جب نصف صدی اندھے راستوں پر دھاک لگا کر بیٹھے بارود پوش اُجالوں پر دھوئیں پھینک کر زندگی کا چہرہ بگاڑنے سے باز نہ آئیں، جب شر کی مسلسل یلغار سے زمین بانجھ ہونے لگے، جب دھماکوں کی ہیبت سے لرزتی فضا سے پرندے اور خوشبو ہجرت کر جائیں ، جب شہر جبر ، بے بسی اور لاچاری کا ایسا حبس خانہ بن جائیں جہاں آزادی اور سُکھ کا سانس لینا دوبھر ہو جائے ،جب ہر طرف انجانا خوف مسلط محسوس ہو، جب روز جوان لاشیں ڈھونے والوں کے حوصلے بوڑھے ہونے لگیں، جب مائوں کی آنکھوں میں تیرتے سوال ریاست کے امیر اور وقت کے سپہ سالار کے ضمیر پر کچوکے لگانے لگیں تو جنگ لازم اور سیاسی افہام و تفہیم اور مذاکرات بے معنی ہو جاتے ہیں کہ دہشت اور وحشت کے بیوپاری لین دین تک محدود ہوتے ہیں، انکے سسٹم سے دلیل اور منطق اکھاڑ کر پھینک دیئے جاتے ہیں ، موت بانٹنے والے روبوٹ کی طرح بٹن دبا کر اپنے سمیت کتنے دھڑکتے دلوں کو آگ کے شعلوں میں جلا کر بھسم کر دیتے ہیں۔ ایک نسل جوان ہو کر بوڑھی ہو گئی مگر آگ اور خون کا یہ کھیل جاری رہا، یوں تو دو مسلم اورہمسایہ ممالک پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کبھی مثالی تو دور کی بات ہے قابل برداشت بھی نہیں رہے، ہمیشہ بداعتمادی کا دور دورہ رہا، پاکستان کا وجود تسلیم نہ کرنیوالی افغانستان اسٹیبلشمنٹ بار بار دخل اندازی اور چپقلش کے اسباب پیدا کرتی رہی، ہندوستان اور دیگر مسلمان دشمن ممالک کی پراکسی بن کر اندر باہر سے زخم دیتی رہی، اتنے دھوکے کھانے اور رنج اُٹھانے کے باوجود روس کیساتھ جنگ میں پاکستان نے پورے خلوص سے اپنے افغان بہن بھائیوں کو اپنے ملک میں پناہ دی، ان میں ایسے بیوپاری بھی آگئے جنہوں نے ہیروئین، کلاشنکوف اور رجعت پسندی کا زہر ہمارے سماج میں ایسے پھیلایا کہ ہمارا پورا منظرنامہ ہی میلا ہو گیا۔ ضیاء الحق کی عاقبت نا اندیشی کا خمیازہ پوری قوم اور ہر حکومت نے بُھگتا اور آج تک بھگت رہے ہیں ۔مگر اب ہماری برداشت کی حد ہو چکی ہے، اس دہشت گردی نے ہماری معیشت اور سیاحت کے آگے ایسی دیوار کھڑی کردی ہے جسے مسمار کرناہمارے اپنے وجود کیلئےلازم ہے، جب ایک عرصہ پاکستانی پاسپورٹ پر سفر کرنے والے کچھ افغانیوں کے منفی رویوں نے ہماری شناخت کو دھندلا دیا تو پاکستانی ریاست کو متحرک ہونا پڑا، پاکستان آکر بس جانیوالے افغا نوں کو اس زمین سے وفاکرنی چاہئے تھی مگر ایسا نہ ہوا، وہ یہاں رہتے ہوئے بھی انڈیا کے ہمنوا اور پاکستان کے خلاف رہے بلکہ طالبان کی سوچ کو پروان چڑھانے میں معاونت کرتے رہے، طالبانی حکومت کی بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گرد تنظیموں سے مل کر اندھیر نگری کے کئی ثبوت ڈی جی آئی ایس پی آر نے دنیا کو دکھائے ، آج تک سب سے زیادہ پاکستانی شہری اور فوجی افغان طالبان کے ہاتھوں جان سے گئے ،پاکستان نے بارہا اچھا ہمسایہ بنکر سمجھایا ، مذاکرات کئے مگر حالات بدتر ہوتے گئے،ریاست اپنی رِٹ قائم کرنے کیلئے اندھیر نگری مچانے والوں کو کب تک برداشت کرتی، اسے جنگ کا سخت فیصلہ کرنا پڑا۔ آج افغانستان جس مقام پر کھڑا ہے، تہذیب اور ترقی کے سفر میں دنیا میں ایسا ڈھانچہ کہیں موجود نہیں ۔ عورت کو بطور فرد تسلیم نہ کرنیوالوں نے تعلیم ، کھیل،ملازمت اور تفریح اُس پر حرام کر رکھی ہے، پاکستان نے طالبان کیخلاف جس معرکے کا آغاز کیا ہے سب خیر کی علمبردار قوتوں کو پاکستان کا ساتھ دینا چاہئے، تاکہ افغانستان میں طالبان کی متشدد حکومت انجام کو پہنچے اور ایک مہذب رویوں کی حامل حکومت تشکیل پائے تاکہ وہاں کے رہنے والے بھی خوف کے سائے سے نکلیں اور دیگر ملکوں میں مہاجر کی زندگی گزارنے والے بھی اپنے وطن لوٹ سکیں۔ افغانستان کے دانشور طبقے کو تاریخ سے مغالطے نکالنا پڑینگے اور ملکوں کی حد بندی کو تسلیم کرکے اچھی ہمسائیگی کا سفر شروع کرنا ہوگا۔ دعا کرتی ہوں کہ پچاس پچپن سال قبل والا وہ سنہرا دور واپس آئے جب دشمن سے جنگ کی صورت میںہر پاکستانی اپنے ملک کی حفاظت کرنیوالوں کیساتھ کھڑا ہوتا تھا،وطن سے محبت کسی فردِ واحد کی چاہت سے مشروط نہ تھی، زمین سے بے وفائی اور انسانوں سے بدتہذیبی کو شعور کا نام نہیں دیا جاتا تھا۔ پاکستان، ایران اور ترکی ثقافتی رشتوں میں بندھے دکھائی دیتے تھے، تینوں رجعت پسندی سے دور روشن خیال ممالک تصور ہوتے تھے،مذہبی انتہا پسندی کا بیج بونے والوں نے پوری دنیا کی فضا مکدر کر دی ہے، ہماری زندگی کی بقا ہمارے ملک کے استحکام سے جڑی ہے، آج ہماری ریاست تاریخ کی درست سمت سفر آغاز کر چکی ہے ماضی کی غلطیوں کا بار بار حوالہ دینے کی بجائے روشن خیالی اور خوشحالی کے اس سفر میں اپنا کردار ادا کیجئے۔