(ڈاکٹر ہلال نقوی نمبر، جِلد دوم)
مدیر: نقوش نقوی
صفحات: 832، قیمت خصوصی شمارہ: 500 روپے
برائے رابطہ: نازش باغ، B-6/C، امروہہ سوسائٹی، سیکٹر اے-37، اسکیم 33، کراچی۔
فون نمبر: 2683813 - 0301
اِس سلسلے کی پہلی جِلد مشاہیر اور ادبا کے ڈاکٹر ہلال نقوی کے نام ساڑھے پانچ سو مکاتب پر مبنی تھی اور اِس دوسری جِلد میں اُن کی شخصیت و خدمات کو موضوع بنایا گیا ہے، جب کہ تیسری جِلد بھی تیاری کے مراحل میں ہے۔ ڈاکٹر ہلال نقوی کا بنیادی حوالہ تو اُردو مرثیے کے منفرد شاعر کے طور پر ہے، تاہم مدیر، نقّاد اور محقّق کے طور پر بھی ادبی دنیا میں نمایاں مقام کے حامل ہیں۔
اُن کی تالیفات و تصنیفات کی تعداد40کے لگ بھگ ہے، جن کے موضوعات میں اُردو مرثیہ اور’’جوش‘‘ مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ اُنھوں نے جوش ملیح آبادی کے24 شعری مجموعے تدوین کے جدید اصولوں کے مطابق تین جِلدوں میں’’کلیاتِ جوش‘‘ کی صُورت مرتّب کرکے ایک اہم ادبی کارنامہ سرانجام دیا۔ اِسی طرح جوش کی مشہور کتاب’’یادوں کی برات‘‘ کے جدید ایڈیشن کی اشاعت نے بھی اُن کے ادبی مقام میں اضافہ کیا۔ ڈاکٹر ہلال نقوی کا بطور مدیر ایک اہم کام، انیس و دبیر پر خصوصی شماروں کی اشاعت بھی ہے۔
مختلف نقّاد، ادبا، شعراء اور دیگر اہلِ علم و قلم، ڈاکٹر ہلال نقوی کی شخصیت و ادبی خدمات پر اپنے اپنے انداز میں اظہارِ خیال کرتے رہے ہیں۔ نقوش نقوی نے’’سخنور‘‘ کے اِس خصوصی شمارے میں ایسی بہت سی تحاریر جمع کردی ہیں، جن سے’’ہلال شناسی‘‘ قدرے آسان ہوگئی کہ اب بھی اُن کی حیات و خدمات مزید تفصیلات کی متقاضی ہے اور اِسی لیے مدیر سخنور نے ہلال نقوی نمبر کی چوتھی جِلد کا بھی عندیہ دیا ہے۔
اِس خصوصی شمارے کا آغاز30 نام وَر شخصیات کے اُن مضامین سے کیا گیا ہے، جن میں ہلال نقوی کی شخصیت و فن پر مختلف جہات سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ پھر’’ مطالعۂ جوش‘‘،’’پہلا مرثیہ:مقتل و مشعل‘‘،’’ غالب لائبریری کراچی میں تقریبِ اجراء‘‘،’’ ایثار و پیکار، قندیل صبر اور پسِ تاریخ‘‘،’’مرثیہ ہاتھ‘‘، ’’مرثیہ الحمد‘‘اور’’جائزہ‘‘کے عنوانات کے تحت مختلف گوشے قائم کیے گئے ہیں۔
اِن گوشوں میں ڈاکٹر ہلال نقوی کی شاعری اور تصنیفات کے ساتھ اُن کے شخصیت کے مختلف پہلوؤں کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ جوش ملیح آبادی، فیض احمد فیض، افتخار عارف، سحر انصاری، ڈاکٹر فاطمہ حسن، ڈاکٹر فرمان فتح پوری، جمیل الدین عالی، ڈاکٹر محمد علی صدیقی، کنور مہندر سنگھ بیدی، کیفی اعظمی، شان الحق حقی، ناصر عباس نیر، علّامہ طالب جوہری، تابش دہلوی، مجنوں گورکھپوری، عصمت چغتائی، سلیم احمد، نصیر ترابی، فراست رضوی، مبین مرزا، اشفاق حسین، شاہدہ حسن اور دیگر بہت سی قدآور شخصیات نے اپنے مضامین اور تاثرات میں ڈاکٹر ہلال نقوی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اُن کی ادبی خدمات کا جائزہ پیش کیا ہے۔
اداریے میں واضح کردیا گیا ہے کہ کسی ادبی رسالے میں مشاعروں کی طرح تقدیم و تاخیر ممکن نہیں، لہٰذا یہاں بھی جس ترتیب سے نام درج ہوئے ہیں، اُس پر وہی اصول لاگو سمجھا جانا چاہیے۔ خصوصی نمبر کے پہلے شمارے پر جو آراء سامنے آئیں، اُن کا مدیر نے یہ خلاصہ بیان کیا ہے۔’’مُردہ پرستی کی اِس روایت کو توڑ دینے پر لوگ بہت شاداں تھے، جو ہمارے تہذیبی کلچر میں قائم ہوگئی تھی۔
جب کوئی گزر جاتا ہے، تو ہم اُسے اپنی تحریروں میں یاد کرتے ہیں۔ ڈاکٹر ہلال نقوی ماشاء اللہ حیات ہیں، خدا اُنھیں یوں ہی سلامت رکھے۔‘‘ اِس شمارے کا یہ پہلو بھی شان دار ہے اور اُمید ہے کہ دیگر ادبی جرائد بھی دل بڑا کرتے ہوئے اِس روایت کو آگے بڑھائیں گے۔