امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی ایران میں گرلز ایلیمنٹری اسکول پر ہونے والے مہلک حملے میں امریکا کے ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے اس کا ذمے دار ایران کو قرار دے دیا۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس حملے میں شامل نہیں تھا۔
انہوں نے بغیر کسی ثبوت کے کہا کہ میرے خیال میں اور جو میں نے دیکھا ہے اس کے مطابق یہ حملہ ایران نے ہی کیا ہے۔
اس موقع پر امریکی وزیرِ دفاع بھی موجود تھے، جنہوں نے کہا کہ حکومت ابھی اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عام شہریوں کو نشانہ بنانے والا واحد فریق ایران ہے۔
وزیر دفاع کے بیان کے بعد صدر ٹرمپ نے دوبارہ زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ ایران کی جانب سے ہی کیا گیا تھا۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب امریکا، ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی پہلے ہی انتہائی سطح پر ہے، جس کے باعث خطے میں صورتِ حال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق 28 فروری کو ہونے والے اس حملے میں 165 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔