ایک وقت تھا جب طالبان کے نام پر جذبات ابھارے جاتے تھے۔ انہیں مزاحمت کی علامت کہا جاتا تھا، امتِ مسلمہ کی غیرت قرار دیا جاتا تھا، سامراج کے مقابل کھڑی دیوار کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ پاکستان میں بھی بڑی تعداد یہ سمجھتی تھی کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت اگر اسٹرٹیجک گہرائی نہیں تو کم از کم ایک برادر اسلامی ہمسایہ ضرور ثابت ہوگی۔ آخرکار انہیں اقتدار میں لانے میں پاکستان نے صرف سفارت کاری ہی نہیں کی تھی بلکہ دہائیوں کی قربانیاں بھی دی تھیں، عالمی دباؤ برداشت کیا تھا اور طعنوں کے باوجود ساتھ کھڑا رہا تھا۔لیکن تاریخ کا المیہ یہی ہے کہ وہ اکثر امیدوں کو بے لباس کر دیتی ہے۔
پہلاپردہ اس دن سرکا جب بھارت نے پاکستان پر کھلی جارحیت کی۔ یہ کوئی غلط فہمی نہیں تھی بلکہ پرانی دشمنی کا تسلسل تھا، ایک واضح محاذ اور سوچا سمجھا حملہ۔ پاکستان نے جواب دیا۔ آپریشن بنیان مرصوص محض ایک فوجی کارروائی نہیں تھا بلکہ ریاستی اعتماد کا اعلان تھا۔ دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ طاقت کیا ہوتی ہے اور بزدلی کس طرح پسپا ہوتی ہے۔ بھارتی غرور زمین پر آ گرا اور پاکستانی عزم پوری قوت کے ساتھ ابھرا۔ایسے وقت میں مسلم دنیا کی نظریں فطری طور پر کابل کی طرف اٹھیں۔ ایک برادر اسلامی ملک، ایک ہمسایہ، ایک ایسا نظام جس کیلئے پاکستان نے عالمی فورمز پر کھل کر موقف اپنایا تھا۔ توقع کسی عسکری مدد کی نہیں تھی، صرف اتنی امید تھی کہ دشمن کے بیانیے میں شریک نہیں ہوگا، کم از کم اخلاقی حمایت تو ملے گی۔
لیکن وہاں سے خاموشی نہیں آئی بلکہ ایک ایسا منظر سامنے آیا جس نے برسوں کی خوش فہمی توڑ دی۔طالبان کا وزیر خارجہ بھارت میں بیٹھا تھا۔ نہ کسی کانفرنس کے حاشیے میں، نہ کسی مجبوری کے پردے میں، بلکہ کھلے عام۔ اور وہاں سے جو زبان بولی گئی وہ کابل کی نہیں بلکہ دہلی کی تھی۔ پاکستان کے خلاف وہی پرانے الزامات، وہی سازشی لہجہ اور وہی نفرت آمیز لغت۔یہ وہ لمحہ تھا جب طالبان کے حمایتیوں نے پہلی بار خود سے سوال کیا۔ کیا یہی وہ لوگ ہیں جنہیں غیرت کی علامت کہا جاتا تھا؟ کیا یہی وہ قیادت ہے جس پر اتنا اعتماد کیا گیا تھا؟
پھر دوسرا پردہ گرا، اور اس بار منظر اور بھی چونکا دینے والا تھا۔نریندر مودی اسرائیل پہنچا۔ وہ اسرائیل جہاں فلسطینی بچوں کی لاشیں روزمرہ کی خبر بن چکی ہیں، جہاں بمباری معمول ہے اور قتل کو دفاع کا نام دیا جاتا ہے۔ اسی اسرائیل کی پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر مودی نے پاکستان کے خلاف زہر اگلا اور اسی سانس میں طالبان رجیم کی تعریفیں کیں۔ یہ محض سفارتی جملے نہیں تھے بلکہ ایک ناپاک صف بندی کا اعلان تھا۔اور پھر وہ جملہ سامنے آیا جس نے رہی سہی پردہ داری بھی ختم کر دی۔ نیتن یاہو، جسکے ہاتھ لاکھوں مسلمانوں کے خون سے رنگے ہیں، ڈھٹائی سے یہ کہتا ہے کہ طالبان کا سپریم لیڈر اس کا دوست ہے، اس کا آدمی ہے، مودی کا آدمی ہے۔یہاں کسی تجزیے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ تصویر خود بخود مکمل ہو جاتی ہے۔ بھارت، اسرائیل اور طالبان ایک ہی صف میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں، اور نشانہ صرف ایک ہے، پاکستان۔
اسی پاکستان کے خلاف سرحدی چھیڑ چھاڑ، فتنہ انگیزی، پراکسی کردار اور سفارتی محاذ پر زہر گھولنا اب حادثات نہیں لگتے بلکہ ایک منظم منصوبے کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔
لیکن طالبان شاید یہ بھول گئے تھے کہ پاکستان صرف صبر نہیں کرتا، حساب بھی رکھتا ہے۔یہاں کہانی نے فیصلہ کن موڑ لیا۔ پاکستانی قوم اور پاک فوج ایک صف میں کھڑی ہو گئیں، اور پھر وہ سبق دیا گیا جو تاریخ میں درج ہو گیا۔ سرحد پار طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ چار سو سے زائد مسلح جنگجو مارے گئے، درجنوں فوجی پوسٹیں تباہ ہوئیں، اٹھارہ اہم چیک پوسٹوں پر کنٹرول حاصل کیا گیا، اور افغانستان کے اندر پھیلا ہوا ان کا عسکری نیٹ ورک ٹوٹ کر رہ گیا۔ وہ طالبان جو کل تک زبان درازی کر رہے تھے، آج اپنی ہٹ دھرمی، غلط صف بندی اور ناپاک ارادوں کا نتیجہ انہوں نے خود بھگتا اور ایک بار پھر تباہی کے دہانے پر جا کھڑے ہوئے۔یہ طاقت کا مظاہرہ نہیں تھا بلکہ ایک واضح پیغام تھا۔ دو ٹوک اور فیصلہ کن۔
جس فوج نے اپنے سے دس گنا بڑے دشمن بھارت کو ناکوں چنے چبوائے، اس کیلئے یہ فتنہ بھی کوئی ناقابلِ حل مسئلہ نہیں تھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پاکستان لڑائی نہیں چاہتا مگر کمزوری دکھانا بھی نہیں جانتا۔یہ محاذ صرف عسکری نہیں تھا۔ قیادت بھی پوری طرح متحرک نظر آئی۔ وزیراعظم نے عالمی سطح پر پاکستان کا مقدمہ پوری قوت سے اٹھایا اور دنیا کو باور کرایا کہ پاکستان کسی کی پراکسی نہیں بلکہ ایک خودمختار ریاست ہے۔ اندرونِ ملک فوج اور قوم کو ایک لڑی میں پرویا گیا، جبکہ بیرونِ ملک ایک مربوط سفارتی اور ابلاغی بیانیہ تشکیل دیا گیا۔ وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور ان کی ٹیم نے جدید میڈیا وار کو سمجھتے ہوئے پاکستان کا کیس مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے رکھا، جھوٹے بیانیوں کا بروقت جواب دیا اور طالبان کی اصل حقیقت عالمی رائے عامہ کے سامنے بے نقاب کی۔ اسحاق ڈار نے سفارتی محاذ پر اپنے تجربے اور تحمل کے ساتھ پاکستان کا مؤقف پیش کیا اور واضح کیا کہ خطے میں عدم استحکام کون پھیلا رہا ہے اور امن کی بات کون کر رہا ہے۔افغان عوام سے ہمارا کوئی جھگڑا نہیں، لیکن جو کابل میں بیٹھ کر دہلی اور تل ابیب کی زبان بولے، اسے یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان صرف صبر ہی نہیں بلکہ صلاحیت بھی رکھتا ہے، اور سبق سکھانےکی مکمل اہلیت بھی۔