی نشاندہی کے بعد متعلقہ اکاؤنٹ معطل کر دیا۔
مزید برآں، رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ مبینہ طور پر ایک ناقد کی جھوٹی موت کی خبر گھڑنے کی کوشش بھی کی گئی، جس کے لیے جعلی تعزیتی بیان اور قبر کے کتبے کی تصاویر تیار کر کے آن لائن پھیلائی گئیں۔
اوپن اے آئی کے مطابق اس مہم کا دائرہ صرف عام مخالفین تک محدود نہیں تھا بلکہ عالمی رہنماؤں کو بھی نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صارف نے چیٹ جی پی ٹی سے جاپان کی ممکنہ وزیرِاعظم سانائی تکائچی کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے کا منصوبہ تیار کرنے کو کہا، جس میں امریکی ٹیرف کے معاملے پر عوامی غصے کو ہوا دینے کی حکمتِ عملی شامل تھی۔