بھارتی ریاست کیرالہ کی ہائی کورٹ نے کمبھ کے میلے سے شہرت حاصل کرنے والی مونالیزا بھوسلے اور ان کے شوہر محمد فرمان خان کی عبوری ضمانت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا جسے 4 جون کو سنائے جانے کا امکان ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ جوڑے کو مبینہ دھمکیوں کے پیشِ نظر اس بات پر خوش قسمت سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ کیرالہ میں موجود ہیں، اس پر جوڑے کے وکیل نے کہا کہ ’ہم زندہ بھی اسی وجہ سے ہیں۔‘
واضح رہے کہ مونالیزا بھوسلے کو 2025ء میں کمبھ کے میلے سے ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد شہرت حاصل ہوئی تھی، سوشل میڈیا پر ان کی آنکھوں کی خوبصورتی کو بے حد سراہا گیا تھا، رواں سال مونالیزا نے کیرالہ میں محمد فرمان خان سے پسند کی شادی کر لی تھی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق شادی کے بعد مونالیزا کی عمر کے حوالے سے تنازع کھڑا ہو گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ شادی کے وقت وہ قانونی عمر تک نہیں پہنچی تھیں۔
جوڑے کے وکیل کا مؤقف ہے کہ مونالیزا بالغ تھیں اور بعض حلقے شادی کو کالعدم قرار دلوانے کے لیے سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل کا تاثر دے رہے ہیں۔
دوسری جانب ریاست مدھیہ پردیش کی حکومت نے بھی عدالت کو بتایا کہ مونالیزا کی تاریخِ پیدائش دسمبر 2009ء ہے جس کے مطابق وہ شادی کے وقت نابالغ تھیں۔
حکومت نے یہ بھی کہا کہ مقدمے میں جعلسازی کی دفعات شامل کی جا سکتی ہیں کیونکہ مبینہ طور پر جعلی دستاویزات استعمال کی گئیں۔
عدالت نے دورانِ سماعت یہ سوال بھی اٹھایا کہ مبینہ متاثرہ خاتون نے خود اپنے شوہر کے خلاف کوئی شکایت درج نہیں کروائی اور نہ کسی پریشانی کا اظہار کیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ مقدمہ بین المذاہب شادی، عمر کے تعین، شخصی آزادی اور فوجداری الزامات جیسے اہم قانونی نکات کی وجہ سے بھارت بھر میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔