ایران نے ایرانی ٹینکر اور جزیرہ قشم میں حالیہ امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کارروائیوں میں کویت اور بحرین نے بالواسطہ طور پر کردار ادا کیا، جس کے باعث دونوں ممالک براہِ راست ذمے دار ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی حملے جنگ بندی کی مفاہمت، بین الاقوامی قوانین اور ریاستی خودمختاری کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔
تہران کا کہنا ہے کہ کویت اور بحرین کی سر زمین اور وہاں موجود سہولتوں کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا گیا، جس کی وجہ سے دونوں ممالک اس معاملے میں براہِ راست اور واضح ذمے داری سے بری نہیں ہو سکتے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایسے حملوں کی اجازت دینے پر کویت اور بحرین کی قیادت براہِ راست ذمے دار ہیں، ایران کے خلاف امریکا کو حملوں کے لیے فضائی حدود یا زمین دینے والے ممالک کے خلاف دفاع کا حق رکھتے ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ایران کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے اور وہ مستقبل میں ہونے والی کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرے گا۔
بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ایران پر مزید حملے کیے گئے تو تہران ناصرف حملے کرنے والوں بلکہ ان ذرائع اور مقامات کو بھی نشانہ بنانے کا حق محفوظ رکھتا ہے جہاں سے ایسی کارروائیاں کی جائیں گی۔