ہرسال دنیا آٹھ مارچ کو یومِ خواتین کی مناسبت سے عورتوں کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتےہوئے اُنکی عزت ،اہمیت ، حقوق اور معاشی و سماجی خودمختاری کیلئے عملی اقدامات کرتی ہے۔ ایک صدی پیشترشروع ہونے والے سفر میں پورے عالم میں امتیازی سلوک کی کڑواہٹیں جھیلنے والی نگاہوں، رسموں رواجوں اور زنگ آلود دیواروں میں مقید عورتوں نے جس تیزی سے اختیار اور اعتماد کی منزلیں طے کیں اور معاشرے کا مفید اور متحرک رکن بن گئیں وہ بہت خوش کُن ہے ۔ تاریخ شاہدہے کہ جب عورت کی آواز سے پہرے ہٹائے گئے تو فضا میں تہذیب ، تخلیق ،محبت اور خیر کے نغمے گونجے ۔ترقی یافتہ ملکوں نے جان لیا کہ اُن بچوں کی آنکھیں کیسے انسانیت کی آزادی کا خواب بن سکتی ہیں جنکے لاشعور میں مغالطے اور احساس میں اذیتیں رچی ہوں کہ بچے کی جینیاتی وراثتوں میں ماں کے دکھ سکھ بھی شامل ہوتے ہیں۔کوئی بھی جدید اور مہنگی ظاہری تعلیم ان دھبوں کو نہیں دھو سکتی جو روح پر ثبت ہو چکے ہوں، سو ترقی یافتہ دنیا کی عورتوں کی آگہی سے فیض یاب نئی نسل زیادہ پُر اعتماد وجود کے ساتھ واضح اور روشن خیالات کی مرہون منت ہے ، اس سارے تناظر میں آج پاکستانی عورت جس منزل پر کھڑی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ریاست نےبھی عورت کی سماجی و معاشی خودمختاری کیلئے بہت سے قوانین بنائے مگر رجعت پسندوں کے گروہ کی جارحیت کے آگے بند باندھنے میں عورت کی آواز اور قربانیوں نے اہم کردار ادا کیا، خوشی ہے کہ آج پاکستانی مردوں کی اکثریت اپنی بیٹیوں کے حوالے سے صنفی مساوات کی قائل ہے، ورنہ رجعت پسندتو عورت کو فرد کیا انسان سمجھنے کو تیار نہیں اس کی جھلک افغانستان کی آج کی عورت ہے جس کی جھولی سے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی آزادی ، بطور فرد جینے کے حقوق اور فیصلہ سازی کے اختیارات چھین لئے گئے ہیں۔اگرچہ ہمارے ہاں صورتحال کافی بہتر ہے مگر آج کے پاکستان میں بھی عورتوں کو کم چیلنجز کا سامنا نہیں ، مگر پاکستان کی عورت ہر میدان میں منفی رویوں اور فتنہ پروری کو برداشت کرتے مسلسل آگے بڑھ رہی ہے اور معاشرے کی ، سماجی، اخلاقی ، تہذیبی ، فکری اور روحانی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہی ہے ، پاکستانی عورت کی جنگ ایک ایسی سوچ سے ہے جو عورت کی خودمختاری ، خوبصورتی ،وقار اور وجود کی منکر اور دشمن ہے ، کامیاب عورت کے راستے میں گڑھے کھودنے پر مامور ہے، عموماََ جب مرد لڑتے ہیں تو ایک دوسرے کی جان لینے کی کوشش کرتے ہیں مگر اگر ایک فریق عورت ہو تو اس سے دشمنی میں اس کے چہرے پر تیزاب پھینک کر اسکی خوبصورتی پر وار کیا جاتا ہے۔ عورت کی فطری قابلیت کو جھٹلانے اور اسے کمتر ثابت کرنےکیلئے جنس کو بنیاد بنایا جانا بہت شرمناک رویہ ہے ۔ مختلف شعبوں میں خدمات سر انجام دینے والی اعلیٰ تعلیم یافتہ افسر ، استاد ،ڈاکٹر ،پائلٹ ، سائنس دان اور زیرک سیاست سے مخالفت میں اسکی صلاحیتوں اور خوبیوں خامیوں کا موازنہ کرنے کی بجائے جنس کو ہتھیار بنا کر اسے تضحیک کا نشانہ بنانے کی رسم عام ہے۔ اکثر ماں ، بہن اور بیٹی کے رشتوں کے حوالے سے کی جانے والی تقدس اور احترام بھری تعریف عورت کی جداگانہ شناخت ،فکری اہلیت ،بطور فرد سماجی آزادی اور معاشی خودمختاری کو تسلیم نہ کرنا اور رشتوں کی رسی میں باندھ کر احساس دلانا کہ اس کاوجود اور زندگی کے تمام فیصلے مرد کے مرہونِ منت ہیں۔معاشرے کی تعمیر و ترقی کیلئے ایسی حقیقی مساوات ضروری ہے جس میں عورت مرد کی طرح مکمل انسان اور صاحب شعور و فکر و اختیار مساوی شہری ہو، ہمارے قوانین میں سب کچھ موجود ہے صرف رویوں میں تبدیلی اور اصلاح کی ضرورت ہے۔ اور اس کیلئے تعلیمی اداروں کے نصاب سے میڈیا تک عورت کی حقیقی شناخت کا فروغ مقصد کی طرح شامل کرنا ہو گا۔ جس طرح مرد کوصاحب فکر فرد تسلیم کرکے ذمہ داریاں سونپی جاتیں اور صلاحیتوں کے اظہار کا موقع دیا جاتا ہے عورتوں کو بھی معاشرتی ڈھانچے میں یہی مقام دیا جائے تو وہ اپنی فطرت کے اخلاص اور مادرانہ جذبات کی بنا پر سماج کو خوبصورت اور ترقی یافتہ بنانے میں بھرپور کردار ادا کرئیگی۔آج بھی پاکستانی معاشرے میں عورتوں کی بڑی تعداد تعلیم ، معاشی جبر ، صنفی امتیاز اور سماجی بندشوں کا شکا رہے۔ اُن سب کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے یاد رکھنے کی بات یہ ہےکہ جب عورت کو تعلیم اور صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع دیے جاتے ہیں تو وہ ایسی پر اعتماد اور مضبوط ہوتی ہے کہ خاندان اور ملک کو ترقی کی جانب سفر میں معاونت کرتی ہے۔پنجاب نے صدیوں بعد عورت کو سربراہ کے طور پر دیکھا ہے ، ضروری ہے کہ مارچ میں مہینے میں سرکاری سطح پر عورت کانفرنس کروائی جائے اور مختلف شعبوں میں عورتوں کی کاوشوں کو سراہا جائے۔