• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسرائیل کا تہران میں آئل ڈپو پرحملہ ، تیل بہنے سے سڑکوں پر آگ کی ندی بہنے لگی


امریکا اور اسرائیل نے تہران میں آئل ڈپو پر حملے کیے جس سے تیل کے ذخائر میں آگ بھڑک اٹھی، تیل بہنے سے سڑکوں پر بھی آگ پھیلتی نظر آئی۔

ایرانی دارالحکومت تہران میں اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد تباہ ہونے والے تیل کے ڈپو سے بہنے والا تیل شہر کے سیوریج نظام میں داخل ہوگیا، جس کے نتیجے میں سڑکوں کے کناروں پر آگ بھڑک اٹھی اور اسے مقامی طور پر ’آگ کی ندی‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کی گئی، جس میں شہر کی ایک سڑک کے کنارے آگ کے شعلے مسلسل بھڑکتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

حکام کے مطابق تیل کے بہاؤ کے سیوریج لائنوں میں داخل ہونے سے بعض علاقوں میں آگ پھیل گئی، جس سے شہری انفرااسٹرکچر اور ماحولیات کو مزید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

 ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل کے اخراج کو فوری طور پر قابو نہ کیا گیا تو آگ مزید علاقوں تک پھیل سکتی ہے اور شہری آبادی کے لیے خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

اس سے قبل ایرانی وزارتِ آئل نے تصدیق کی تھی کہ اسرائیلی حملوں میں تین مختلف مقامات پر واقع ایندھن کے ذخیرہ ڈپو نشانہ بنے۔ ان میں کیرج بھی شامل ہے جو صوبہ البرز میں واقع ایک صنعتی شہر ہے۔

دوسری جانب تہران کی ریفائنری پر حملے کے بعد ایران نے اسرائیل کی حیفا ریفائنری پر حملہ کردیا، جبکہ ایران کویت ایئر پورٹ کے فیول ٹینکوں پر بھی ڈرون حملہ کیا گیا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے 24 گھنٹے کے دوران 200 امریکی فوجی ہلاک اور زخمی کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ  21 امریکی بحرین میں نیول اڈے پر مارے گئے، تیل کے امریکی جہاز کو بھی نشانہ بنایا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید