• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا سے جنگ بندی مذاکرات کے دوران امارات کے ایرانی منجمد فنڈز کھولنے کی اطلاعات، ابوظبی کی تردید

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی ایک خصوصی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے ایران کے لیے اربوں ڈالرز کے منجمد فنڈز جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

رائٹرز نے اپنے ذرائع سے دعویٰ کیا ہے کہ یو اے ای نے ایران کے لیے منجمد فنڈز جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ عرب میڈیا الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ابوظبی نے فوری طور پر اس خبر کی سختی سے تردید کر دی ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور تنازع کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات کے دوران متحدہ عرب امارات نے ایران کے لیے 10 ارب ڈالرز تک فنڈز جاری کرنے پر آمادگی ظاہر کی جن میں سے 3 ارب ڈالرز پہلے ہی فراہم کیے جا چکے ہیں، بعض ذرائع نے یہ رقم 20 ارب ڈالرز تک بتائی ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فنڈز جاری کرنے کے نتیجے میں ایران اور متحدہ عرب امارات میزائل اور ڈرون حملے روکنے، تعلقات، اقتصادی تعاون اور انٹیلی جنس روابط بہتر بنانے پر متفق ہو سکتے ہیں۔

تاہم الجزیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو 3 ارب ڈالرز یا کسی بھی رقم کی منتقلی سے متعلق تمام دعوے بے بنیاد ہیں اور کوئی منجمد ایرانی فنڈ جاری یا منتقل نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا ہے کہ کسی ممکنہ معاہدے پر دستخط ہوتے ہی ایران کو فوری طور پر منجمد فنڈز جاری نہیں کیے جائیں گے بلکہ معاشی فوائد ایران کی جانب سے معاہدے کی شرائط پوری کرنے سے مشروط ہوں گے۔

الجزیرہ کے مطابق ایرانی حکام نے اس معاملے پر فوری طور پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید