مصنّف: احسن بودلہ
صفحات: 190، قیمت: 1000 روپے
ناشر: یاسر پبلی کیشنز، لاہور۔
فون نمبر: 4401019 - 0324
مصنّف کا کہنا ہے کہ’’ مجھے لگتا ہے، ہمارے ہاں پدر شاہی اور روایتی سوچ کی جڑیں اِس قدر گہری ہوچُکی ہیں کہ اب اِس میں بدلاؤ کے لیے عورتوں کے ساتھ مَردوں کو بھی نہ صرف اپنی سوچ بدلنا ہوگی بلکہ اِس حوالے سے تن دہی سے کام بھی کرنا ہوگا، کیوں کہ جب مرد اِس ضمن میں پدر شاہی سوچ چھوڑ کر فیمینزم اپنائیں گے، تو اِس سے ایک طرف اُن کے اردگرد موجود خواتین کی زندگیاں قدرے آسان ہوں گی، تو دوسری طرف، اُن سے متاثر ہوکر باقی مرد و خواتین کی سوچ کے زاویے بھی بدل سکتے ہیں۔‘‘ اور اُنھوں نے اِس کتاب کے ذریعے اِس مہم میں اپنا حصّہ ڈالا ہے۔
فیمینزم کی تعریف، دائرۂ کار، نعروں، اِس کے عَلم برداروں کے رویّوں، مہم کے سماجی اثرات اور اِسی نوعیت کے دیگر معاملات پر لاکھ اختلافات کے باوجود، اِس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ آج کے جدید دَور میں بھی خواتین کی بہت بڑی تعداد اپنے بنیادی حقوق تک سے محروم ہے۔ چند روز قبل سوشل میڈیا پر کرکٹ کھیلتی ایک بچّی کی ویڈیو وائرل ہوئی، پھر یہ خبر بھی سامنے آئی کہ جس نوجوان نے ویڈیو بنائی تھی، اُسے انتہاپسندوں نے اغوا کرلیا اور ویڈیو کی صُورت معافی نامہ جاری کرنے ہی پر اُسے رہائی ملی۔
ہمارے ہاں خواتین کی تعلیم، مشاغل اور روزگار سے متعلق اِس طرح کی سوچ تھوک کے حساب سے دست یاب ہے، جس کے مظاہرے بھی ہم دیکھتے رہتے ہیں۔ تو اِس پس منظر میں مَردوں پر لازم ہوجاتا ہے کہ وہ کُھل کر خواتین کے حقوق سے متعلق آواز بلند کریں کہ اِن معاملات کا تعلق کسی نہ کسی طور اُن کی ذات ہی سے ہے۔ احسن بودلہ نے اپنے اِن چالیس مضامین میں، جو مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر شایع ہوتے رہے ہیں، خواتین کا مقدمہ بہت بھرپور اور جان دار طریقے سے لڑا ہے۔
اُن کی تحریر عام فہم ہونے کے ساتھ، علمی مزاج کی حامل ہے، اِس لیے یہ مضامین اُن افراد کو بھی ضرور پڑھنے چاہئیں، جو فیمینزم تحریک سے متعلق مختلف رائے رکھتے ہیں کہ اِس طرح دوسرا نقطۂ نظر بھی سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ یہاں اِس امر کا اظہار بھی ضروری ہے کہ خواتین کے حقوق کی اِس جنگ میں مذہب یا مختلف سماجی روایات کو بلاوجہ اور غیر ضروری طور پر مخالف فریق سمجھنے جیسے رویّے نے تحریک کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔
مذاہب، بالخصوص اسلام نے خواتین کا جس طرح تحفّط کیا ہے، اُس کا ادراک کیے بغیر ہمارے معاشرے میں مطلوبہ نتائج کا حصول ممکن نہیں۔ ہاں، اسلامی تعلیمات پر اُن کی رُوح کے مطابق عمل نہ ہونے سے جو مسائل جنم لے رہے ہیں، اُنھیں مناسب طریقے سے ضرور زیرِ بحث لانا چاہیے۔
ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کا کہنا ہے کہ’’ یہ تحاریر تمام عورتوں کے لیے بہار کا جھونکا ہے، جن میں ایک مرد نے اُن کا ساتھ دینے کا ارادہ کرتے ہوئے اپنی صنف کی بالادستی کو چیلنج کیا ہے۔‘‘ نسیمہ زاہد، کنول بہزاد، سعدیہ مظہر، فہمینہ ارشد اور دُعا عظیمی نے بھی اِسی طرح کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے باقی مَردوں کو بھی آگے بڑھنے کی دعوت دی ہے۔