حالات کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان گویا ایک ایسے منجدھار میں ہے جہاں ہر سمت سے لہریں اٹھ رہی ہیں اور ہر لہر اپنے ساتھ ایک نیا امتحان لے کر آ رہی ہے۔خطے کی موجودہ صورتحال نے پاکستان کیلئے مشکلات میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ ایک طرف ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں نے پورے مشرق وسطیٰ کو ایک نئی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایران نہ صرف ان حملوں کا جواب دے رہا ہے بلکہ امریکی مفادات اور اسرائیلی اہداف کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے اس بحران کے عین درمیان لا کھڑا کرتی ہے کیونکہ پاکستان ایران کا ہمسایہ ملک ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کیلئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے ملک میں موجود غیر ملکی سفارتخانوں، خصوصاً امریکی سفارتخانے اور دیگر امریکی مفادات کو بھی محفوظ رکھے اور ساتھ ہی اپنے ملک کو اس جنگ کے ممکنہ اثرات سے بھی بچائے۔دوسری طرف پاکستان خود ایک مہنگی اور طویل جنگ میں مصروف ہے۔ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں ڈالر اس جنگ پر خرچ ہو رہے ہیں، جبکہ پاکستان پہلے ہی ایک نازک معاشی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ یہ جنگ پاکستان کیلئے صرف سیکورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ معیشت کیلئے بھی ایک بڑا بوجھ بن چکی ہے۔
اس پیچیدہ صورتحال میں پاکستان کے علاقائی تعلقات بھی اسے ایک مشکل امتحان میں ڈال رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے قریبی تعلقات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ متحدہ عرب امارات نے پاکستان کو معاشی بحران سے بچانے کیلئے ایک ارب ڈالر پاکستانی بینکوں میں جمع کرائے ہوئے ہیں۔ اس وجہ سے یو اے ای کی توقعات بھی پاکستان سے وابستہ ہیں۔ اسی طرح قطر پاکستان کو بڑی مقدار میں گیس فراہم کرتا ہے جو پاکستان کی توانائی کی ضروریات کیلئے نہایت اہم ہے۔ قطر بھی یہ چاہتا ہے کہ پاکستان خطے میں ایک مثبت اور فعال کردار ادا کرے۔
سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات تو اس سے بھی زیادہ گہرے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ایک ایسا دفاعی معاہدہ موجود ہے جس کے تحت اگر سعودی عرب پر حملہ ہو تو اسے پاکستان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ حالیہ کشیدگی میں جب ایران کی جانب سے سعودی عرب پر حملے کی خبریں سامنے آئیں تو سعودی عرب کی نظریں بھی پاکستان کی طرف اٹھ گئیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی سفارت کاری اور ریاستی حکمت عملی کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ان تمام مشکلات کے درمیان ایک اور بڑا خطرہ بھی موجود ہے اور وہ ہے بھارت کی چالاکی۔ بھارت کی کوشش یہ رہی ہے کہ پاکستان کو ایک سے زیادہ محاذوں پر الجھا دیا جائے۔ افغانستان میں بدامنی اور دراندازی کے ذریعے پاکستان کو مصروف رکھا جائے تاکہ کسی مناسب موقع پر بھارت خود بھی کوئی جارحانہ قدم اٹھا سکے۔ اس صورتحال میں پاکستان کو نہ صرف مغربی سرحد بلکہ مشرقی سرحد پر بھی مسلسل چوکنا رہنا پڑ رہا ہے۔
جنگی ماحول کے معاشی اثرات بھی عام پاکستانی کی زندگی کو براہ راست متاثر کر رہے ہیں۔ ایران اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ اس کا براہ راست اثر پاکستان پر پڑ رہا ہے جہاں پٹرول کی قیمتیں تین سو سے بڑھ کر ساڑھے تین سو روپے فی لیٹر تک جا پہنچی ہیں۔ ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان اس وقت ایک انتہائی حساس اور نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ حکومت کے سامنے سفارتی، عسکری اور معاشی تینوں محاذوں پر بڑے فیصلے کرنے کا چیلنج موجود ہے۔ ہر فیصلہ دور رس اثرات کا حامل ہو سکتا ہے، اس لیے دانشمندانہ حکمت عملی اور متوازن سفارت کاری کی اشد ضرورت ہے۔پاکستان کو اس وقت جذباتی فیصلوں کے بجائے انتہائی سوچ سمجھ کر قدم اٹھانے ہوں گے۔ خطے کے تمام ممالک کے ساتھ توازن قائم رکھنا، اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھنا اور اپنے عوام کو جنگ کے اثرات سے بچانا ہی پاکستان کی اصل ترجیح ہونی چاہیے۔
آخر میں دعا یہی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ پاکستان کو اس مشکل صورتحال سے محفوظ رکھے اور ہماری قیادت کو ایسے دانشمندانہ فیصلے کرنے کی توفیق دے جو ملک کو اس خطرناک منجدھار سے نکال کر امن، استحکام اور ترقی کی سمت لے جائیں۔