• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آبنائے ہرمز کی بندش، ڈینش اور فرانسیسی کمپنیوں کے نہر سویز کے آپریشن بھی بند

واشنگٹن (اے ایف پی) ایران کے خلاف امریکا-اسرائیل کی فوجی کارروائی اورایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد عالمی بحری آمدورفت بشمول تیل کے ٹینکرز کی ترسیل میں خلل آگیا ہے۔ڈینش اور فرانسیسی کمپنیوں نے نہر سویز سے بھی آپریشن بند کر دئیے ہیں۔33فیصد کھادیں، اور پولیمر کیلیے ہائیڈرو کاربنز بھی آبنائے ہرمز کی آبی گزرگاہ سے گزرتے ہیں۔خلیج کے آس پاس جہازوں کے پھنس جانے اور ایران اور عمان سے متصل ایک اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کا مفلوج ہو جانا، ہائیڈرو کاربن سے باہر وسیع پیمانے پر شعبوں کے لیے ایک اہم تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔تجارتی تجزیہ فرم کلپر کے مطابق، دنیا کی تقریباً 33 فیصد کھادیں، بشمول سلفر اور امونیا، آبنائے ہرمز سے گزرتی ہیں۔یہ کھادیں قطر، سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات میں کارگو جہازوں پر لاد کر بھیجی جاتی ہیں، اور ان کی منزلیں ہندوستان اور چین سے لے کر برازیل اور افریقی ممالک تک متنوع ہیں۔

دنیا بھر سے سے مزید